شدید گرمی اور پانی کی کمی: مہمند کے کسان موسمیاتی تبدیلی کی بڑھتی قیمت چکا رہے ہیں

پیر 16 مارچ 2026
author image

رضوان مہمند

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

خیبر پختونخوا کے ضلع مہمند میں زرعی شعبہ تیزی سے بدلتی ہوئی موسمی صورتحال، بڑھتے درجہ حرارت اور پانی کی کمی کے باعث شدید دباؤ کا شکار ہے۔ وہ خطہ جو کبھی سبزیوں، نقد آور فصلوں اور چھوٹے پیمانے کی زرعی معیشت کے لیے جانا جاتا تھا، اب کسانوں کے لیے معاشی مشکلات اور غیر یقینی مستقبل کی علامت بنتا جا رہا ہے۔

ماحولیاتی ماہرین اور عالمی اداروں جیسے بین الحکومتی پینل برائے موسمیاتی تبدیلی (IPCC) اور پاکستان کی وزارتِ موسمیاتی تبدیلی کی رپورٹس کے مطابق جنوبی ایشیا دنیا کے ان خطوں میں شامل ہے جو موسمیاتی تبدیلی سے سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں۔ پاکستان میں اوسط درجہ حرارت گزشتہ چند دہائیوں میں مسلسل بڑھ رہا ہے، جبکہ بارشوں کے پیٹرن میں غیر یقینی صورتحال نے زرعی نظام کو مزید غیر مستحکم کر دیا ہے۔

پاکستان ایگریکلچرل ریسرچ کونسل (PARC)، CIMMYT اور ورلڈ بینک کے مختلف تجزیاتی مطالعات کے مطابق پاکستان میں گندم اور مکئی جیسی اہم فصلوں کی پیداوار میں موسمیاتی دباؤ کے باعث بعض علاقوں میں 10 سے 30 فیصد تک کمی کے اثرات دیکھے گئے ہیں، خاص طور پر وہ علاقے جہاں آبپاشی کا نظام محدود اور بارشوں پر انحصار زیادہ ہے۔

مہمند میں زرعی زندگی کیسے بدلی؟

مہمند کے دیہی علاقوں میں کسانوں کا کہنا ہے کہ چند سال پہلے تک صورتحال مختلف تھی۔ بارشیں نسبتاً بہتر تھیں، زیرِ زمین پانی کی سطح زیادہ تھی اور کھیتوں کو سیراب کرنے میں زیادہ مشکلات نہیں تھیں۔ لیکن اب گرمی کی شدت میں اضافہ اور پانی کی کمی نے زرعی سرگرمیوں کو محدود کر دیا ہے۔

40 سالہ کسان محمد بشیر جس کا تعلق ضلع مہمند کی تحصیل حلئمزئی سے ہے بتاتے ہیں کہ تقریباً آٹھ سے نو سال پہلے ان کے کھیتوں سے سبزیاں وافر مقدار میں پیدا ہوتی تھیں۔ وہ ٹماٹر، دھنیا، مرچ اور دیگر سبزیاں کاشت کرتے تھے، جن سے نہ صرف گھر کے اخراجات پورے ہوتے تھے بلکہ اضافی آمدن بھی حاصل ہوتی تھی۔ ان کے مطابق اُس وقت پانی کی دستیابی بہتر تھی اور آبپاشی میں کوئی بڑی رکاوٹ نہیں تھی۔

محمد بشیر کے مطابق اس دور میں وہ نہ صرف خود کھیتوں میں کام کرتے تھے بلکہ تین سے چار مزدوروں کو بھی روزگار دیتے تھے۔ تاہم اب پیداوار میں نمایاں کمی آ چکی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ بڑھتی گرمی، کم بارشیں اور پانی کی کمی نے زرعی نظام کو بری طرح متاثر کیا ہے، جس سے آمدن کم اور اخراجات زیادہ ہو گئے ہیں۔

پانی کی کمی اور محدود کاشت کاری

اسی علاقے کے ایک اور کسان 45 سالہ شیر رحمان کے مطابق پانی کی صورتحال مکمل طور پر بدل چکی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ پہلے آبپاشی کے لیے پانی باقاعدگی سے دستیاب ہوتا تھا، لیکن اب صورتحال یہ ہے کہ پانی صرف گھریلو ضروریات تک محدود ہو گیا ہے۔

وہ بتاتے ہیں کہ پہلے وہ وسیع پیمانے پر مختلف فصلیں اگاتے تھے، لیکن اب انہیں اپنی کاشت کاری کم کرنی پڑی ہے۔ محدود پانی کی وجہ سے زرعی رقبہ بھی کم ہو گیا ہے اور پیداوار میں واضح کمی آئی ہے۔ ان کے مطابق اس تبدیلی نے دیہی معیشت کو براہ راست متاثر کیا ہے کیونکہ زراعت سے حاصل ہونے والی آمدن پہلے کے مقابلے میں بہت کم ہو گئی ہے۔

شیر رحمان کے مطابق مالی دباؤ اس قدر بڑھ چکا ہے کہ اب انہیں گھر کے اخراجات پورے کرنے میں بھی مشکلات کا سامنا ہے، جبکہ پہلے یہی زمین ان کے لیے آمدن کا بنیادی ذریعہ تھی۔

محکمہ موسمیات اور ماحولیاتی ماہرین کیا کہتے ہیں؟

محکمہ موسمیات پاکستان (PMD) کے مطابق گزشتہ ایک دہائی کے دوران ملک کے شمالی اور مغربی علاقوں میں درجہ حرارت میں واضح اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ بعض سالوں میں شدید گرمی کی لہریں (heatwaves)  معمول سے زیادہ دیر تک برقرار رہیں، جس سے زرعی سیزن متاثر ہوا۔

ماہرین کے مطابق درجہ حرارت میں یہ اضافہ صرف انسانی صحت یا روزمرہ زندگی کو نہیں بلکہ براہ راست زرعی پیداوار کو بھی متاثر کرتا ہے، کیونکہ فصلوں کی نشوونما مخصوص درجہ حرارت اور پانی کی دستیابی پر منحصر ہوتی ہے۔ بارشوں کے غیر متوقع پیٹرن نے زیرِ زمین پانی کے ریچارج کو بھی متاثر کیا ہے، جس کے نتیجے میں ٹیوب ویل اور کنوؤں پر دباؤ بڑھا ہے۔

زرعی پیداوار اور معاشی اثرات

زرعی ماہرین کے مطابق خیبر پختونخوا میں چھوٹے کسان سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں کیونکہ ان کے پاس جدید آبپاشی نظام اور متبادل ذرائع کی کمی ہے۔ PARC اور دیگر تحقیقی اداروں کے مطابق پاکستان میں غیر یقینی موسمی حالات نے فصلوں کی پیداوار میں واضح اتار چڑھاؤ پیدا کیا ہے، اور بعض علاقوں میں مجموعی پیداوار میں 10 سے 30 فیصد تک کمی کے اثرات رپورٹ کیے گئے ہیں۔

اس کمی کا اثر صرف پیداوار تک محدود نہیں بلکہ دیہی معیشت، روزگار اور خوراک کی قیمتوں پر بھی پڑ رہا ہے۔ جہاں پہلے کسان مزدوروں کو روزگار دیتے تھے، اب وہ خود معاشی دباؤ کا شکار ہیں۔

حکومتی اقدامات اور کلائمیٹ اسمارٹ ایگریکلچر

محکمہ زراعت خیبر پختونخوا کے مطابق حکومت کسانوں کی مدد کے لیے مختلف اقدامات کر رہی ہے۔ ان میں بہتر بیجوں کی فراہمی، جدید آبپاشی نظام کی ترویج، اور زرعی توسیعی خدمات شامل ہیں تاکہ پیداوار میں بہتری لائی جا سکے۔

اس کے علاوہ کلائمیٹ اسمارٹ ایگریکلچر کے تحت ایسے منصوبے بھی متعارف کرائے جا رہے ہیں جن کا مقصد پانی کے مؤثر استعمال، موسمیاتی تبدیلی کے اثرات میں کمی، اور زرعی نظام کی پائیداری کو بہتر بنانا ہے۔ تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات اس وقت تک مکمل طور پر مؤثر نہیں ہو سکتے جب تک پانی کے انتظام، انفراسٹرکچر اور کسانوں کی تربیت میں مزید سرمایہ کاری نہ کی جائے۔

نتیجہ: ایک بدلتا ہوا زرعی منظرنامہ

مہمند کے کسانوں کی کہانیاں اس وسیع تر حقیقت کی عکاسی کرتی ہیں کہ موسمیاتی تبدیلی اب کوئی مستقبل کا خطرہ نہیں بلکہ موجودہ حقیقت ہے۔ بڑھتی گرمی، پانی کی کمی اور غیر یقینی موسم نہ صرف زرعی پیداوار بلکہ دیہی زندگی کے پورے ڈھانچے کو تبدیل کر رہے ہیں۔

اگر فوری طور پر مؤثر پالیسی اقدامات، جدید زرعی طریقوں اور پانی کے بہتر انتظام پر توجہ نہ دی گئی تو آنے والے برسوں میں صورتحال مزید سنگین ہو سکتی ہے۔ مہمند جیسے علاقے اس تبدیلی کے فرنٹ لائن پر کھڑے ہیں، جہاں کسان ہر دن موسمیاتی تبدیلی کی اصل قیمت ادا کر رہے ہیں۔

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

’70 لاکھ کا نقصان ہوگیا، قرضوں تلے دب گئے ہیں‘، اسلام آباد اتوار بازار میں آتشزدگی پر متاثرہ دکاندار رو پڑا

سیاسی جماعتیں ماضی کی غلطیوں کا جائزہ لیں، مکالمے اور میثاقِ جمہوریت کی روح کو بحال کرنا ہوگا، خواجہ آصف

اسٹاک ایکسچینج میں تیزی، انڈیکس 600 سے زائد پوائنٹس بڑھ گیا

ایران امریکا مذاکرات: پاکستان کی ثالثی میں 3 تکنیکی ورکنگ گروپس قائم کر دیے گئے، اگلے منگل یا بدھ کو مذاکرات دوبارہ ہوں گے، دفتر خارجہ

سستے اسمارٹ گلاسز مارکیٹ میں لانے کی تیاریاں، کیا اب اسمارٹ فونز کا دور ختم ہونے والا ہے؟

ویڈیو

پاک ایران گیس پائپ لائن سمیت متعدد بڑے معاشی منصوبوں کی بحالی کے امکان روشن

پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات مشترکہ تاریخ، اعتماد اور مذہبی وابستگی پر استوار ہیں، رحمان حیات

کراچی کے شہری سندھ حکومت کی کارکردگی سے کس قدر مطمئن ہیں؟

کالم / تجزیہ

مسکراہٹیں بکھیرنے والے ادیب کی داستانِ غم

بلوچستان: فیصلہ یہیں ہوگا

جب پاکستان ہاکی نے ارجنٹائن کو عالمی فٹبال کپ جتوایا