پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) خیبر پختونخوا میں اندرونی اختلافات اس وقت مزید شدت اختیار کر گئے جب صوبائی قیادت نے پارٹی کی سیاسی رابطہ کمیٹی کے اراکین کو ناراض اراکین سے رابطے سے روک دیا۔ اس معاملے پر سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور بھی سامنے آ گئے۔
پی ٹی آئی خیبرپختونخوا کے جنرل سیکریٹری علی اصغر خان کی جانب سے ایک ہدایت نامہ جاری کیا گیا، جس کے مطابق پی ٹی آئی خیبر پختونخوا کے صدر کی ہدایات کی روشنی میں پارلیمانی اور سیاسی رابطہ کمیٹی کے تمام اراکین ایسے کسی بھی رکن سے براہِ راست یا بالواسطہ رابطہ نہ رکھیں جس نے پارٹی کے اندرونی معاملات میڈیا میں اٹھائے ہوں، پارٹی پر دباؤ ڈالنے کی کوشش کی ہو یا پارٹی نظم و ضبط کو نقصان پہنچایا ہو۔
مزید پڑھیں: پی ٹی آئی میں اندرونی اختلافات: سہیل آفریدی کا لاہور دورہ کیوں منسوخ ہوا؟
صوبائی جنرل سیکریٹری کی جانب سے یہ ہدایت نامہ ایک ایسے وقت میں جاری کیا گیا جب پارٹی کے کچھ منتخب اراکین نے عمران خان کی عدم رہائی پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ وہ ہم خیال گروپ بنا کر صوبائی حکومت اور پارٹی پر دباؤ ڈال رہے ہیں، جبکہ خود کو ناراض اراکین قرار دیتے ہیں۔
ناراض اراکین نے باقاعدہ اجلاس بھی کیا اور پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر کو خط بھی لکھا، جس میں عمران خان کی رہائی کے لیے مؤثر اقدامات اٹھانے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ ان اراکین کا مؤقف ہے کہ ان کی تعداد 38 تک ہے اور خیبر پختونخوا کے علاوہ دیگر صوبوں کے اراکین بھی وقت آنے پر ان کا ساتھ دیں گے۔
علی امین گنڈاپور بھی ناراض اراکین کی حمایت میں سامنے آ گئے
پی ٹی آئی ذرائع کے مطابق صوبائی قیادت کی جانب سے ہدایت نامہ جاری کرنے اور پارٹی گروپ میں شیئر کرنے کے بعد پی ٹی آئی اراکین آمنے سامنے آ گئے اور ہدایت نامے اور قیادت کو تنقید کا نشانہ بنایا۔
ہدایت نامے پر سابق وزیراعلیٰ علی امین خان گنڈاپور نے بھی تنقید کی۔ ان کی ایک مبینہ آڈیو بھی سوشل میڈیا پر زیر گردش ہے۔ سابق اسپیکر خیبر پختونخوا اسمبلی مشتاق احمد غنی سمیت کئی سینیئر رہنماؤں نے بھی اس پر تنقید کی ہے۔ ان رہنماؤں کے مبینہ آڈیو پیغامات بھی سوشل میڈیا پر گردش کررہے ہیں۔
اس مبینہ آڈیو کلپ میں سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور پارٹی قیادت پر تنقید کرتے ہوئے سنائی دیتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ سیاسی جماعتیں اس انداز میں نہیں چلائی جاتیں۔
انہوں نے یاد دلایا کہ موجودہ صوبائی صدر بھی ماضی میں پارٹی اور حکومت کے خلاف بیانات دیتے رہے ہیں۔ وہ آڈیو میں کہتے ہیں کہ موجودہ وزرا نے اسمبلی فلور پر ان کی کابینہ کے اراکین پر الزامات لگائے تھے۔
انہوں نے کہاکہ آمریت کے انداز میں معاملات چلانے سے پارٹی کو فائدہ نہیں ہوگا بلکہ صورتحال مزید خراب ہوگی۔
علی امین اور سہیل آفریدی کے درمیان اختلافات کی خبریں پہلے بھی سامنے آتی رہی ہیں، لیکن یہ پہلی بار ہے کہ وہ کھل کر ناراض اراکین کے حق میں بولے اور قیادت پر تنقید کی۔
پارٹی ذرائع کے مطابق علی امین کبھی کبھار پارٹی معاملات پر اظہارِ خیال کرتے ہیں، لیکن پارٹی میں الگ گروپ بنانے والوں کی حمایت میں پہلی بار بولے ہیں، جس سے تاثر پیدا ہوگیا ہے کہ اس گروپ کے پس پردہ علی امین گنڈاپور ہیں۔
ناراض اراکین کا کیا مؤقف ہے؟
سابق اسپیکر مشتاق احمد غنی، جو ناراض گروپ میں شامل ہیں اور کھل کر میدان میں بھی آئے ہیں، انہوں نے بھی اس ہدایت نامے پر تنقید کی ہے۔ ان کا ایک مبینہ آڈیو کلپ بھی سوشل میڈیا پر وائرل ہے، جس میں وہ الزامات اور پارٹی نظم و ضبط کی خلاف ورزی کی تردید کرتے ہیں۔
انہوں نے اپنے پیغام میں سوال اٹھایا ہے کہ موجودہ قیادت بتائے کہ عمران خان کی رہائی کے لیے اب تک کیا کِیا گیا ہے اور آئندہ کے لیے کیا حکمت عملی ہے۔
انہوں نے کہاکہ ان کا واحد جرم عمران خان کا نام لینا ہے، جو موجودہ قیادت نہیں لے سکتی۔
پی ٹی آئی کے ناراض رکن فضل الٰہی کا کہنا ہے کہ وہ کسی سے ناراض نہیں ہیں بلکہ ان کا ایک ہی مطالبہ ہے، اور وہ ہے عمران خان کی رہائی۔
انہوں نے کہا کہ موجودہ قیادت اس حوالے سے کچھ نہیں کر رہی۔ اس لیے جو بھی عمران خان کے لیے آگے آئے گا، ہم اس کا ساتھ دیں گے۔
سہیل آفریدی مشکل میں ہیں، تجزیہ کاروں کی رائے
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق پی ٹی آئی میں اس وقت جو کچھ ہو رہا ہے، وہ سہیل آفریدی کے خلاف ہو رہا ہے۔ ان کے مطابق عمران خان سہیل آفریدی کے دور میں جیل نہیں گئے تھے، لیکن اراکین اسی دور میں اچانک سامنے آئے ہیں۔
صحافی کامران علی کا ماننا ہے کہ اصل ایشو عمران خان کی رہائی نہیں بلکہ کابینہ میں شامل نہ ہونا ہے، جس کی وجہ سے بیشتر اراکین ناراض ہیں اور اب کھل کر سہیل آفریدی کو نشانہ بنا رہے ہیں۔
انہوں نے کہاکہ بجٹ کے وقت ناراض اراکین عمران خان کے نام پر سہیل آفریدی پر دباؤ ڈال رہے ہیں اور عمران خان کے نام پر کارکنوں کی ہمدردی بھی حاصل کر سکتے ہیں۔
انہوں نے کہاکہ بالکل سہیل آفریدی مشکل میں ہیں اور ان کی پریشانی بڑھ گئی ہے۔
کامران علی نے کہاکہ 35 اراکین کے حوالے سے بتایا جا رہا ہے کہ وہ ناراض ہیں، اور اگر اس میں حقیقت ہے تو سہیل آفریدی کی حکومت کو بھی خطرہ ہو سکتا ہے اور بجٹ پاس کرنا بھی مشکل ہوگا۔
صحافی محمد فہیم نے سوال اٹھایا کہ سہیل آفریدی کہہ رہے تھے کہ ایک یا دو ناراض اراکین سامنے آئے ہیں، لیکن اب تو 5 سے بھی زیادہ اراکین سامنے آ چکے ہیں۔
نوجوان صحافی شہاب الرحمان کا کہنا ہے کہ اصل کھیل کرسی کا ہے اور عمران خان کی کسی کو پرواہ نہیں۔
مزید پڑھیں: پی ٹی آئی میں اندرونی اختلافات شدت اختیار کر گئے، قیادت میں تبدیلی کی قیاس آرائیاں
انہوں نے کہاکہ اب اچانک ناراض اراکین کو کرپشن نظر آنے لگی ہے اور ترقیاتی کام نہ ہونے کا شکوہ بھی ہے، لیکن یہ پہلے کہاں تھے؟
انہوں نے کہاکہ اس وقت سہیل آفریدی پر دباؤ ہے اور وہ بجٹ میں ترقیاتی منصوبوں کے ذریعے ان اراکین کو رام کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔













