ہجرت کے راستوں کی ہلاکت خیزی برقرار، 2025 میں تقریباً 8 ہزار افراد ہلاک یا لاپتا

بدھ 22 اپریل 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

اقوامِ متحدہ کی تازہ رپورٹ کے مطابق 2025 میں دنیا بھر میں ہجرت کے خطرناک راستوں پر تقریباً 8 ہزار افراد ہلاک یا لاپتا ہوگئے۔ اگرچہ یہ تعداد گزشتہ سال کے مقابلے میں کم ہے، تاہم ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ ہجرت کے راستے مزید خطرناک اور پیچیدہ ہوتے جا رہے ہیں، جس سے انسانی جانوں کو بدستور شدید خطرات لاحق ہیں۔

اقوامِ متحدہ کے ادارے انٹرنیشنل آرگنائزیشن فار مائیگریشن (IOM) کی رپورٹ کے مطابق 2025 کے دوران دنیا بھر میں ہجرت کے مختلف راستوں پر تقریباً 7,904 افراد ہلاک یا لاپتا ہوگئے، جن میں سب سے زیادہ اموات یورپ جانے والے سمندری راستوں پر ہوئیں۔

رپورٹ کے مطابق مجموعی طور پر ہر 10 میں سے 4 سے زائد ہلاکتیں یا گمشدگیاں یورپ جانے والے سمندری راستوں پر پیش آئیں۔

یہ بھی پڑھیے ٹرمپ کا تمام تیسری دنیا کے ممالک سے امریکا ہجرت روکنے کا اعلان

اقوامِ متحدہ کے اس ذیلی ادارے کا کہنا ہے کہ ان میں سے بڑی تعداد ایسے ’غیر مرئی جہاز ڈوبنے کے واقعات‘ کی ہے، جن میں کشتیوں کا مکمل طور پر سمندر میں غائب ہو جانا شامل ہے اور ان کا کوئی سراغ نہیں ملتا۔

ادارے کے انسانی امداد اور ردِعمل کے شعبے کی سربراہ ماریا موئیتا نے جنیوا میں پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ یہ اعداد و شمار عالمی برادری کی اجتماعی ناکامی کو ظاہر کرتے ہیں کہ وہ ان سانحات کو روکنے میں ناکام رہی ہے۔

رپورٹ کے مطابق اگرچہ 2024 میں ریکارڈ 9,197 ہلاکتوں کے مقابلے میں 2025 میں تعداد کم ہوئی ہے، تاہم یہ کمی جزوی طور پر اس وجہ سے بھی ہے کہ امدادی فنڈز میں کمی کے باعث تقریباً 1,500 مشتبہ واقعات کی تصدیق نہیں ہو سکی۔

IOM کے مطابق 2014 سے اب تک ہجرت کے دوران ہلاک یا لاپتا ہونے والوں کی مجموعی تعداد 82 ہزار سے تجاوز کر چکی ہے، جبکہ اندازاً 3 لاکھ 40 ہزار سے زائد خاندان براہِ راست متاثر ہوئے ہیں۔

راستوں میں تبدیلی، خطرات برقرار

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ہجرت کے راستوں میں نمایاں تبدیلی آ رہی ہے۔ یورپ میں مجموعی طور پر آنے والوں کی تعداد میں کمی دیکھی گئی، تاہم نقل مکانی کے رجحانات بدل گئے ہیں۔ بنگلہ دیش سے آنے والے افراد سب سے بڑا گروہ بن گئے، جبکہ سیاسی اور پالیسی تبدیلیوں کے باعث شامی مہاجرین کی آمد میں کمی ہوئی۔

مغربی افریقہ سے شمال کی جانب جانے والے راستے پر تقریباً 1,200 اموات رپورٹ ہوئیں، جبکہ ایشیا میں بھی ریکارڈ ہلاکتیں سامنے آئیں۔ ان میں بڑی تعداد روہنگیا مہاجرین کی تھی، جو میانمار میں تشدد یا بنگلہ دیش کے پناہ گزین کیمپوں میں بدحالی سے فرار ہونے کی کوشش کر رہے تھے۔

ادارے نے خبردار کیا ہے کہ ہجرت کے راستے کم نہیں ہو رہے بلکہ بدل رہے ہیں، اور یہ سفر مزید خطرناک ہوتا جا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیے 2025: 7,667 افراد ہجرت کے خطرناک راستوں پر چلتے ہوئے موت کے گھاٹ اتر گئے، اقوام متحدہ

IOM کی ڈائریکٹر جنرل ایمی پوپ نے کہا کہ تنازعات، موسمیاتی دباؤ اور پالیسی تبدیلیاں لوگوں کو نئے راستے اختیار کرنے پر مجبور کر رہی ہیں، لیکن خطرات بدستور موجود ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ ان اعداد و شمار کے پیچھے حقیقی انسانوں کی کہانیاں ہیں، جو خطرناک سفر پر نکلتے ہیں جبکہ ان کے خاندان ایسی خبروں کے منتظر رہتے ہیں جو شاید کبھی نہ آئیں۔

ایمی پوپ کے مطابق، درست ڈیٹا ان راستوں کو سمجھنے اور ایسے اقدامات کرنے کے لیے نہایت اہم ہے جن سے خطرات کم کیے جا سکیں، جانیں بچائی جا سکیں اور محفوظ ہجرت کے مواقع فراہم کیے جا سکیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

فاطمہ ثنا کی عالمی کرکٹ میں دھوم، کینیڈا سپر 60 کی فرنچائز سے معاہدہ

ماہرین آثارِ قدیمہ کا موئن جو دڑو میں نئی تحقیق اور شہر کی فصیل کی نقل تعمیر کرنے کا مطالبہ

ورلڈ کپ کے اہم معرکے سے قبل قومی ہاکی ٹیم کی قیادت میں بڑی تبدیلی، عماد شکیل بٹ کو کپتانی سے ہٹا دیا گیا

بی جے پی رہنما کی بیٹی نے بھارتی نوجوانوں کے احتجاج کی حمایت کی وجہ بتا دی

دوران سفر متلی کی شکایت: ازالے کے لیے آئی فون کی ایک خفیہ سیٹنگ استعمال کرکے دیکھیں

ویڈیو

جسٹن گریوز نے ٹیسٹ کرکٹ میں منفرد عالمی ریکارڈ قائم کرلیا، ’سہولت کار‘ پاکستان ٹیم

پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن پھر آمنے سامنے، آخر اس لڑائی کی وجہ کیا ہے؟

اسحاق ڈار اور کویتی وزیر خارجہ کے درمیان اہم ملاقات، دوطرفہ تعلقات پر تبادلہ خیال

کالم / تجزیہ

ایک اور میچ، ایک اور شکست، اب تو عادت سی ہے ہم کو!

اے ٹی ایم مشین 

28 جولائی 2010: وہ دن جب میرے قدموں تلے زمین نکل گئی