امریکا کی ریاست واشنگٹن میں لگنے والی ایک بڑے پیمانے کی جنگلاتی آگ کے باعث قریباً 12 ہزار رہائشیوں اور 2 ہزار سے زائد عمارتوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا گیا ہے۔
مزید پڑھیں:سعودی عرب کی جنگلاتی آگ کے انتظام سے متعلق استنبول میں بین الاقوامی اجلاسوں میں شرکت
اسپوکین کاؤنٹی حکام کے مطابق ’اپ ریور فائر‘ نامی یہ آگ منگل کی دوپہر مقامی وقت کے مطابق ساڑھے 12 بجے شمال مشرقی اسپوکین کے بیکن ہل علاقے میں بھڑکی، جس کے بعد ریڈ فلیگ وارننگ جاری کر دی گئی۔
حکام نے ہنگامی پریس کانفرنس میں کہا کہ صورتحال کے پیش نظر فوری انخلا ناگزیر تھا۔ اسپوکین فائر ڈسٹرکٹ 9 کے چیف برائن میتھر نے شہریوں سے اپیل کی کہ وہ متاثرہ علاقے سے دور رہیں اور واپس آنے کی کوشش نہ کریں تاکہ امدادی کارروائیوں میں رکاوٹ پیدا نہ ہو۔
فائر چیف کے مطابق تیز ہواؤں کے باعث آگ تیزی سے پھیل رہی ہے اور اس پر قابو پانے میں کئی دن لگ سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ متاثرہ علاقے میں خشک جھاڑیاں اور دیگر آتش گیر مواد بڑی مقدار میں موجود ہے جبکہ آبادی بھی گنجان ہے، جس سے آگ بجھانے کے کام میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ آگ پر قابو پانے کے لیے 10 سے 15 طیارے اور ہیلی کاپٹر کارروائی میں حصہ لے رہے ہیں جبکہ مزید فضائی وسائل بھی طلب کیے جا رہے ہیں۔
مزید پڑھیں:کہکشانی مہمان، انوکھے سمندری جاندار، جنگلی کیٹرپلر اور یورپ کی آگ
واشنگٹن کے گورنر نے کہا ہے کہ وہ صورتحال کی مسلسل نگرانی کر رہے ہیں اور انہوں نے وفاقی ایمرجنسی مینجمنٹ ایجنسی (FEMA) سے فائر مینجمنٹ اسسٹنس ڈیکلریشن کی درخواست بھی کر دی ہے تاکہ آگ بجھانے کے غیر معمولی اخراجات کے لیے وفاقی فنڈنگ حاصل کی جا سکے۔
تاحال کسی جانی نقصان یا زخمی ہونے کی اطلاع نہیں ملی، جبکہ آگ لگنے کی وجوہات جاننے کے لیے تحقیقات جاری ہیں۔













