وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے مالی سال بجٹ27-2026 کا وفاقی بجٹ پیش کرتے ہوئے بین الاقوامی کریڈٹ اور ڈیبٹ کارڈ ٹرانزیکشنز پر عائد ود ہولڈنگ ٹیکس میں نمایاں کمی کی تجویز پیش کی ہے۔
وزیر خزانہ کے مطابق اس اقدام کا مقصد مالی لین دین کو مزید آسان بنانا، غیر رسمی ذرائع کے استعمال کی حوصلہ شکنی کرنا اور معیشت کو دستاویزی شکل دینے کی حکومتی کوششوں کو مضبوط بنانا ہے۔
موجودہ ٹیکس شرح کیا ہے؟
قومی اسمبلی میں بجٹ تقریر کے دوران محمد اورنگزیب نے بتایا کہ اس وقت پاکستان میں بینکوں کی جانب سے جاری کردہ کریڈٹ اور ڈیبٹ کارڈز کے بیرونِ ملک استعمال پر ہر بین الاقوامی ٹرانزیکشن کے لیے 5 فیصد ود ہولڈنگ ٹیکس ادا کرنا پڑتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس ٹیکس کی بلند شرح کی وجہ سے بعض صارفین رقم کی منتقلی اور ادائیگیوں کے لیے غیر روایتی اور غیر رسمی ذرائع اختیار کرنے کو ترجیح دیتے ہیں۔
ٹیکس 5 فیصد سے کم کر کے 0.5 فیصد کرنے کی تجویز
وزیر خزانہ نے اعلان کیا کہ حکومت نے بین الاقوامی کریڈٹ اور ڈیبٹ کارڈ ٹرانزیکشنز پر عائد ود ہولڈنگ ٹیکس کی شرح 5 فیصد سے کم کر کے 0.5 فیصد کرنے کی تجویز دی ہے۔
ان کے مطابق اس فیصلے کا مقصد اس ٹیکس کو معمول کی مالیاتی ٹرانزیکشنز کے مطابق لانا اور صارفین کو باضابطہ بینکاری ذرائع کے استعمال کی جانب راغب کرنا ہے۔
غیر رسمی ذرائع کے استعمال کی حوصلہ شکنی
محمد اورنگزیب نے کہا کہ ٹیکس کی شرح میں نمایاں کمی سے غیر رسمی اور غیر دستاویزی مالیاتی ذرائع کے استعمال میں کمی آئے گی، جبکہ قانونی اور شفاف مالیاتی نظام کو فروغ ملے گا۔
مزید پڑھیں:پاکستان میں کریڈٹ کارڈ سے خریداری کا رجحان رواں مالی سال کیسا رہا؟
انہوں نے کہا کہ حکومت چاہتی ہے کہ بیرونِ ملک ادائیگیوں اور آن لائن بین الاقوامی لین دین کے لیے زیادہ سے زیادہ افراد باضابطہ بینکاری نظام کا استعمال کریں۔
معیشت کو دستاویزی بنانے کی کوشش
وزیر خزانہ کے مطابق یہ اقدام معیشت کو دستاویزی شکل دینے کے وسیع تر حکومتی پروگرام کا حصہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ٹیکس نظام کو آسان اور متوازن بنا کر نہ صرف کاروباری سرگرمیوں کو فروغ دیا جا سکتا ہے بلکہ مالیاتی شفافیت اور ٹیکس نیٹ میں اضافے کے اہداف بھی حاصل کیے جا سکتے ہیں۔
واضح رہے کہ اگر یہ تجویز منظور ہو جاتی ہے تو بیرونِ ملک سفر کرنے والے افراد، آن لائن بین الاقوامی خریداری کرنے والے صارفین اور مختلف عالمی خدمات کے لیے ادائیگیاں کرنے والے پاکستانیوں کو براہِ راست فائدہ پہنچے گا، جبکہ باضابطہ مالیاتی نظام کے استعمال میں بھی اضافہ متوقع ہے۔














