کیتھولک چرچ کے سربراہ پوپ لیو چہاردہم نے مصنوعی ذہانت کی تیز رفتار ترقی پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر اس ٹیکنالوجی کو مؤثر اخلاقی اور سیاسی حدود میں نہ رکھا گیا تو یہ انسانیت کے لیے سنگین خطرات پیدا کر سکتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: جنگوں میں اے آئی کا استعمال، پوپ لیو مذمتی مکتوب ;انسائیکلیکل جاری کریں گے
اپنے نئے منشور ’میگنیفیکا ہیومینیٹاس‘ (انسانی عظمت) میں پوپ لیو نے عالمی برادری سے مصنوعی ذہانت کو فوری طور پر ’غیر مسلح‘ کرنے کا مطالبہ کیا تاکہ یہ ٹیکنالوجی بے قابو ہو کر انسانی اختیار اور وقار کو نقصان نہ پہنچا سکے۔
انہوں نے کہا کہ دنیا اس وقت زیادہ طاقتور الگورتھمز اور وسیع ڈیٹا اکٹھا کرنے کی دوڑ میں شامل ہے جس کا مقصد اکثر انسانی بھلائی کے بجائے جغرافیائی سیاسی یا تجارتی برتری حاصل کرنا ہوتا ہے۔
مزید پڑھیے: پوپ لیو کے سفید اسنیکرز نے انٹرنیٹ پر دھوم مچا دی، سوشل میڈیا پر میمز کا سیلاب
پوپ لیو نے خبردار کیا کہ اگر اے آئی کے لیے واضح اخلاقی اصول اور سیاسی نگرانی نہ اپنائی گئی تو یہ نظام عالمی عدم مساوات کو مزید بڑھا سکتے ہیں اور تنازعات کو ہوا دے سکتے ہیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ مصنوعی ذہانت کو غیر مسلح کرنے کا مطلب ٹیکنالوجی کو مسترد کرنا نہیں بلکہ اسے انسانیت پر حاوی ہونے سے روکنا ہے۔
پوپ نے عسکری مقاصد کے لیے اے آئی کے استعمال کی بھی سخت مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ کوئی الگورتھم جنگ کو اخلاقی طور پر قابلِ قبول نہیں بنا سکتا اور جان لیوا فیصلے مشینوں کے سپرد کرنا ناقابل قبول ہے۔
مزید پڑھیں: مجھ پر تنقید کرنے والوں کو سچ بولنا چاہیے، پوپ لیو کی جوہری ہتھیاروں کی حمایت کے الزام کی تردید
انہوں نے زور دیا کہ ٹیکنالوجی کو انسانی وقار، آزادی اور اجتماعی بھلائی کے تابع رہنا چاہیے نہ کہ ایسا ذریعہ بننا چاہیے جو انسانی فیصلوں اور اختیار کی جگہ لے لے۔













