حکمران جماعت پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رکن پنجاب اسمبلی اور ممتاز کاروباری شخصیت ثاقب چدھڑ شدید مالیاتی اور قانونی بحران کی زد میں آ گئے ہیں۔
لاہور کے پوش علاقے تھانہ ڈیفنس اے میں ملزم کے خلاف کروڑوں روپے کے چیک ڈس آنر (باؤنس) ہونے کے مزید دو الگ الگ مقدمات درج کر لیے گئے ہیں، جس کے بعد ان کے خلاف صرف اسی ایک تھانے میں درج ہونے والے مالیاتی مقدمات کی کل تعداد بڑھ کر 3 ہو گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:اداکارہ مومنہ اقبال اور ایم پی اے ثاقب چدھڑ کے تنازعے میں اہم پیشرفت
پولیس سے حاصل ہونے والی ایف آئی آرز کی تفصیلات کے مطابق، مسلم لیگی ایم پی اے ثاقب چدھڑ پر کاروباری لین دین کے سلسلے میں مدعیان کو کروڑوں روپے کے بوگس چیک دینے کا سنگین الزام ہے۔
ان تینوں مقدمات کے متن کے مطابق ملزم کی جانب سے دیے گئے چیکس کی مجموعی مالیت 9 کروڑ روپے سے زیادہ بنتی ہے، جو بینک میں جمع کرائے جانے پر متعلقہ اکاؤنٹس میں فنڈز کی عدم دستیابی یا دیگر تکنیکی وجوہات کی بنا پر ڈس آنر (باؤنس) ہو گئے۔
پولیس نے تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 489-F (امانت میں خیانت اور بوگس چیک دینا) کے تحت باقاعدہ کارروائی کا آغاز کر دیا ہے۔
مزید پڑھیں:اداکارہ مومنہ اقبال ہراسانی کیس: ن لیگی ایم پی اے ثاقب چدھڑ کی عبوری ضمانت منظور
واضح رہے کہ ثاقب چدھڑ محض مقامی پولیس کی گرفت میں ہی نہیں ہیں، بلکہ ان کے خلاف وفاقی تفتیشی ادارے کی نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی میں بھی ایک الگ انکوائری اور مقدمہ زیرِ التوا ہے۔
ڈیفنس پولیس کا کہنا ہے کہ قانون کے مطابق رکنِ اسمبلی کو شاملِ تفتیش کیا جائے گا اور شواہد کی روشنی میں گرفتاری سمیت تمام قانونی تقاضے پورے کیے جائیں گے۔














