دنیا بھر میں دہائیوں سے یو ایف اوز یعنی ’نامعلوم فضائی مظاہر‘ لوگوں کی دلچسپی کا مرکز رہے ہیں لیکن گزشتہ 2 برسوں میں یہ موضوع ایک بار پھر عالمی بحث بن گیا تھا۔ خاص طور پر اس وقت جب امریکی محکمۂ دفاع یعنی پینٹاگون نے متعدد خفیہ فائلز، ویڈیوز اور رپورٹس عوام کے لیے جاری کیں۔
یہ بھی پڑھیں: پینٹاگون نے 80 برس پرانے راز افشا کردیے، اڑن طشتریوں سے متعلق خفیہ فائلیں بالاخر جاری
ان فائلز کے بعد ایک طرف لوگوں میں سنسنی پھیل گئی تو دوسری طرف حکومت، سائنس دانوں، سابق فوجی اہلکاروں اور یو ایف او محققین کے درمیان نئی بحث شروع ہوگئی۔
پینٹاگون نے فائلز کب جاری کیں؟
سنہ 2024 میں پینٹاگون کے ’آل ڈومین اینوملی ریزولوشن آفس‘ نے ایک اہم رپورٹ جاری کی۔ اس رپورٹ میں کہا گیا کہ اب تک ایسا کوئی قابل تصدیق ثبوت نہیں ملا جس سے یہ ثابت ہو کہ زمین پر دیکھی جانے والی نامعلوم چیزیں خلائی مخلوق کی ٹیکنالوجی تھیں۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ امریکی حکومت کے پاس کسی ’ایلین جہاز‘ یا ’غیر انسانی مخلوق‘ کو چھپانے کا کوئی ثبوت موجود نہیں۔
مزید پڑھیے: امریکا نے اڑن طشتریوں سے متعلق خفیہ فائلوں کی دوسری کھیپ جاری کردی، کیا انکشاف سامنے آیا؟
اس رپورٹ کے بعد بھی بحث ختم نہ ہوئی بلکہ اور زیادہ بڑھ گئی کیونکہ بہت سے لوگوں کا کہنا تھا کہ حکومت پوری حقیقت نہیں بتا رہی۔
پھر رواں مہینے پینٹاگون نے مزید فائلز اور ویڈیوز جاری کرنا شروع کیں۔ مئی 2026 میں پہلی بڑی ریلیز کے دوران 162 فائلز جاری کی گئیں، جن میں فوجی ویڈیوز، پائلٹس کی رپورٹس، ناسا سے متعلق دستاویزات اور کئی دہائیوں پرانے مشاہدات شامل تھے۔ اس کے بعد مزید پچاس ویڈیوز اور دستاویزات جاری کی گئیں جن میں بعض فوجی اور شہری گواہوں کی شہادتیں بھی شامل تھیں۔ رپورٹس کے مطابق ان فائلز کو دیکھنے کے لیے سرکاری ویب سائٹ پر اربوں مرتبہ وزٹ کیا گیا۔
فائلز میں کیا تھا؟
ان فائلز میں مختلف اوقات کی ویڈیوز شامل تھیں جن میں بعض تیز رفتار روشن اشیا، عجیب پروازیں اور ایسے مناظر دکھائے گئے جن کی فوری وضاحت ممکن نہ ہوسکی۔ کچھ ویڈیوز مشرقِ وسطیٰ، ایران اور شام کے اوپر ریکارڈ کی گئی تھیں۔
ایک ویڈیو میں کئی روشن اشیا ایک ساتھ حرکت کرتی دکھائی دیں جبکہ دوسری ویڈیو میں ایک لمبی سگار نما چیز بہت تیزی سے حرکت کرتی نظر آئی۔
مزید پڑھیں: نیویارک: آسمان میں پراسرار اشیا کی نقل و حرکت، کیا یہ خلائی مخلوق کی کارستانی ہے؟
تاہم پینٹاگون نے بار بار یہی کہا کہ ’نامعلوم‘ ہونے کا مطلب ’خلائی مخلوق‘ نہیں ہوتا۔ ان کے مطابق بہت سے واقعات کی وضاحت ڈرونز، موسمی غباروں، سینسر کی غلطیوں یا انسانی غلط فہمیوں سے ہوسکتی ہے۔
پھر تنازعہ کیوں ختم نہیں ہوا؟
اصل تنازعہ اس وقت مزید بڑھا جب سابق امریکی انٹیلیجنس افسر ڈیوڈ گروش منظرِ عام پر آئے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکی حکومت برسوں سے ایک خفیہ پروگرام چلا رہی ہے جس میں ’غیر انسانی ٹیکنالوجی‘ اور تباہ شدہ جہازوں کا مطالعہ کیا جاتا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیے: کیا ہم اگلی دہائی میں خلائی مخلوق کا سراغ پا لیں گے؟
ڈیوڈ گروش نے امریکی کانگریس میں حلف کے تحت بیان دیا کہ بعض حساس پروگرام عوام اور کانگریس دونوں سے خفیہ رکھے گئے۔ ان کے انکشافات نے پوری دنیا میں ہلچل مچا دی۔
لیکن پینٹاگون نے ان دعوؤں کو مسترد کردیا۔ پینٹاگون کے مطابق ان کے تحقیقاتی دفتر کو ایسا کوئی قابل تصدیق ثبوت نہیں ملا جس سے گروش کے دعوے ثابت ہوتے ہوں۔
حکومت پر تنقید کرنے والے کیا کہتے ہیں؟
یو ایف او موضوع پر کام کرنے والے بعض محققین، صحافیوں اور سابق فوجی افسران کا کہنا ہے کہ حکومت پوری معلومات سامنے نہیں لارہی۔
ان کے مطابق کچھ ویڈیوز اور رپورٹس اب بھی خفیہ رکھی گئی ہیں۔
مزید پڑھیں: ایلون مسک نے خلائی مخلوق کے وجود کے حوالے سے اپنی رائے بتادی
کئی فوجی پائلٹس نے ایسی چیزیں دیکھنے کا دعویٰ کیا جن کی رفتار اور حرکت عام ٹیکنالوجی جیسی نہیں تھی۔
بعض گواہوں کا کہنا ہے کہ انہیں خاموش رہنے کے لیے دباؤ کا سامنا کرنا پڑا۔
کچھ سیاست دان بھی پینٹاگون سے زیادہ شفافیت کا مطالبہ کرچکے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: تباہ شدہ یو ایف اوز سے 4 مختلف خلائی مخلوقات ملیں، سابق سی آئی اے محقق کادعویٰ
بعض ناقدین کا یہ بھی کہنا ہے کہ حکومت ممکنہ طور پر خفیہ فوجی ٹیکنالوجی چھپانے کے لیے ’یو ایف او‘ بحث کو مبہم رکھتی ہے۔
سائنس دان کیا کہتے ہیں؟
زیادہ تر سائنس دان اب بھی محتاط رویہ رکھتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ دلچسپ ویڈیوز یا گواہوں کے بیانات اپنی جگہ لیکن غیر معمولی دعوؤں کے لیے غیر معمولی ثبوت ضروری ہوتے ہیں۔
کئی ماہرین فلکیات نے کہا کہ اب تک ایسا کوئی واضح ثبوت سامنے نہیں آیا جسے پوری سائنسی دنیا ’خلائی مخلوق‘ کا ثبوت مان لے۔
بعض سائنس دانوں نے کہا کہ بہت سی ویڈیوز کی عام سائنسی وضاحت ممکن ہوسکتی ہے۔
دوسری طرف کچھ ماہرین یہ بھی کہتے ہیں کہ چند واقعات واقعی اتنے عجیب ہیں کہ انہیں مکمل طور پر نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔
عوام اب کس بات پر تقسیم ہیں؟
اس وقت دنیا میں یو ایف اوز کے معاملے پر 3 بڑے نظریات پائے جاتے ہیں۔
پہلا نظریہ یہ ہے کہ یہ سب عام چیزیں ہیں جنہیں غلط سمجھ لیا جاتا ہے، جیسے ڈرونز، خفیہ فوجی ٹیکنالوجی یا موسمی مظاہر۔
مزید پڑھیے: سمندر کی گہرائیوں میں خلائی مخلوق کی حکمرانی، امریکی بحریہ کے سابق افسر کا حیران کن دعویٰ
دوسرا نظریہ یہ ہے کہ کچھ واقعات واقعی غیرمعمولی ہیں اور حکومت اصل حقیقت چھپا رہی ہے۔
جبکہ تیسرا اور محتاط نظریہ یہ ہے کہ ابھی ہمارے پاس ایسا ثبوت موجود نہیں کہ کسی حتمی نتیجے تک پہنچا جاسکے۔
کیا واقعی ’ایلین ثبوت‘ مل گیا؟
اس بات کا مختصر جواب یہ ہے: نہیں۔ اب تک نہ کوئی ایسا خلائی جہاز عوام کے سامنے پیش کیا گیا ہے جس کی آزادانہ سائنسی تصدیق ہوسکے اور نہ کسی ’غیر انسانی مخلوق‘ کا قابل تصدیق ثبوت سامنے آیا ہے۔ اسی وجہ سے مرکزی سائنسی ادارے اب بھی محتاط مؤقف رکھتے ہیں۔
تاہم یہ حقیقت بھی اپنی جگہ موجود ہے کہ امریکی حکومت نے پہلی بار اس موضوع کو سنجیدگی سے لینا شروع کیا ہے، کانگریس میں سماعتیں ہوچکی ہیں اور پینٹاگون خود تسلیم کرتا ہے کہ بعض فضائی مظاہر اب بھی ’نامعلوم‘ ہیں۔
شاید یہی وجہ ہے کہ یو ایف اوز کا معمہ آج بھی دنیا کے سب سے دلچسپ اور متنازع موضوعات میں شمار ہوتا ہے۔
’ٹک ٹیک‘ واقعہ آج بھی بحث کا مرکز
اگرچہ یو ایف اوز سے متعلق ہزاروں دعوے سامنے آچکے ہیں لیکن امریکی بحریہ کے ’ٹک ٹیک‘ واقعے کو آج بھی سب سے پراسرار کیسز میں شمار کیا جاتا ہے۔ یہ واقعہ سنہ 2004 میں پیش آیا تھا جب امریکی لڑاکا پائلٹس نے بحرالکاہل کے اوپر ایک سفید رنگ کی لمبوتری چیز دیکھی جو غیرمعمولی رفتار سے حرکت کررہی تھی۔
پائلٹس کے مطابق وہ چیز اچانک سمت بدلتی اور چند سیکنڈز میں نظروں سے غائب ہوجاتی تھی۔
مزید پڑھیں: جارج ڈبلیو بش اور خلائی مخلوق کا قصہ، نئے انکشافات سامنے آگئے
اس واقعے کی ویڈیوز بعد میں منظر عام پر آئیں اور امریکی بحریہ نے ان کی اصلیت کی تصدیق بھی کی۔ یہی وہ واقعات تھے جن کے بعد امریکی حکومت پر دباؤ بڑھا کہ وہ یو ایف اوز سے متعلق معلومات عوام کے سامنے لائے۔
ناسا نے کیا کہا؟
امریکی خلائی ادارے ناسا نے بھی حالیہ برسوں میں یو ایف اوز یا ’نامعلوم فضائی مظاہر‘ کے معاملے پر خصوصی تحقیقاتی ٹیم قائم کی۔
ناسا کے ماہرین نے کہا کہ اگرچہ بعض واقعات دلچسپ اور پراسرار ہیں لیکن اب تک ایسا کوئی سائنسی ثبوت سامنے نہیں آیا جو خلائی مخلوق کی موجودگی ثابت کرے۔
تاہم ناسا نے اس بات پر زور دیا کہ ان واقعات کو سنجیدگی سے سائنسی انداز میں جانچنا ضروری ہے کیونکہ بعض فضائی مظاہر فضائی سلامتی کے لیے بھی اہم ہوسکتے ہیں۔
سوشل میڈیا نے بحث کو مزید بڑھا دیا
پینٹاگون کی فائلز جاری ہونے کے بعد سوشل میڈیا پر یو ایف اوز ایک بار پھر ٹرینڈ بن گئے۔ لاکھوں لوگوں نے ویڈیوز، تبصرے اور سازشی نظریات شیئر کیے۔ بعض صارفین نے دعویٰ کیا کہ حکومت ’آہستہ آہستہ سچ سامنے لارہی ہے‘ جبکہ دوسروں نے اسے محض عوامی توجہ حاصل کرنے کا ذریعہ قرار دیا۔
کچھ ماہرین کے مطابق سوشل میڈیا نے اس موضوع کو مزید پیچیدہ بنادیا ہے کیونکہ حقیقی معلومات، افواہیں اور جعلی ویڈیوز ایک ساتھ پھیلتی رہتی ہیں جس سے عام لوگوں کے لیے حقیقت اور افسانے میں فرق کرنا مشکل ہوجاتا ہے۔
امریکی کانگریس میں غیرمعمولی دلچسپی
حالیہ برسوں میں امریکی کانگریس میں بھی یو ایف اوز کے معاملے پر کئی سماعتیں ہوچکی ہیں۔ بعض ارکانِ کانگریس نے کھلے عام کہا کہ اگر واقعی کچھ غیرمعمولی چیزیں امریکی فضائی حدود میں داخل ہورہی ہیں تو عوام کو اس بارے میں آگاہ کیا جانا چاہیے۔
مزید پڑھیں: اڑن طشتری والی مخلوق کا تعلق کس سیارے سے ہے، انوکھا نقطہ نظر
اسی دباؤ کے نتیجے میں پینٹاگون کو کئی رپورٹس اور ویڈیوز جاری کرنا پڑیں۔ بعض مبصرین کا خیال ہے کہ امریکی حکومت پہلی بار اس معاملے پر مکمل خاموشی اختیار کرنے کے بجائے محدود معلومات جاری کرنے کی پالیسی اپنا رہی ہے۔













