ایران امریکا فریم ورک معاہدہ کیا ہے اور آئندہ ہونے والے تکنیکی مذاکرات میں کیا طے ہو گا؟

منگل 16 جون 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاکستان کی کوششوں کے ذریعے امریکا اور ایران بالآخر امن معاہدے پر متفق ہو گئے ہیں اور اس معاہدے پر دستخط کرنے کی تقریب پاکستان کی میزبانی میں 19 جون کو سوئٹزرلینڈ کے شہر جنیوا میں ہو گی۔

اِمکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ دستخط کی تقریب میں پاکستان کی سینئر قیادت شریک ہوگی لیکن اس تقریب اور معاہدے کی کامیابی کے لیے پاکستان دوسرے شراکت دار ملکوں کے ساتھ مل کر ایران اور امریکا کے مابین تکنیکی مذاکرات کے کئی اداوار منعقد کروانے کے لیے بھی کام کر رہا ہے۔

مزید پڑھیں: ایران اور امریکا کے درمیان جنگ کے خاتمے پر اتفاق، معاہدہ امریکا کی جانب سے مکمل ہو چکا ہے، ڈونلڈ ٹرمپ

ان تکنیکی مذاکرات کے دوران ان تمام امور پر تفصیلی بات چیت کی جائے گی جن پر دونوں فریقین کے اختلافات رہے ہیں اور جن کے مختلف پہلووں پر ان کی رضامندی کی ضرورت ہے تا کہ امن معاہدے کو دیر پا اور کامیاب بنایا جا سکے۔

بتایا جا رہا ہے کہ دستخط کی تقریب میں وزیراعظم شہباز شریف، نائب وزیراعظم و وزیرخارجہ اسحاق ڈار، چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر شرکت کریں گے اور اِس کے علاوہ وزیراعظم کے مشیر برائے اُمور خارجہ طارق فاطمی اور وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کی شرکت بھی متوقع ہے۔

وزیراعظم پاکستان شہباز شریف نے قومی اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے بتایا کہ 3 مہینے اور 16 دن کی اس محنت کے بعد اِس معاہدے پر دستخط جنیوا میں ہوں گے جس کی میزبانی پاکستان کرے گا۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ پاکستانی حکومت کے مطابق جنیوا صرف دستخط کی جگہ فراہم کر رہا ہے جبکہ معاہدے کی تشکیل اور فریقین کو مذاکرات کی میز تک لانے میں پاکستان کا کردار برقرار ہے۔

اسی لیے بعض مبصرین اس عمل کو ’اسلام آباد سے جنیوا تک کا سفارتی سفر‘ قرار دے رہے ہیں۔ 28 فروری سے شروع ہونے والی یہ جنگ بعض مواقع پر دُنیا کا امن ملیامیٹ کرتی نظر آئی نہ صرف امن بلکہ دُنیا کی معیشت اس سے شدید متاثر ہوئی۔ آبنائے ہرمز سے توانائی کی ترسیل منقطع ہونے پر پوری دُنیا خصوصاً جنوب ایشیائی ممالک میں تیل و گیس کا شدید بحران رہا۔
اِس معاہدے کی کامیابی پر جہاں دُنیا بھر کی بڑی طاقتیں بشمول امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، یورپی یونین اور ایشیا پیسیفک کے ممالک پاکستان کی تعریفیں کر رہے ہیں وہیں بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے اس خبر کے قریباً 24 گھنٹے گزرنے کے بعد معاہدے کو خوش آئند قرار دیا لیکن پاکستان کا نام لینا مناسب نہیں سمجھا۔

یہ ایک ابتدائی فریم ورک معاہدہ ہے جس کے بعد اس پر تفصیلی گفت و شنید کے بعد حتمی معاہدہ سامنے آئے گا۔ یہ ایک فریم ورک معاہدہ ہے تو جانتے ہیں کہ فریم ورک معاہدہ کیا ہوتا ہے۔

فریم ورک معاہدہ کیا ہوتا ہے؟

ورک معاہدہ کا مطلب ہے کہ فریقین نے بنیادی اصولوں اور مقاصد پر اتفاق کر لیا ہے، تاہم تنازعے کے تمام تفصیلی اور پیچیدہ معاملات ابھی حل نہیں ہوئے۔ سفارتی زبان میں فریم ورک معاہدہ ایک ایسے لائحہ عمل کو کہا جاتا ہے جس میں یہ طے کیا جاتا ہے کہ کن امور پر اتفاق ہو چکا ہے اور کن معاملات پر آئندہ مذاکرات کے ذریعے حتمی فیصلے کیے جائیں گے۔ دوسرے لفظوں میں یہ مکمل امن معاہدہ نہیں بلکہ اس کی جانب پہلا اور اہم قدم ہوتا ہے۔
موجودہ امریکا ایران فریم ورک کے تحت دونوں ممالک جنگ بندی، کشیدگی میں کمی اور مذاکرات کے تسلسل پر متفق ہوئے ہیں، لیکن جوہری پروگرام، اقتصادی پابندیوں، منجمد اثاثوں اور علاقائی سلامتی جیسے حساس معاملات کو بعد کی بات چیت کے لیے چھوڑ دیا گیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ماہرین اس معاہدے کو اختتام نہیں بلکہ ایک نئے مذاکراتی مرحلے کا آغاز قرار دے رہے ہیں۔

مزید پڑھیں: امریکا ایران تاریخی امن معاہدہ : کشیدگی کے دوران کب کیا ہوا؟

تکنیکی مذاکرات میں کیا چیزیں طے کی جائیں گی؟

آئندہ ہفتوں میں ہونے والے تکنیکی مذاکرات کا سب سے اہم موضوع ایران کا جوہری پروگرام ہوگا۔

ایک اور اہم مسئلہ آئی اے ای اے جیسے بین الاقوامی نگرانی کا ہے۔ فریقین کو یہ طے کرنا ہے کہ آئی اے ای اےکس حد تک ایرانی تنصیبات کا معائنہ کر سکے گی، معائنے کی نوعیت کیا ہوگی اور نگرانی کے کون سے طریقہ کار اختیار کئے جائیں گے۔

ایران پر اقتصادی پابندیوں کا معاملہ بھی مذاکرات کا اہم حصہ ہوگا۔ ایران برسوں سے امریکی پابندیوں کے باعث شدید معاشی دباؤ کا شکار ہے اور تہران کی خواہش ہے کہ تیل کی برآمدات، بینکاری نظام اور بین الاقوامی تجارت پر عائد پابندیاں ختم کی جائیں۔

دوسری جانب امریکا پابندیوں میں نرمی کو ایرانی اقدامات سے مشروط رکھنا چاہتا ہے۔ اس لئے آئندہ مذاکرات میں یہ طے کیا جا سکتا ہے کہ پابندیاں کس مرحلے پر اور کس رفتار سے ختم ہوں گی۔

آبنائے ہرمز سے متعلق معاملات بھی زیرِ غور آئیں گے۔ دنیا کی توانائی سپلائی کے لیے اہم سمجھی جانے والی آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کی آزادی، بحری سلامتی کے انتظامات اور کسی ممکنہ بحران کی صورت میں رابطے کے طریقہ کار پر بھی تفصیلی بات چیت متوقع ہے۔

لبنان میں جنگ بندی بھی تکنیکی مذاکرات کا حصہ ہو گی۔ یہ بات چیت زیادہ مُشکل ہو گی کیونکہ اسرائیل نے اعلان کیا ہے کہ وہ لبنان کے مقبوضہ حصے خالی نہیں کرے گا لیکن حزب اللہ اگر جنگ بندی پر عمل کرے گی تو وہ جنگ بندی برقرار رکھے گا۔

موجودہ فریم ورک معاہدہ صرف اس بات کی ضمانت دیتا ہے کہ امریکا اور ایران تنازعے کے حل کے لیے مذاکرات جاری رکھیں گے۔ اصل امتحان اب تکنیکی مذاکرات کا ہے، جہاں یہ طے ہوگا کہ جوہری پروگرام، پابندیوں اور علاقائی سلامتی کے پیچیدہ مسائل کو کس طرح حل کیا جائے۔ اگر فریقین ان معاملات پر اتفاق رائے پیدا کرنے میں کامیاب ہو گئے تو موجودہ فریم ورک ایک جامع اور دیرپا امن معاہدے کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔

پاکستان کے نامور بین الاقوامی اُمور کے تجزیہ نگار مشاہد حسین سید نے اپنے ایکس اکاؤنٹ پر لکھا کہ امریکا اور ایران کے درمیان امن کے قیام میں سہولتکاری کرتے ہوئے پاکستان کا کلیدی کردار ادا کرنا ایک عظیم سفارتی کامیابی ہے۔ اِس دور کے سب سے اہم اور دور رس اثرات رکھنے والے تنازعات میں سے ایک کے خاتمے میں پاکستان کی یہ کوشش قابلِ تحسین ہے۔ یہ بھی خوش آئند ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکا اور اسرائیل میں موجود جنگ پسند عناصر اور سخت گیر حلقوں کے دباؤ کو مسترد کرتے ہوئے اس غیر ضروری جنگ کو ختم کرنے کا فیصلہ کیا۔

مزید پڑھیں:ایران امریکا معاہدہ: ایلومینیم کی قیمتیں 2 ماہ کی کم ترین سطح پر پہنچ گئیں

یورپی یونین کی ہائی ریپریزینٹیٹو اور نائب صدر کایا کالاس نے اپنے ٹویٹ میں کہا کہ ’امریکا اور ایران ڈیل کے ذریعے جنگ ختم کرنے اور آبنائے ہرمز کو کھولنے پر رضامند ہو گئے ہیں۔ یہ ایک بہت بڑا بریک تھرو ہے۔ یہ ایران کے جوہری پروگرام اور دیگر ضروری مسائل پر مذاکرات کے لیے وہ وقفہ مہیّا کرے گا جس کی بہت زیادہ ضرورت تھی۔ ایک دفعہ نافذالعمل ہونے کے بعد یہ ڈیل عالمی توانائی بحران میں کشائش پیدا کرے گی۔ میں نے اپنے ایرانی اور خلیجی ہم منصبوں سے حالیہ دِنوں میں گفتگو کی ہے، اور آج یورپیئن وزرائے خارجہ اس بات پر گفتگو کریں گے کہ ہم اگلے مرحلے کا کس طرح سے حصہ بن سکتے ہیں۔ معاشی برتری، جوہری مہارت و قابلیت اور خلیجی ممالک کے ساتھ اپنے دیرینہ تعلقات کے تناظر میں یورپ کسی بھی پائیدار حل کے تیار ہے‘۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

پاکستان مزید عالمی بانڈز جاری کرنے کی تیاری میں، ایران معاہدے سے معیشت کو بہتری کی امید، وزیر خزانہ

کیا بشریٰ انصاری نے خوبصورتی کے لیے لپ فلرز کروائے؟ اصل حقیقت سامنے آگئی

ایران امریکا معاہدے کے باوجود عالمی معیشت کو چیلنجز درپیش، آئی ایم ایف کا انتباہ

غلافِ کعبہ تبدیل، نئے غلاف میں کیا خاص ہے؟

کیا ٹیلر سوئفٹ اور ٹریوس کیلسی کی شادی کی تاریخ طے ہو گئی؟ نیویارک میئر ظہران ممدانی کا بیان زیرِ بحث

ویڈیو

امریکا اور ایران کے درمیان معاملات طے، بلوچستان کے کاروبار پر اس کے کیا اثرات ہوں گے؟

پی ٹی آئی کے اندرونی اختلافات، نقصان عوام کا کیسے؟

بجٹ27-2026: قائمہ کمیٹیوں نے ایف بی آر کے اہداف، نئے ٹیکسوں اور ریٹیلر اسکیم پر تحفظات ظاہر کردیے

کالم / تجزیہ

تاریخ کا رخ موڑنے والا ایک نیا اور سرخرو پاکستان

پنجاب کا حق، ایتھے رکھ

سرحدوں سے ماورا یاری: سید بابر علی اور ہرچرن سنگھ