پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس (پی بی ایس) کی جانب سے جاری کردہ تازہ ترین عبوری اعداد و شمار کے مطابق مئی 2026 کے دوران ملک کے تجارتی خسارے میں گزشتہ ماہ کے مقابلے میں 39.43 فیصد کی نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے، جس کی بنیادی وجہ برآمدات میں اضافہ اور درآمدات میں ہونے والی نمایاں کمی ہے۔
مشیر خزانہ خرم شہزاد نے اس پیشرفت کو ملکی معیشت کے استحکام اور پائیداری کی جانب ایک بڑا قدم قرار دیا ہے۔ مئی کے دوران ماہانہ تجارتی خسارہ کم ہو کر 2.59 بلین امریکی ڈالر رہ گیا، جو کہ اپریل 2026 میں 4.26 بلین ڈالر ریکارڈ کیا گیا تھا، یوں بیرونی شعبے پر دباؤ میں عارضی طور پر بڑی کمی واقع ہوئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: اپریل: پاکستانی برآمدات میں بہتری کے آثار، درآمدات میں اضافے سے تجارتی خسارہ برقرار
اعداد و شمار کے مطابق مئی 2026 میں پاکستان کی برآمدات گزشتہ ماہ کے 2.47 بلین ڈالر کے مقابلے میں 9.59 فیصد اضافے کے ساتھ 2.7 بلین امریکی ڈالر تک پہنچ گئیں۔ برآمدات میں اس بہتری کی بڑی وجہ ٹیکسٹائل کے شعبے کی کارکردگی ہے جس نے مئی میں 1.657 بلین ڈالر مالیت کی مصنوعات برآمد کیں، جو کہ اپریل کے مقابلے میں 10.61 فیصد زیادہ ہیں۔ دوسری جانب مئی میں درآمدات میں ماہانہ بنیادوں پر 21.45 فیصد کی نمایاں کمی دیکھی گئی، جس کے بعد درآمدی حجم اپریل کے 6.73 بلین ڈالر سے کم ہو کر 5.29 بلین ڈالر رہ گیا ہے۔
اگر گزشتہ سال کے اسی مہینے یعنی مئی 2025 سے موازنہ کیا جائے تو سالانہ بنیادوں پر بھی تجارتی خسارے میں 39 فیصد بہتری آئی ہے۔ مئی 2025 میں برآمدات 2.67 بلین ڈالر تھیں جو اب معمولی اضافے سے 2.7 بلین ڈالر ہو گئی ہیں، جبکہ درآمدات 5.66 بلین ڈالر سے کم ہو کر 5.29 بلین ڈالر پر آگئی ہیں۔
پاکستان کی بڑی برآمدات میں ریڈی میڈ گارمنٹس، نٹ ویئر، باسمتی چاول اور پھل شامل رہے جبکہ درآمدات میں پیٹرولیم مصنوعات، خام تیل، ایل این جی، پلاسٹک اور موبائل فونز سرِفہرست رہے، تاہم ملک اب بھی توانائی کی درآمد پر بھاری انحصار کررہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان کا تجارتی خسارہ 25 فیصد بڑھ کر 25 ارب ڈالر تک پہنچ گیا
ماہانہ بنیادوں پر ملنے والے اس ریلیف کے باوجود جاری مالی سال کے پہلے 11 مہینوں (جولائی تا مئی) کی مجموعی صورتحال اب بھی تشویشناک بنی ہوئی ہے۔ پی بی ایس کی رپورٹ کے مطابق اس 11 ماہ کے عرصے میں مجموعی برآمدات 5.6 فیصد کمی کے ساتھ 27.9 بلین ڈالر رہیں جبکہ مجموعی درآمدات 5.94 فیصد اضافے کے ساتھ 62.66 بلین ڈالر تک پہنچ گئیں، جس کے نتیجے میں جولائی سے مئی کے دوران ملک کا مجموعی تجارتی خسارہ 17.48 فیصد اضافے کے ساتھ 34.76 بلین ڈالر تک پھیل چکا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ مئی کے اچھے اشاریوں نے معیشت کو سہارا ضرور دیا ہے، لیکن طویل المیعاد استحکام کے لیے برآمدی شعبے میں پائیدار ترقی اور درآمدات پر کنٹرول برقرار رکھنا ناگزیر ہوگا۔













