پرنس رحیم آغا خان کا پہلا سرکاری دورۂ پاکستان مکمل، خیرسگالی اور یکجہتی کا پیغام

جمعرات 28 مئی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

حکومتِ پاکستان کی دعوت پر پرنس رحیم آغا خان نے منگل کے روز پاکستان کا 7 روزہ سرکاری دورہ مکمل کر لیا ہے۔

دورے کے دوران انہوں نے اسلام آباد، گلگت بلتستان اور چترال کا دورہ کیا اور اسماعیلی برادری کے افراد سمیت وفاقی اور صوبائی حکام سے ملاقاتیں کیں۔

پاکستان آمد پر نور خان ایئربیس پر صدر آصف زرداری اور خاتونِ اول آصفہ بھٹو زرداری نے ان کا استقبال کیا، جس کے بعد وہ ایوانِ صدر گئے جہاں انہیں گارڈ آف آنر پیش کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں: تعلیم، برداشت اور اخلاقی رویوں سے انسانیت کی خدمت کی جائے، پرنس رحیم آغا خان کا  گلگت میں خطاب

صدر آصف علی زرداری نے ان کے اعزاز میں سرکاری ضیافت کا اہتمام بھی کیا، جس میں وزیراعظم شہباز شریف، نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار، چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید

عاصم منیر، وفاقی وزرا، ارکانِ پارلیمنٹ اور سفارتی برادری کے نمائندوں نے شرکت کی۔

پرنس رحیم آغا خان نے صدر آصف علی زرداری سے دوطرفہ ملاقات بھی کی، جس میں انہوں نے آغا خان ڈیولپمنٹ نیٹ ورک کی جانب سے پاکستان میں ترقیاتی اور انسانی ہمدردی کے منصوبوں میں

تعاون جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔

بعد ازاں وزیراعظم شہباز شریف نے ان کے اعزاز میں ناشتے کا اہتمام کیا اور امن، استحکام اور ترقی کے لیے ان کی خدمات کو سراہا، وزیراعظم نے مرحوم پرنس کریم آغا خان چہارم کی خدمات کے

اعتراف میں پاکستان پوسٹ کی جانب سے جاری کردہ یادگاری ڈاک ٹکٹ بھی انہیں پیش کیا۔

22 مئی کو پرنس رحیم آغا خان گلگت بلتستان پہنچے جہاں گورنر گلگت بلتستان اور اعلیٰ سول و عسکری حکام نے ان کا استقبال کیا، 3 روزہ قیام کے دوران انہوں نے پاسو، گلگت، گاہکوچ بالا اور

تاؤس میں اسماعیلی برادری کے اجتماعات سے خطاب اور ملاقاتیں کیں۔

مزید پڑھیں: وزیرِ اعظم شہباز شریف اور پرنس رحیم آغا خان کی ملاقات، آغا خان ڈویلپمنٹ نیٹ ورک کو وسعت دینے پر زور

انہوں نے اتحاد، زندگی بھر تعلیم حاصل کرنے خصوصاً بچیوں کی تعلیم، پُرامن بقائے باہمی اور پیشہ ورانہ و سماجی زندگی میں اخلاقی اقدار کی اہمیت پر زور دیا۔

انہوں نے کہا کہ اسماعیلی عقیدہ توحید کے تصور پر قائم ہے، حضرت محمد ﷺ اللہ کے آخری رسول ہیں اور صراطِ مستقیم پر ثابت قدم رہنا انتہائی ضروری ہے۔

خیبر پختونخوا کے علاقے چترال میں پرنس رحیم آغا خان کا استقبال گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی، وزیراعلیٰ سہیل آفریدی، ڈپٹی اسپیکر ثریا بی بی اور دیگر اعلیٰ حکام نے کیا۔

مزید پڑھیں: پرنس رحیم آغا خان کا ہنزہ کا دورہ، سولر پاور پلانٹ منصوبے کا افتتاح

گورنر اور وزیراعلیٰ سے ملاقاتوں کے دوران صوبے میں ترقیاتی تعاون اور باہمی اشتراک کے مواقع پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس موقع پر انہوں نے پروک اور گرم چشمہ میں اسماعیلی برادری سے بھی

ملاقاتیں کیں۔

دورے کے اختتام پر وفاقی وزیر طارق فضل چوہدری اور اسماعیلی برادری کے رہنماؤں نے ایئرپورٹ پر انہیں الوداع کیا۔

یہ پرنس رحیم آغا خان کا شیعہ اسماعیلی مسلم کمیونٹی کے 50ویں امام کی حیثیت سے ذمہ داریاں سنبھالنے کے بعد پاکستان کا پہلا سرکاری دورہ تھا، جس نے پاکستان اور اسماعیلی امامت کے درمیان دیرینہ اور مضبوط تعلقات کو مزید مستحکم کیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp