پی سی بی نے مرکزی کنٹریکٹس کے نظام میں بڑی تبدیلیاں کر دیں، فارمیٹ کے لحاظ سے نئی درجہ بندی متعارف

پیر 15 جون 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے مرکزی کنٹریکٹس کے نظام میں اہم تبدیلیوں کا اعلان کرتے ہوئے پہلی مرتبہ فارمیٹ کے لحاظ سے الگ درجہ بندی متعارف کرا دی ہے جبکہ طویل عرصے سے رائج یک ہی نظام سب کے لیے پالیسی کو ختم کر دیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: پی سی بی کا بڑا فیصلہ: کھلاڑیوں کے 85 فیصد سنٹرل کنٹریکٹ کارکردگی کی بنیاد پر ہوں گے

پی سی بی چیئرمین محسن نقوی نے لاہور میں پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ بورڈ اب زیادہ شفاف اور اعداد و شمار پر مبنی مرکزی کنٹریکٹس کے نظام کی جانب بڑھ رہا ہے جہاں کھلاڑیوں کی فٹنس، ڈومیسٹک کرکٹ میں کارکردگی اور مختلف فارمیٹس کی ضروریات کو مدنظر رکھ کر فیصلے کیے جائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کرکٹ کو بہتر بنانے اور کنٹریکٹس کے عمل میں شفافیت لانے کے لیے سلیکشن کمیٹی کے پاس کافی کام موجود ہے۔

محسن نقوی نے کہا کہ اگر سابقہ نظام کئی دہائیوں سے چل رہا تھا تو انہیں اس کا علم نہیں تھا تاہم اب بورڈ گزشتہ برسوں کی کارکردگی کا تفصیلی جائزہ لے رہا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ پی سی بی اس بات کا جائزہ لے رہا ہے کہ گزشتہ 5 برسوں کے دوران کن کھلاڑیوں نے ٹیسٹ اور ڈومیسٹک کرکٹ میں حصہ لیا تاکہ مرکزی کنٹریکٹس کے فیصلے زیادہ متوازن اور منصفانہ بنائے جا سکیں۔

مزید پڑھیے: یونس خان اور محمد حفیظ کو پی سی بی میں اہم عہدے ملنے کا امکان، شان مسعود کو ٹیسٹ کپتانی سے ہٹانے کا فیصلہ

چیئرمین پی سی بی نے واضح کیا کہ نئے ماڈل کو مصنوعی ذہانت یا اے آئی سے نہ جوڑا جائے بلکہ اسے جدید اور منظم نظام کے طور پر دیکھا جائے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کرکٹ کی بہتری بورڈ کی ذمہ داری ہے اور یہ حقیقت ہے کہ قومی ٹیم دوطرفہ سیریز میں بہتر کارکردگی دکھاتی ہے لیکن بڑے ٹورنامنٹس میں توقعات پر پوری نہیں اترتی۔

محسن نقوی نے کہا کہ ہماری ٹیم سیریز میں بہتر کھیلتی ہے لیکن ٹورنامنٹس میں کارکردگی متاثر ہو جاتی ہے اس مسئلے پر اب باقاعدہ کام کیا جا رہا ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ وہ یونس خان سمیت متعدد سابق کرکٹرز سے رابطے میں ہیں اور کھیل کی بہتری کے لیے تمام اسٹیک ہولڈرز کی رائے لی جائے گی۔

محسن نقوی کے مطابق ماضی میں مرکزی کنٹریکٹس کے حوالے سے اکثر تنازعات جنم لیتے تھے اور سوال اٹھائے جاتے تھے کہ کسی کھلاڑی کو کیٹیگری بی میں کیوں رکھا گیا اور کسی کو کیٹیگری سی میں کیوں۔

انہوں نے کہا کہ نئے نظام کے تحت مرکزی کنٹریکٹس کا تقریباً 85 فیصد حصہ کمپیوٹرائزڈ ڈیٹا کی بنیاد پر طے کیا جائے گا جبکہ ڈومیسٹک کرکٹ کے اعداد و شمار کو بھی شامل کیا گیا ہے تاکہ فیصلے کارکردگی کے مطابق اور زیادہ شفاف ہوں۔

پی سی بی کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ چیئرمین محسن نقوی کی قیادت میں مرکزی کنٹریکٹس کے نظام میں نمایاں اصلاحات متعارف کرائی گئی ہیں جو بین الاقوامی کرکٹ کی بدلتی ہوئی ضروریات کے مطابق ہیں۔

مزید پڑھیں: پی سی بی کا او ٹی ٹی پلیٹ فارم متحرک، قومی کرکٹرز کی خصوصی ویڈیوز جاری

بورڈ کے مطابق جدید کرکٹ میں ٹیسٹ اور ٹی20 کرکٹرز کی کارکردگی، ذمہ داریوں اور تقاضوں میں واضح فرق آ چکا ہے، اس لیے دونوں فارمیٹس کے کھلاڑیوں کا ایک ہی پیمانے پر جائزہ لینا اب مؤثر نہیں رہا۔

پی سی بی کا کہنا ہے کہ نیا ماڈل ہر فارمیٹ کی الگ شناخت اور اہمیت کو تسلیم کرتا ہے اور ٹیسٹ، ون ڈے اور ٹی20 کرکٹ میں مہارت رکھنے والے کھلاڑیوں کی مخصوص ضروریات اور کردار کو مدنظر رکھتا ہے۔

یہ بھی پڑھیے: چئیرمین پی سی بی محسن نقوی نے سلیکشن کمیٹی کو مکمل فری ہینڈ دیدیا

بیان میں مزید کہا گیا کہ دنیا کے بیشتر کرکٹ بورڈز اب بھی تمام کھلاڑیوں کو ایک ہی درجہ بندی کے نظام میں رکھتے ہیں جہاں ایک ٹیسٹ اسپیشلسٹ اور ایک ٹی20 فرنچائز اسٹار ایک ہی گریڈ کے لیے مقابلہ کرتے ہیں تاہم پی سی بی نے ایک ایسا ماڈل متعارف کرانے کا فیصلہ کیا ہے جو ہر فارمیٹ کی الگ ترجیحات اور تقاضوں کو تسلیم کرتا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp