وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے کہا ہے کہ مشکل معاشی حالات میں حکومت سنبھالنے کے بعد وزیراعظم شہباز شریف نے ریاست کو بچانے کے عزم کا اظہار کیا، جسے تاریخ یاد رکھے گی۔
وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا تارڑ نے قومی اسمبلی اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ مسلم لیگ (ن) نے ایسے وقت میں اقتدار سنبھالا جب ملک کو شدید معاشی چیلنجز کا سامنا تھا۔ انہوں نے کہا کہ تاریخ اس اقدام کو یاد رکھے گی جب وزیراعظم شہباز شریف نے یہ مؤقف اختیار کیا کہ ریاست کو بچانا اولین ترجیح ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے مشکل حالات میں معاشی استحکام کے لیے اقدامات کیے۔
یہ بھی پڑھیں:گرین جرنلزم ماحولیاتی شعور اور کلائمیٹ جسٹس کے فروغ کا مؤثر ذریعہ ہے، عطا تارڑ
عطا تارڑ نے کہا کہ حکومت نے اپوزیشن میں بھی میثاق جمہوریت کی بات کی اور اقتدار میں آنے کے بعد بھی اسی سوچ کو آگے بڑھایا۔ انہوں نے اپوزیشن ارکان کی جانب سے دی گئی تجاویز کو بھی سراہا۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ معاشی استحکام فوری طور پر حاصل نہیں ہوتا، تاہم آج ملک میں میکرو اکنامک استحکام آیا ہے جسے تسلیم کرنا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر شرح سود 22 فیصد پر برقرار رہتی تو معیشت کو مزید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا۔
انہوں نے ایف بی آر میں اصلاحات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ٹیکس نظام میں بہتری کے اقدامات کیے گئے، شوگر انڈسٹری سے 60 ارب روپے وصول کیے گئے جبکہ گزشتہ سال ایف بی آر نے 800 ارب روپے کی ریکوری کی۔ انہوں نے کہا کہ کسٹمز کلیئرنس کے عمل کو بھی فیس لیس نظام کے ذریعے بہتر بنایا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:پاکستان کیخلاف وہ عناصر مہم چلا رہے ہیں جنہیں قیام امن میں ہمارا کردارتسلیم نہیں، وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ
عطا تارڑ نے کہا کہ بجٹ میں غریب طبقے پر اضافی بوجھ نہیں ڈالا گیا، تنخواہ دار طبقے کو ریلیف دیا گیا جبکہ ہاؤسنگ سیکٹر اور ایکسپورٹرز کے لیے بھی اقدامات کیے گئے۔ انہوں نے کہا کہ تمام شعبوں سے مشاورت کے بعد بجٹ تیار کیا گیا، معیشت درست سمت میں گامزن ہے اور پاکستان عالمی سطح پر امن کے لیے اپنا کردار ادا کر رہا ہے۔
وزیر اطلاعات نے مزید کہا کہ بجٹ پر تنقید اپوزیشن کا حق ہے، تاہم مثبت اقدامات کی تعریف بھی ہونی چاہیے۔













