امریکا اور ایران کے درمیان طے پانے والے امن معاہدے کے بعد پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں پیر کے روز کاروبار کے آغاز پر زبردست خریداری کا رجحان ریکارڈ کیا گیا۔
جس کے نتیجے میں بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس ابتدائی کاروباری اوقات میں میں تقریباً 4,400 پوائنٹس بڑھ گیا۔
صبح 9 بج کر 35 منٹ پر کے ایس ای 100 انڈیکس 4,367 پوائنٹس یعنی 2.53 فیصد اضافے کے ساتھ 176,767.01 پوائنٹس پر ٹریڈ کر رہا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: اقتصادی سروے کے اثرات، پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں تیزی، انڈیکس مثبت زون میں بند
مارکیٹ میں تقریباً تمام اہم شعبوں میں خریداری کا رجحان دیکھا گیا، جن میں کمرشل بینک، کھاد، سیمنٹ، تیل و گیس کی تلاش کرنے والی کمپنیاں، آئل مارکیٹنگ کمپنیاں اور ریفائنری سیکٹر شامل ہیں۔
ڈی جی خان سیمنٹ، لکی سیمنٹ، حبیب بینک، مسلم کمرشل بینک، میزان بینک، ماری پیٹرولیم، او جی ڈی سی ایل، پاکستان پیٹرولیم لمیٹڈ، پاکستان آئل فیلڈز اور حبکو جیسے انڈیکس پر نمایاں اثر رکھنے والے شیئرز سبز زون میں کاروبار کرتے رہے۔
گزشتہ ہفتے بھی شدید اتار چڑھاؤ کے باوجود کے ایس ای-100 انڈیکس میں 1.1 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا تھا، اس دوران انڈیکس مختصر وقت کے لیے 170,000 پوائنٹس کی اہم نفسیاتی حد سے نیچے بھی آیا۔
PSX Opened Positive 🚀
☀️ KSE 100 opened positive by +3589.53 points this morning. Current index is at 175,989.43 points (9:45 AM) pic.twitter.com/r357bhU4aC— Investify Pakistan (@investifypk) June 15, 2026
تاہم امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی میں کمی اور عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں کمی سے سرمایہ کاروں کے اعتماد میں بہتری آئی اور خطرات مول لینے کا رجحان دوبارہ بڑھا۔
ہفتہ وار بنیادوں پر کے ایس ای 100 انڈیکس 1,921 پوائنٹس یعنی 1.13 فیصد اضافے کے ساتھ 172,399.90 پوائنٹس پر بند ہوا تھا۔
دوسری جانب وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے جمعہ کو مالی سال 27-2026 کا وفاقی بجٹ پیش کیا، جس میں حکومت نے 4 فیصد اقتصادی ترقی اور 8.2 فیصد مہنگائی کی شرح کا ہدف مقرر کیا ہے۔
مزید پڑھیں: اسٹاک ایکسچینج نے مندی کا رجحان پلٹ دیا، انڈیکس 1 لاکھ 69 ہزار 972 پوائنٹس تک پہنچ گیا
امریکا اور ایران کے درمیان ابتدائی نوعیت کے امن معاہدے کی خبروں کے بعد پیر کو ایشیائی شیئر بازاروں میں بھی نمایاں تیزی دیکھی گئی، جبکہ امریکی ڈالر کمزور ہوا اور تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی آئی۔
ماہرین کے مطابق یہ پیش رفت عالمی سطح پر مہنگائی کے دباؤ میں کمی اور شرح سود میں اضافے کی ضرورت کم ہونے کا باعث بن سکتی ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے پیر کی صبح سوشل میڈیا پر معاہدے کی تصدیق کی، جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ معاہدے میں آبنائے ہرمز کو کھولنے کا معاملہ بھی شامل ہے.

ادھر ایران نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز سے جہازوں کی آمدورفت ایران اور عمان کے مشترکہ ضابطوں کے تحت چلائی جائے گی، جس سے عالمی تجارتی سرگرمیوں پر بعض نئے انتظامات کے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
اس پیش رفت سے اس ہفتے اجلاس کرنے والے مرکزی بینکوں کو بھی ریلیف ملنے کی توقع ہے، کیونکہ توانائی کی قیمتوں کے باعث مہنگائی بڑھنے کے خدشات میں کمی آئے گی۔
مزید پڑھیں: اسٹاک ایکسچینج نے مندی کا رجحان پلٹ دیا، انڈیکس 1 لاکھ 69 ہزار 972 پوائنٹس تک پہنچ گیا
مارکیٹیں پہلے ہی ممکنہ معاہدے کو بڑی حد تک قیمتوں میں شامل کر چکی تھیں، تاہم باضابطہ تصدیق کے بعد برینٹ خام تیل کی قیمت 4 فیصد کمی کے ساتھ 83.80 ڈالر فی بیرل تک گر گئی، جو مئی میں ریکارڈ کیے گئے 126.41 ڈالر فی بیرل کی بلند ترین سطح سے کافی کم ہے۔
اسی طرح امریکی خام تیل 4.7 فیصد کمی کے بعد 80.89 ڈالر فی بیرل پر آگیا ہے، اگرچہ یہ جنگ شروع ہونے سے قبل کی 67 ڈالر فی بیرل سطح سے اب بھی بلند ہے۔













