بھارت اور بنگلہ دیش کی سرحد پر کشیدگی، سینکڑوں افراد ہولڈنگ سینٹرز میں منتقل

جمعرات 28 مئی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

بھارت کے مغربی بنگال میں بنگلہ دیش کی سرحد کے قریب جمع ہونے والے سینکڑوں بنگلہ دیشی شہریوں کو بھارتی حکام نے عارضی مراکز میں منتقل کر دیا ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق جہاں ان کی شناختی تصدیق اور وطن واپسی کے عمل کا آغاز کیا جا رہا ہے۔

بھارتی پولیس اور بارڈر سیکیورٹی فورس نے 100 سے زائد بنگلہ دیشی شہریوں کو شمالی 24 پرگنہ ضلع کے باسیرہاٹ سب ڈویژن میں واقع 3 مختلف عارضی مراکز میں

رکھا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: بنگلہ دیش میں جمنا پل کے قریب ٹرک الٹنے سے 15 افراد ہلاک

حکام کے مطابق ان کے شناختی دستاویزات کی جانچ کا عمل شروع کر دیا گیا ہے جبکہ اس حوالے سے بنگلہ دیش بارڈر گارڈ کے ساتھ ابتدائی بات چیت بھی ہوئی ہے۔

یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی ہے جب مغربی بنگال میں نئی منتخب بی جے پی حکومت کی جانب سے غیر قانونی امیگریشن کے خلاف سخت کارروائی شروع کی گئی ہے۔

گزشتہ 2 دنوں کے دوران بڑی تعداد میں بنگلہ دیشی شہری حکیم پور سرحدی علاقے کے قریب جمع ہوئے اور بنگلہ دیش واپس جانے کی کوشش کرتے رہے۔

مزید پڑھیں:

حکام کے مطابق تقریباً 110 افراد کو سواروپن نگر کے علاقے تتولیا میں واقع سرکاری گیسٹ ہاؤس میں ابتدائی پولیس جانچ کے بعد رکھا گیا ہے۔

تاہم قانونی کارروائی مکمل نہ ہونے اور بی ایس ایف کی اجازت نہ ملنے کے باعث انہیں عارضی طور پر سخت سیکیورٹی میں وہاں رکھا گیا ہے۔

اسی طرح 100 سے زائد افراد کو سرحد کے قریب ایک پرائمری اسکول میں رکھا گیا ہے جبکہ مزید 170 افراد علاقے میں تعمیر شدہ 2 گھروں میں موجود ہیں۔

مزید پڑھیں: بچوں کے خلاف جرائم پر بنگلہ دیش میں تشویش، حکومت کا سخت کارروائی اور فوری انصاف کا اعلان

رپورٹس کے مطابق مزید غیر دستاویزی بنگلہ دیشی افراد بسوں، ٹرینوں اور کرائے کی گاڑیوں کے ذریعے بدھ کی دوپہر تک سرحد پر پہنچتے رہے۔

انتظامی حکام نے بتایا کہ زیر حراست افراد کی دستاویزات اور ذاتی معلومات کی جانچ پڑتال کی جا رہی ہے، یہ بھی دیکھا جا رہا ہے کہ آیا ان کے خلاف کوئی فوجداری مقدمات تو درج نہیں۔

اگر ان کی بنگلہ دیشی شہریت ثابت ہو جاتی ہے تو انہیں باضابطہ فلیگ میٹنگ کے ذریعے بارڈر گارڈ بنگلہ دیش کے حوالے کیا جائے گا۔

مزید پڑھیں: گنگا واٹر شیئرنگ معاہدے کے مستقبل پر بنگلہ دیش اور بھارت کی خاموشی، جے آر سی اجلاس ختم

کئی افراد نے مبینہ طور پر حکام کو بتایا کہ وہ مختلف اوقات میں ایجنٹوں کی مدد سے غیر قانونی طور پر بھارت میں داخل ہوئے تھے اوربعد میں کولکتہ سمیت دیگر شہروں اور کیرالہ میں رہائش اختیار

کر لی تھی۔

کچھ نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ انہوں نے مقامی ایجنٹوں کی مدد سے بھارتی شناختی دستاویزات حاصل کر لی تھیں۔

یہ معاملہ ایک بار پھر بھارت اور بنگلہ دیش کی سرحدی پٹی میں غیر قانونی ہجرت اور دستاویزاتی نیٹ ورکس کے مسئلے کو نمایاں کر رہا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp