بنگلہ دیش کے تحقیقی ادارے سینٹر فار پالیسی ڈائیلاگ (سی پی ڈی) نے خبردار کیا ہے کہ ملک کی معیشت مسلسل مہنگائی، بڑھتی توانائی لاگت، کمزور طرزِ حکمرانی اور مالی مشکلات کے باعث شدید دباؤ میں ہے۔
مزید پڑھیں: ترکیہ اور بنگلہ دیش کے درمیان ثقافتی تعاون کے معاہدے پر دستخط متوقع
ادارے کے مطابق اپریل میں مہنگائی کی شرح 9.04 فیصد رہی، جبکہ ایندھن اور بجلی کی قیمتوں میں اضافے نے عوام پر بوجھ مزید بڑھا دیا ہے۔ ٹیکس وصولیوں میں کمی، ترقیاتی منصوبوں پر سست عملدرآمد اور نجی شعبے کو قرضوں کی فراہمی میں ریکارڈ کمی نے بھی معاشی خدشات میں اضافہ کیا ہے۔
مزید پڑھیں: بنگلہ دیش میں خسرہ وبا کی سنگین صورتحال، ہلاکتیں 600 سے متجاوز
سی پی ڈی نے خبردار کیا کہ مؤثر اصلاحات، بہتر حکمرانی اور مضبوط ادارہ جاتی نظام کے بغیر بنگلہ دیش کے لیے پائیدار معاشی ترقی اور استحکام کا حصول مشکل ہو سکتا ہے۔














