بھارت میں جاری شدید ترین گرمی کی لہر انسانوں کے ساتھ ساتھ اب نایاب جنگلی حیات کے لیے بھی انتہائی ہولناک ثابت ہو رہی ہے۔
بھارتی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق، بھارتی ریاست گجرات میں قائم مشہورِ زمانہ ‘گر سینکچری لینڈ اسکیپ’ میں شدید گرمی کے باعث نایاب ایشیائی نسل کے 8 شیر کے بچے دم توڑ گئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: گجرات میں آدمی اور شیر کے آمنے سامنے آنے کا دلچسپ واقعہ، ویڈیو وائرل
اس لرزہ خیز واقعے کے بعد جنگلی حیات کے تحفظ سے متعلق شدید تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے کیونکہ ایشیائی شیروں کی نسل پہلے ہی دنیا بھر میں شدید خطرے سے دوچار ہے اور اب یہ صرف اور صرف گجرات کے جنگلاتی حصوں تک ہی محدود ہوکر رہ گئی ہے۔
بھارتی میڈیا نے ریاست کے وزیرِ جنگلات ارجن موڈھواڈیا کے حوالے سے بتایا ہے کہ ان 8 ایشیائی شیر کے بچوں کی حالیہ اموات کسی ‘بابیشیا’ نامی انفیکشن یا کسی پراسرار وائرس کی وجہ سے نہیں ہوئیں، بلکہ حالیہ دنوں میں پڑنے والی ریکارڈ توڑ گرمی اور اس کی وجہ سے پیدا ہونے والی شدید جسمانی کمزوری ان معصوم بچوں کی موت کی اصل وجہ بنی۔
وزیرِ جنگلات کا مزید کہنا تھا کہ جنگل میں بیمار پڑنے والے دیگر 17 شیروں کو فوری طبی امداد دی گئی، جن میں سے 12 شیروں کو احتیاطی تدابیر کے طور پر قرنطینہ میں رکھا گیا تھا اور اب وہ مکمل صحتیاب ہو چکے ہیں جس کے بعد انہیں دوبارہ جنگل میں آزاد کر دیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور سفاری زو میں 7 ننھے ببر شیروں کا اضافہ، 4 کو ماؤں نے کیوں دھتکار دیا؟
ریاستی وزیرِ جنگلات کے مطابق، بقیہ 5 بیمار شیر بھی اب تیزی سے صحت یاب ہو رہے ہیں اور ڈاکٹروں کی کلین چٹ ملتے ہی جلد ہی انہیں ان کے قدرتی مسکن میں واپس چھوڑ دیا جائے گا۔
ارجن موڈھواڈیا نے بھارتی میڈیا کے سامنے اس بات پر سخت اصرار کیا کہ حالیہ دنوں میں کسی بھی وائرل بیماری کی وجہ سے گر کے جنگلات میں شیروں کی کوئی موت واقع نہیں ہوئی، البتہ ایک شیرنی کی موت ضرور ہوئی ہے جو حمل سے متعلق پیچیدگیوں کے باعث دم توڑ گئی تھی۔














