بھارت پاکستان کی جانب بہنے والے پانی کو روکنے کے لیے اقدامات کر رہا ہے اور آئندہ برسوں میں ایک قطرہ پانی بھی پاکستان جانے نہیں دیا جائے گا۔
یہ بات بھارتی وزیرِ آبی وسائل چندراکانت رگوناتھ پٹیل نے کہی ہے، جبکہ نئی دہلی گزشتہ برس سندھ طاس معاہدے کی معطلی کا اعلان کر چکا ہے۔
دوسری جانب پاکستان پہلے ہی واضح کر چکا ہے کہ سرحد پار دریاؤں کے پانی کے بہاؤ میں کسی بھی قسم کی تبدیلی کو جنگی اقدام تصور کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: اقوام متحدہ: بھارت پانی کے معاملے کو سیاسی رنگ دے رہا ہے، پاکستان
پاکستان کا مؤقف ہے کہ 1960ء کا سندھ طاس معاہدہ اب بھی مؤثر ہے کیونکہ اس سے یکطرفہ طور پر دستبردار ہونے کا کوئی طریقۂ کار موجود نہیں۔
بھارتی خبر رساں ادارے اے این آئی سے گفتگو کرتے ہوئے سی آر پاٹل نے کہا کہ یہ یقینی بنایا جائے گا کہ آنے والے برسوں میں پاکستان کو ایک قطرہ پانی بھی نہ ملے۔
انہوں نے بتایا کہ وزیراعظم نریندر مودی کی ہدایات کے بعد اس مقصد کے لیے عملی اقدامات جاری ہیں۔
"Union jal shakti minister CR Patil on Tuesday said that the Narendra Modi government is working to ensure that Pakistan receives no water from the Indus river system in the coming years." https://t.co/qtQfe2pShd
— Derek J. Grossman (@DerekJGrossman) June 10, 2026
رواں سال مئی میں بھارت کی سرکاری کمپنی نیشنل ہائیڈرو الیکٹرک پاور کارپوریشن نے ایک مجوزہ سرنگ منصوبے کے لیے ٹینڈر جاری کیا تھا۔
جس کے تحت دریائے چناب کا پانی بیاس بیسن کی جانب منتقل کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
اس سے قبل جنوری میں بھارتی وزارتِ توانائی نے اعلان کیا تھا کہ دریائے چناب پر واقع سلال پاور اسٹیشن میں سندھ طاس معاہدے کے خاتمے کے بعد تلچھٹ ہٹانے کا عمل شروع کیا جا رہا ہے۔
مزید پڑھیں: بھارت پانی کو ہتھیار بنا رہا ہے، سندھ طاس معاہدہ یکطرفہ طور پر معطل نہیں کیا جاسکتا، امریکی جریدے کی رپورٹ
تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارت کے موجودہ ڈیموں میں اس وقت اتنی گنجائش موجود نہیں کہ وہ پانی کو مکمل طور پر روک یا اس کا رخ موڑ سکیں، البتہ وہ پانی کے اخراج کے اوقات کو محدود حد تک منظم کر سکتے ہیں۔
مقبوضہ جموں و کشمیر کے ایک سرکاری عہدیدار کے مطابق مجوزہ منصوبوں پر عملی کام 2027 کے وسط سے پہلے شروع ہونا ممکن نہیں، جبکہ ان کی تکمیل میں کم از کم 5 سال لگ سکتے ہیں۔













