یورپی ممالک میں ہجرت اور پناہ گزینی کا نیا ضابطہ نافذ

جمعہ 12 جون 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

یورپی یونین میں مائیگریشن و پناہ گزینی کا نیا ضابطہ جون 2026 سے نافذ العمل ہوگیا ہے۔ یہ نئی پالیسی پورے یورپ میں تارکینِ وطن کی آمد کے بہاؤ کو سنبھالنے کے لیے نئے میکانزم متعارف کراتی ہے۔

یہ پیشرفت یورپی یونین کے ممالک پر دائیں بازو کی قوم پرست جماعتوں کے بڑھتے ہوئے دباؤ کے بعد سامنے آئی ہے، جس کے تحت ہجرت اور پناہ گزینی کی پالیسی میں ایک ایسی بڑی تبدیلی کی گئی ہے جسے بننے میں ایک دہائی کا وقت لگا۔

یہ بھی پڑھیں: برطانیہ میں اسائلم کے نئے قوانین متعارف، پاکستانی پناہ گزینوں پر کیا اثرات مرتب ہوں گے؟

یورپی یونین کے اس وسیع معاہدے کے تحت سرحدوں پر سخت کنٹرول، کیسز کی تیز رفتار پروسیسنگ، پناہ کی درخواستوں کو ٹریک کرنے کے لیے ڈیجیٹل آلات کا دائرہ وسیع کرنے اور بیدخلی کے عمل میں تیزی لانا شامل ہے۔

یہ معاہدہ 2024 میں 2 سالہ نفاذ کی مدت کے ساتھ منظور کیا گیا تھا۔ یورپی کمیشن کی صدر ارسلا وان ڈیر لیین نے اس معاہدے کو ‘منصفانہ اور مضبوط’ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ بیرونی سرحدوں کو مزید محفوظ بنائے گا، رکن ممالک کے درمیان یکجہتی پیدا کرے گا اور پناہ گزینی و واپسی کے طریقہ کار کو زیادہ موثر بنائے گا۔

یہ اقدام 2015 کے بعد سے پیدا ہونے والے بحران اور مطالبات کا یورپی یونین کی جانب سے بنیادی اجتماعی جواب ہے، جب زیادہ تر شامی خانہ جنگی سے بچ کر دس لاکھ سے زائد افراد پناہ کی تلاش میں پیدل چل کر یورپ پہنچے تھے۔

 تاہم یورپی یونین کے تمام 27 رکن ممالک میں ان تبدیلیوں کے لیے تیاری کا معیار مختلف ہے، جس نے اس بات پر شک پیدا کردیا ہے کہ یہ تبدیلیاں کتنی جلدی اور کس حد تک موثر طریقے سے نافذ العمل ہوں گی۔

یہ بھی پڑھین: اسپین میں رہائش اور کام کی اجازت ملنے پر غیرقانونی تارکین وطن کے تاثرات کیا ہیں؟

سینٹر لیفٹ سے تعلق رکھنے والی جرمن قانون ساز برگر سیپل کا کہنا ہے کہ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ کوئی بھی رکن ملک اس کے لیے 100 فیصد تیار نہیں ہے، اور یہ بات اس لیے زیادہ مایوس کن ہے کیونکہ ہم نے صفر سے شروعات نہیں کی تھی۔

رکن ممالک اب بھی ان پیچیدہ نئے قواعد کو نافذ کرنے کے لیے جدوجہد کررہے ہیں، جبکہ مائیگریشن پر سخت مؤقف اگلے سال فرانس، یونان، اٹلی، پولینڈ اور اسپین میں ہونے والی انتخابی مہمات کا ایک اہم حصہ بننے کا امکان ہے۔

مکسڈ مائیگریشن سینٹر کے روبرٹو فورین کا کہنا ہے کہ گزشتہ ایک دہائی کے دوران سیاسی مرکزِ ثقل نمایاں طور پر دائیں بازو کی طرف منتقل ہوچکا ہے، اور ہر انتخابی چکر ان پوزیشنز کو معمول کا حصہ بنانے کا خطرہ رکھتا ہے جنہیں کچھ عرصہ پہلے تک انتہا پسندانہ سمجھا جاتا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: ہجرت کے راستوں کی ہلاکت خیزی برقرار، 2025 میں تقریباً 8 ہزار افراد ہلاک یا لاپتا

یورپی یونین کا یہ نیا معاہدہ بیرونی سرحدوں کے انتظام میں ایک بڑی تبدیلی کی علامت ہے، جو بحران کے بعد ردعمل دینے کے بجائے ایک مرکزی فریم ورک قائم کرتا ہے تاکہ غیر قانونی آمد پر تمام رکن ممالک میں یکساں اور پہلے سے طے شدہ قوانین کے تحت کارروائی کی جا سکے.

 یہ 10 باہم جڑے ہوئے قوانین کا مجموعہ پرانے نظام کو مکمل طور پر بدل دے گا جس کا زیادہ تر بوجھ پہلے اٹلی اور یونان جیسے بحیرۂ روم کے سرحدی ممالک پر پڑتا تھا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

پنجاب حکومت کا ماحول دوست اقدام، ’لیکوئیڈ ٹری ‘منصوبے کو وسعت دینے کا فیصلہ

کالعدم ایکشن کمیٹی کے مسلح جتھوں کی پولیس گاڑی پر فائرنگ، نام نہاد پرامن احتجاج کی حقیقت عیاں

ڈونلڈ ٹرمپ کی ’مبینہ پراسرار شخصیات‘ کے ساتھ تصاویر وائرل، یہ کون ہے؟ انٹرنیٹ پر ہلچل، نئی بحث چھڑ گئی

آزاد کشمیر میں انتخابات مؤخر کرنے کا مطالبہ، پیپلز پارٹی نے موجودہ حالات کو تشویشناک قرار دے دیا

کاروبار ڈیجیٹل نظام سے دور رہے تو بھاری جرمانوں کا سامنا، ایف بی آر کی نئی تجاویز

ویڈیو

مشکل معاشی حالات میں حکومت نے بہترین بجٹ پیش کیا، اسلام آباد کے شہریوں کی رائے

امریکا ایران ڈیل فائنل، پاکستان کو اس سے کیا فائدہ ہوگا؟

وزیراعظم شہباز شریف کی چارٹر آف اکانومی اور چارٹر آف ڈیموکریسی کے لیے اپوزیشن کو دوبارہ مذاکرات کی دعوت

کالم / تجزیہ

سرحدوں سے ماورا یاری: سید بابر علی اور ہرچرن سنگھ

سعودی عرب اور پاکستان ایک دوسرے کے لیے کیوں اہم ہیں؟

ہارڈ اسٹیٹ: گزارا کرنا سیکھیں