ایران امریکا کشیدگی میں نرمی کی امید، خام تیل کی قیمتیں نیچے آگئیں

جمعرات 28 مئی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں جمعرات کی صبح ایشیائی ٹریڈنگ کے دوران نمایاں کمی دیکھی گئی، جب امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی میں ممکنہ کمی اور آبنائے ہرمز سے بحری

آمدورفت کے معمول پر آنے کی خبروں پرسرمایہ کار پر امید نظر آئے۔

ٹوکیو وقت کے مطابق صبح 7:09 بجے امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ خام تیل کی قیمت 5.21 ڈالر یا 5.55 فیصد کمی کے ساتھ 88.68 ڈالر فی بیرل رہی، جبکہ برینٹ کروڈ 5.29 ڈالر یا

5.31 فیصد کمی کے بعد 94.29 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ ہوا، متحدہ عرب امارات کا مرْبان کروڈ بھی 5.39 فیصد کمی کے ساتھ 89.93 ڈالر فی بیرل تک گر گیا۔

یہ بھی پڑھیں: بیجنگ سمٹ: خام تیل کی قیمتوں میں معمولی کمی، سرمایہ کاروں کا مثبت رجحان

تاہم قدرتی گیس کے فیوچرز نے عمومی رجحان کے برعکس اضافہ دکھایا اور 2.82 فیصد بڑھ کر 3.095 ڈالر تک پہنچ گئے۔

تیل کی عالمی قیمتوں میں یہ اچانک کمی اس وقت سامنے آئی جب رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا کہ ایران کے سرکاری میڈیا نے ایک ایسے مسودہ فریم ورک کا ذکر کیا ہے جس کے تحت آبنائے ہرمز کے

ذریعے تجارتی ٹریفک کو چند ہفتوں میں دوبارہ کھولا جا سکتا ہے۔

بعد ازاں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ امریکا آبنائے ہرمز کی نگرانی کرے گا تاہم واشنگٹن تہران کے ساتھ کسی معاہدے کو حتمی شکل دینے میں جلدی نہیں کرے گا۔

آبنائے ہرمز، جو خلیج فارس کو عالمی منڈیوں سے جوڑنے والا انتہائی اہم بحری راستہ ہے، کے ذریعے دنیا کے تقریباً پانچویں حصے کی تیل سپلائی گزرتی ہے۔

اس وجہ سے یہ خطہ عالمی توانائی منڈی کے لیے انتہائی حساس سمجھا جاتا ہے۔

مزید پڑھیں: کیا روس سے سستا خام تیل خرید کر پاکستان میں پیٹرول کی قیمت کم کی جا سکتی ہے؟

ایران تنازع کے آغاز کے بعد اس خطے میں شپنگ کی رکاوٹوں اور فوجی کشیدگی نے 1970 کی دہائی کے تیل بحران کے بعد سب سے زیادہ غیر مستحکم توانائی ٹریڈنگ کو جنم دیا۔

ماہرین کے مطابق حالیہ کمی کے باوجود توانائی مارکیٹ اب بھی غیر مستحکم ہے کیونکہ آبنائے ہرمز میں بحری ٹریفک اب بھی معمول سے بہت کم ہے۔

بین الاقوامی توانائی ایجنسی نے خبردار کیا ہے کہ آبنائے ہرمز سے معمول کی سپلائی کی بحالی عالمی توانائی قیمتوں اور مہنگائی کے رجحان کے لیے سب سے اہم عنصر ہے۔

مزید پڑھیں: آبنائے ہرمز کشیدگی سے خام تیل 105 ڈالر کا ہو گیا! کیا پاکستان میں پیٹرول پھر مہنگا ہونے والا ہے؟

ادارے کے مطابق تنازع کے دوران اس راستے سے تیل اور ایندھن کی ترسیل 20 ملین بیرل یومیہ سے کم ہو کر انتہائی کم سطح تک پہنچ گئی تھی۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ حالیہ گراوٹ میں سرمایہ کاروں کی جانب سے منافع کی وصولی بھی شامل ہے، کیونکہ چند ہفتے قبل تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے بھی اوپر جا چکی تھیں۔

توانائی تجزیہ کاروں کے مطابق اب مارکیٹ میں ایک طرف سفارتی پیش رفت کی امیدیں ہیں جبکہ دوسری جانب سپلائی، ذخائر اور جغرافیائی سیاسی خطرات کے خدشات بھی برقرار ہیں۔

مزید پڑھیں: امریکا ایران کشیدگی: ڈونلڈ ٹرمپ خود ہی اپنے فیصلوں کو سراہنے لگے، اوباما اور بائیڈن کے ادوار سے موازنہ

امریکی انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن نے پیش گوئی کی ہے کہ 2026 کی دوسری سہ ماہی میں برینٹ خام تیل اوسطاً 106 ڈالر فی بیرل تک جا سکتا ہے، تاہم بعد میں سپلائی بہتر ہونے کی

صورت میں قیمتوں میں کمی ممکن ہے۔

جاپان، جنوبی کوریا، چین اور بھارت جیسے بڑے ایشیائی خریداروں کے لیے یہ صورتحال خاص طور پر اہم ہے کیونکہ ان کی زیادہ تر تیل درآمدات آبنائے ہرمز کے ذریعے گزرتی ہیں۔

جاپانی ریفائنرز نے پہلے ہی ممکنہ رکاوٹوں کے پیش نظر ہنگامی تیل ذخائر جاری کرنے کی تیاری پر زور دیا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp