چین، روس اور دیگر ممالک کی فوجی انٹیلی جنس کی جانب سے حساس ٹیکنالوجی کے استعمال کے خدشات کے پیشِ نظر اینتھروپک کے جدید ترین ‘میتھوس’ اور ‘فیبل’ اے آئی ماڈلز تک عالمی ڈیجیٹل رسائی فوری طور پر معطل کر دی گئی ہے۔
امریکی محکمہ تجارت نے 2018 کے ایکسپورٹ کنٹرول ریفارم ایکٹ کے تحت حاصل خصوصی اختیارات کا پہلی بار استعمال کرتے ہوئے کمپنی کو تمام غیر ملکی شہریوں کے لیے ان ماڈلز کی خدمات روکنے کا حکم دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: اینتھروپک کے نئے اے آئی ماڈل فَیبل 5 اور اوپس 4.8 میں کیا فرق ہے؟ ڈویلپرز کے لیے اہم نکات
اس سخت فیصلے کے بعد اینتھروپک نے عالمی سطح پر اپنے ٹاپ ٹیر ماڈلز کو آف لائن کردیا ہے، جس کے بعد اب دونوں فریقین کے درمیان واشنگٹن میں بحران کے حل کے لیے روزانہ کی بنیاد پر مذاکرات جاری ہیں۔
سائبر سیکیورٹی حکام کے مطابق ان ماڈلز کے حفاظتی نظام کو بائی پاس یا ‘جیل بریک’ کر کے سافٹ ویئر کی خامیاں تلاش کرنے کے لیے استعمال کیے جانے کا خطرہ موجود تھا، جبکہ کمپنی کا مؤقف ہے کہ اس سے صرف معمولی نوعیت کی خامیاں ہی سامنے آسکتی ہیں
اس سے قبل خودکار ہتھیاروں کے نظام اور ملکی نگرانی کے لیے امریکی فوج کو ٹیکنالوجی کی فراہمی سے انکار پر کمپنی کو پہلے ہی قومی سلامتی کی بلیک لسٹ میں شامل کیا جا چکا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: امریکی عدالت نے ٹرمپ انتظامیہ کو اینتھروپک کے خلاف کارروائی سے روک دیا
دوسری جانب برآمدی قوانین کے ماہرین نے انٹرنیٹ کے ذریعے ریموٹ رسائی پر چلنے والے اے آئی ماڈلز پر اس قسم کے کنٹرول کے قانونی جواز پر سوالات اٹھائے ہیں کیونکہ یہ ٹیکنالوجی روایتی طور پر برآمد نہیں کی جاتی بلکہ کلاؤڈ کے ذریعے فراہم ہوتی ہے۔
ٹیکنالوجی کی دنیا میں اس پابندی کے خلاف شدید ردِعمل سامنے آیا ہے اور نویدیا اور ایڈوب سمیت بڑی کمپنیوں کے 80 سے زائد اعلیٰ سائبر سیکیورٹی ماہرین نے اس اقدام کی مخالفت کی ہے۔
ان ماہرین نے مشترکہ طور پر حکومت کو خط لکھ کر اینتھروپک پر عائد ان سخت پابندیوں کو فوری طور پر ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ فی الحال یہ تنازعہ جی 7 ممالک کے سربراہی اجلاس تک پہنچ گیا ہے جہاں اس حوالے سے مزید اہم پیشرفت متوقع ہے۔














