اقوام متحدہ میں پاکستان کا دوٹوک مؤقف، افغان سرزمین سے دہشتگردی ناقابل قبول

منگل 9 جون 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاکستان نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں افغانستان کی صورتحال پر بحث کے دوران مؤقف اختیار کیا ہے کہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور دیگر دہشت گرد تنظیمیں افغان سرزمین سے بلا روک ٹوک سرگرم ہیں، جس کے باعث پاکستان کو دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے خطرات کا سامنا ہے۔

اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد نے واضح کیا کہ پاکستان دہشتگرد حملوں کے سامنے خاموش نہیں بیٹھے گا اور ضرورت پڑنے پر بین الاقوامی قانون کے مطابق اپنے دفاع کا حق استعمال کرے گا۔

یہ بھی پڑھیں: افغانستان دہشتگردی کا سرپرست، ایسے عناصر کا زمین کے آخری کونے تک پیچھا کریں گے، خواجہ آصف

سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے پاکستانی مندوب نے کہا کہ پاکستان میں دہشتگرد حملوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جن میں سے متعدد کی منصوبہ بندی افغانستان میں کی جاتی ہے۔

انہوں نے الزام عائد کیا کہ افغان طالبان نے ایک بار پھر دہشتگرد گروہوں کو محفوظ پناہ گاہیں فراہم کرنے کی پالیسی اختیار کر لی ہے، ان کا کہنا تھا کہ ایک بیرونی قوت، جس کا اشارہ بھارت کی جانب تھا، پاکستان کے خلاف پراکسی جنگ کو ہوا دے رہی ہے۔

عاصم افتخار احمد نے کہا کہ پاکستان نے قطر، ترکیہ، سعودی عرب اور چین سمیت مختلف ممالک کی معاونت سے طالبان حکومت کے ساتھ مسائل کے حل کے لیے سفارتی کوششیں کیں، تاہم طالبان کی جانب سے ٹی ٹی پی اور بلوچ لبریشن آرمی جیسے گروہوں کی مذمت سے گریز تشویشناک ہے اور یہ ان گروہوں کی حمایت کا ثبوت سمجھا جا سکتا ہے۔

انہوں نے اقوام متحدہ کے معاونتی مشن برائے افغانستان پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ سرحد پار واقعات کا ذکر تو کیا جاتا ہے، لیکن افغانستان سے پیدا ہونے والے دہشتگرد خطرات اور ان کے پاکستان پر اثرات کو مناسب انداز میں اجاگر نہیں کیا جاتا۔

مزید پڑھیں: افغانستان میں پھیلتے دہشتگردی کے مرکز کے خلاف پاکستان مضبوط دیوار

ان کے مطابق افغانستان میں غیر قانونی اسلحے کے ذخائر، منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی مالی معاونت کے نیٹ ورکس بھی عالمی توجہ کے متقاضی ہیں۔

پاکستانی مندوب نے کہا کہ افغانستان کو درپیش انسانی بحران، خواتین اور بچیوں کے حقوق پر پابندیاں اور معاشی مشکلات طالبان کی پالیسیوں کا نتیجہ ہیں۔ انہوں نے یاد دلایا کہ پاکستان نے چار دہائیوں تک لاکھوں افغان مہاجرین کی میزبانی کی، تاہم یہ قیام غیر معینہ مدت کے لیے نہیں تھا۔

مزید پڑھیں: پاکستان میں دہشتگردی کا ماسٹر منصوبہ ساز بھارت جبکہ افغانستان سہولت کار ہے، برگیڈیئر آصف ہارون راجہ

اجلاس میں یوناما کی نائب نمائندہ جارجیٹ گیگنن نے بتایا کہ 2023 سے اب تک تقریباً 59 لاکھ افغان اپنے ملک واپس لوٹ چکے ہیں، لیکن افغانستان کی کمزور معیشت انہیں مکمل طور پر جذب کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتی۔

انہوں نے انکشاف کیا کہ 38 لاکھ لڑکیاں اسکولوں سے باہر ہیں، جبکہ خواتین پر عائد پابندیاں ملک کے مستقبل کو متاثر کر رہی ہیں۔

مزید پڑھیں: تاجکستان میں گرفتاری اور کابل دھماکے، افغانستان پھر دہشتگردی کا گڑھ بن رہا ہے؟

اقوام متحدہ کے حکام نے خبردار کیا کہ افغانستان بدستور دنیا کے سب سے بڑے انسانی بحرانوں میں سے ایک ہے، جہاں تقریباً نصف آبادی کو امداد کی ضرورت ہے اور غذائی عدم تحفظ تیزی سے بڑھ رہا ہے۔

پاکستان نے اجلاس میں زور دیا کہ طالبان دہشتگردی کے خلاف قابلِ تصدیق اور مستقل اقدامات کریں تاکہ افغانستان اور خطے میں پائیدار امن و استحکام کی راہ ہموار ہو سکے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

وزیراعظم شہباز شریف کا گلوبل فنڈ کے ساتھ شراکت داری مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار

پاکستان روس تعلقات میں بڑی پیشرفت، اویس لغاری نے نئی حکمتِ عملی دنیا کے سامنے رکھ دی

کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی کے 4 مطلوب افراد کی گرفتاری میں مدد پر ایک کروڑ روپے انعام کا اعلان

حج 2027 کی تیاریوں کا آغاز، رجسٹریشن رواں ماہ متوقع

کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی کے کور ممبران شوکت نواز میر اور خواجہ مہران کے خلاف باضابطہ قانونی کارروائی کا آغاز

ویڈیو

نوابزادہ جمال رئیسانی کا تیزاب گردی میں ملوث ملزمان کو سزائے موت دینے کا مطالبہ

وزیر اعظم اور صدر مملکت کی اہم ملاقات، بجٹ منظوری اور سیاسی مفاہمت کی راہ ہموار

پی ٹی آئی حکومت اختلافات کا شکار، کارکردگی صفر، پشاور کے شہریوں کی رائے

کالم / تجزیہ

چاچا کرکٹ صرف تماشائی نہیں تھا

میں انس عبیداللہ عابد کے جنازے میں کیوں نہیں گیا؟

کشمیر ایکشن کمیٹی کیا چاہتی ہے؟