چین میں جنگلی حیات کے تحفظ کے لیے اسمارٹ ٹیکنالوجی کا انقلابی استعمال

جمعرات 21 مئی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

چین کے جنوب مغربی صوبے یونان اور ’قینغہائی تبت سطح مرتفع‘ میں جنگلی حیات کے تحفظ کا روایتی طریقہ اب تیزی سے جدید اسمارٹ ٹیکنالوجی میں تبدیل ہو رہا ہے، جہاں سیٹلائٹ، ڈرونز اور مصنوعی ذہانت (اے آئی) پر مبنی نظام جانوروں کی نگرانی اور تحفظ میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:امام ترکی رائل نیچر ریزرو میں جنگلی حیات کی شاندار افزائش، 90 سے زائد نئے جانور پیدائش

یونان میں ایشیائی ہاتھیوں کی نگرانی اب بی ڈو سیٹلائٹ پوزیشننگ کالرز کے ذریعے کی جا رہی ہے، جو ان کے گلے میں نصب کیے جاتے ہیں۔ ان جدید آلات کی مدد سے ماہرین ہاتھیوں کی روزمرہ سرگرمیوں، نقل و حرکت اور موسمی رویوں کا درست اندازہ لگا سکتے ہیں۔ اس ٹیکنالوجی کی بدولت جنگلات میں ان بڑے جانوروں کی سرگرمیوں کو بغیر کسی خلل کے ’خاموش نگرانی‘ کے ساتھ سمجھا جا رہا ہے۔

ماہرین کے مطابق ہاتھیوں کی سرگرمیوں میں صبح سویرے اور شام کے وقت اضافہ دیکھا جاتا ہے، جبکہ رات کے اوقات میں ان کی نقل و حرکت نسبتاً زیادہ ہوتی ہے۔ یہ ڈیٹا تحقیق اور تحفظ دونوں کے لیے انتہائی اہم ثابت ہو رہا ہے۔

چین کے مختلف خطوں میں ڈرونز، سیٹلائٹ ڈیٹا اور اے آئی بیسڈ مانیٹرنگ سسٹمز نے روایتی فیلڈ سروے کے مقابلے میں زیادہ مؤثر اور مسلسل نگرانی کو ممکن بنا دیا ہے۔ اس سے نہ صرف جانوروں کی سرگرمیوں کی تفصیلی معلومات حاصل ہو رہی ہیں بلکہ انسانی مداخلت کو بھی کم کیا جا رہا ہے۔

یونان میں ماہرین کے مطابق ہاتھیوں کی آبادی 300 سے زائد ہے جو 40 کے قریب دیہات اور علاقوں میں پھیلی ہوئی ہے۔ جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے ان کے رویوں، موسمی تبدیلیوں اور ہجرت کے پیٹرن کو سائنسی بنیادوں پر سمجھا جا رہا ہے۔

ادھر قینغہائی اور قلیان پہاڑی سلسلے میں بھی جنگلی حیات کی نگرانی کے لیے جدید نظام متعارف کرایا گیا ہے، جہاں ڈرونز، نائٹ ویژن کیمرے، 5G ریکارڈرز اور سیٹلائٹ فونز کے ذریعے دور دراز علاقوں کی مسلسل نگرانی کی جا رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:ہنگول نیشنل پارک میں نایاب ‘پرشین تیندوا’ دیکھا گیا، جنگلی حیات کے تحفظ کے لیے بڑی پیشرفت

حکام کے مطابق پہلے جہاں فیلڈ گشت میں کئی ہفتے لگ جاتے تھے، اب جدید ٹیکنالوجی کی بدولت یہی کام چند گھنٹوں میں مکمل ہو جاتا ہے۔ اس تبدیلی نے نہ صرف کارکردگی بڑھائی ہے بلکہ ریسکیو آپریشنز کو بھی زیادہ مؤثر بنا دیا ہے۔

چین میں ریموٹ سینسنگ اور اسپیس گراؤنڈ انٹیگریٹڈ سسٹمز جیسے جدید ذرائع جنگلی حیات کے تحفظ میں تیزی سے اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔

ماہرین کے مطابق یہ تمام اقدامات اس بات کی علامت ہیں کہ ٹیکنالوجی اور فطرت کا امتزاج نہ صرف تحفظ کو بہتر بنا رہا ہے بلکہ انسان اور جنگلی حیات کے درمیان ہم آہنگی کو بھی فروغ دے رہا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

پاکستان کی اسرائیلی فورسز کی جانب سے گلوبل صمود فلوٹیلا کی روک تھام کی شدید مذمت، عالمی قوانین کی خلاف ورزی قرار

 وفاقی آئینی عدالت میں درخواست دائر، علی امین گنڈاپور کی بطور وزیراعلیٰ بحالی کی استدعا

امریکی صدر سے حیران کن مشابہت، ’ڈونلڈ ٹرمپ‘ نامی بھینسا سوشل میڈیا اسٹار بن گیا

نوجوان پنجابی گلوکارہ کو اغوا کے بعد قتل کیوں کیا گیا؟ لرزہ خیز وجوہات سامنے آگئیں

29 سال سے قید سزائے موت کے مجرم کی اپیل خارج، نظرثانی درخواست گم ہونے کا انکشاف

ویڈیو

دہشتگردی کے خلاف جنگ پوری قومی قوت اور غیر متزلزل عزم کے ساتھ جاری رکھی جائے گی، فیلڈ مارشل عاصم منیر

پشاور کی مویشی منڈی: جانور اور قیمتیں زیادہ، خریدار پریشان

مسئلہ کشمیر مہاجرین کی وجہ سے زندہ، پیپلز پارٹی اور ایکشن کمیٹی الیکشن ملتوی کرانے کے لیے ایک پیج پر ہیں، احمد رضا قادری

کالم / تجزیہ

عورت اور مرد کی کشمکش

کامیابی کی سب سے بڑی غلط فہمی

سندھ طاس: ثالثی عدالت کے فیصلے کے بعد کیا ہو گا؟