آئندہ مالی سال 27-2026 کے وفاقی بجٹ میں تنخواہ دار طبقے کے لیے انکم ٹیکس نظام میں اہم تبدیلیاں متوقع ہیں۔
ذرائع کے مطابق حکومت نے ملازمین پر ٹیکس کا بوجھ کم کرنے کے لیے مختلف تجاویز تیار کر لی ہیں، جن میں ٹیکس کی شرحوں میں کمی اور نئے ٹیکس سلیبز کا اضافہ شامل ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ موجودہ 6 انکم ٹیکس سلیبز کو بڑھا کر8 کرنے کی تجویز زیر غور ہے، تاکہ مختلف آمدنی رکھنے والے افراد کے لیے ایک زیادہ متوازن اور منصفانہ ٹیکس نظام فراہم کیا جا سکے۔
یہ بھی پڑھیں: وزیرِاعظم کو پاکستان اکنامک سروے 26-2025 پیش، معاشی کارکردگی کی رپورٹ کا باضابطہ اجرا
مجوزہ تجاویز کے مطابق سالانہ 12 لاکھ روپے تک آمدن رکھنے والے ملازمین کو نمایاں ریلیف ملنے کا امکان ہے۔
اس آمدن پر انکم ٹیکس کی شرح کم کرکے صرف 3 فیصد کرنے کی تجویز دی گئی ہے، جس سے ماہانہ تقریباً ایک لاکھ روپے تنخواہ لینے والے افراد کو براہِ راست فائدہ پہنچے گا۔
اسی طرح سالانہ 22 لاکھ روپے تک آمدن رکھنے والے افراد کے لیے انکم ٹیکس کی شرح 5 فیصد مقرر کرنے کی تجویز سامنے آئی ہے۔
مزید پڑھیں: حکومت نے اقتصادی سروے 2025-26 جاری کردیا، جی ڈی پی میں اضافہ ریکارڈ
اس زمرے میں وہ ملازمین شامل ہیں جن کی ماہانہ آمدن تقریباً ایک لاکھ 80 ہزار روپے بنتی ہے۔
ذرائع کے مطابق سالانہ 32 لاکھ روپے تک آمدن رکھنے والے تنخواہ دار افراد کے لیے بھی ریلیف متوقع ہے۔
ان کے لیے انکم ٹیکس کی شرح 10 فیصد کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ اس زمرے میں شامل افراد کی ماہانہ آمدن تقریباً 2 لاکھ 60 ہزار روپے بنتی ہے۔
مزید پڑھیں: بجٹ 27-2026، کم از کم تنخواہ کتنی ہونی چاہیے؟ اسلام آباد کے شہریوں کی رائے
مزید برآں، سالانہ 41 لاکھ روپے یا اس سے زائد آمدن رکھنے والے افراد پر عائد موجودہ 35 فیصد انکم ٹیکس کی شرح میں بھی کمی کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
تاہم اس حوالے سے حتمی شرح کا اعلان بجٹ پیش ہونے پر ہی سامنے آئے گا۔
ذرائع کے مطابق حکومت ایک کروڑ روپے یا اس سے زائد سالانہ تنخواہ حاصل کرنے والے افراد کے لیے ایک نیا ٹیکس سلیب متعارف کرانے پر بھی غور کر رہی ہے۔
مزید پڑھیں: وفاقی بجٹ 12 جون کو، اقتصادی جائزہ کل جاری کیا جائے گا، پیٹرول پر ریلیف، 13 کھرب روپے ٹیکس ہدف مقرر
اس اقدام کا مقصد زیادہ آمدن والے افراد کے لیے الگ ٹیکس ڈھانچہ تشکیل دینا ہے۔
بجٹ تجاویز میں اعلیٰ آمدن والے طبقے پر عائد 10 فیصد سرچارج ختم کرنے کی سفارش بھی شامل ہے۔
تاہم اس معاملے میں آئی ایم ایف کی منظوری اہم ہوگی۔ اگر سرچارج مکمل طور پر ختم نہ کیا جا سکا تو اسے کم کرکے 5 فیصد تک محدود رکھنے کی تجویز زیر غور ہے۔
مزید پڑھیں: حکومت نے گزشتہ 21 ماہ میں اشتہارات پر 9 ارب 28 کروڑ روپے سے زائد رقم خرچ کی
معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ تجاویز منظور ہو جاتی ہیں تو تنخواہ دار طبقے کو خاطر خواہ مالی ریلیف ملے گا اور ان کی قابلِ استعمال آمدن میں اضافہ ہوگا۔
تاہم تمام تجاویز کی حتمی منظوری وفاقی کابینہ اور بجٹ دستاویزات کے اجرا کے بعد ہی سامنے آئے گی۔











