دستخط شدہ ایران، امریکا ’اسلام آباد مفاہمتی یادداشت‘ کے شق وار مندرجات سامنے آگئے

جمعرات 18 جون 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

امریکا اور اسلامی جمہوریہ ایران کے مابین مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور فوجی تصادم کے مستقل خاتمے کے لیے پاکستان کی ثالثی میں اہم ترین دستخط شدہ ’مفاہمتی یادداشت ‘کا مسودہ سامنے آ گیا ہے، جس کے تحت دونوں ممالک لبنان سمیت تمام محاذوں پر فوری جنگ بندی، ایران پر عائد امریکی بحری ناکہ بندی اور معاشی پابندیوں کے خاتمے اور تہران کے منجمد اثاثوں کی بحالی پر متفق ہو گئے ہیں۔

’اسلام آباد مفاہمتی یادداشت‘ کے مسودے کے تحت امریکا اپنے علاقائی شراکت داروں کے ساتھ مل کر ایران کی تعمیر نو کے لیے 300 ارب ڈالر کا خطیر فنڈ فراہم کرے گا۔

مسودے کے مطابق ایران نے جوہری ہتھیار نہ بنانے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے آبنائے ہرمز میں تجارتی جہاز رانی کو محفوظ بنانے اور افزودہ یورینیئم کی سطح کم کرنے پر آمادگی ظاہر کی ہے۔ دونوں فریقین نے حتمی امن معاہدے کے لیے 60 روز کی ڈیڈ لائن مقرر کر دی ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور پاکستانی ثالث وزیراعظم شہباز شریف کی دستخط شدہ ’اسلام آباد مفاہمتی یادداشت‘ کی شق وار تفصیل درج ذیل ہے۔

1۔ فوری اور مستقل جنگ بندی

ریاست ہائے متحدہ امریکا اور اسلامی جمہوریہ ایران، نیز موجودہ جنگ میں شامل ان کے اتحادی، اس مفاہمتی یادداشت  (ایم او یو)  پر دستخط کرکے تمام محاذوں پر، بشمول لبنان، فوجی کارروائیوں کے فوری اور مستقل خاتمے کا اعلان کرتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم شہباز شریف کیجانب سے امریکا اور ایران کے درمیان اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط، پاکستان ثالث اور ضامن قرار

دونوں فریق عہد کرتے ہیں کہ آئندہ ایک دوسرے کے خلاف کوئی جنگ یا فوجی کارروائی شروع نہیں کریں گے، نہ ہی طاقت کے استعمال یا اس کی دھمکی کا سہارا لیں گے اور لبنان کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کو یقینی بنائیں گے۔ حتمی معاہدہ تمام جنگی محاذوں پر، بشمول لبنان، جنگ کے مستقل خاتمے اور اس شق کی دیگر دفعات کی توثیق کرے گا۔

2۔ خودمختاری کا احترام

ریاست ہائے متحدہ امریکا اور اسلامی جمہوریہ ایران ایک دوسرے کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا احترام کرنے اور ایک دوسرے کے اندرونی معاملات میں مداخلت نہ کرنے کا عہد کرتے ہیں۔

3۔ حتمی معاہدے کے لیے مذاکرات

دونوں فریق حتمی معاہدے کے حصول کے لیے زیادہ سے زیادہ 60 دن کے اندر مذاکرات مکمل کرنے کا عہد کرتے ہیں، جس میں باہمی رضامندی سے توسیع کی جا سکتی ہے۔

4۔ بحری ناکہ بندی کا خاتمہ

اس مفاہمتی یادداشت پر دستخط ہوتے ہی امریکا ایران کے خلاف اپنی بحری ناکہ بندی اور دیگر رکاوٹوں یا خلل ڈالنے والے اقدامات کو ختم کرنا شروع کرے گا اور 30 دن کے اندر مکمل طور پر ناکہ بندی ختم کر دے گا۔ اس مدت کے دوران بحری آمدورفت کو جنگ سے پہلے کی سطح کے تناسب سے بحال کیا جائے گا۔ مزید برآں، امریکا حتمی معاہدے کے 30 دن بعد اپنی افواج کو ایران کے قرب و جوار سے ہٹانے کا عہد کرتا ہے۔

5۔ آبنائے ہرمز میں جہاز رانی

اس مفاہمتی یادداشت پر دستخط کے بعد ایران اپنی بھرپور کوششوں کے ذریعے 60 دن تک خلیج فارس سے بحیرہ عمان اور بحیرہ عمان سے خلیج فارس جانے والے تجارتی جہازوں کی محفوظ اور بلا معاوضہ آمدورفت کا انتظام کرے گا۔

مزید پڑھیں:اسلام آباد مفاہمتی یادداشت جاری، امریکا اور ایران 60 روز میں حتمی معاہدے پر مذاکرات کریں گے

تجارتی جہازوں کی آمدورفت فوری طور پر شروع ہوگی اور تکنیکی و عسکری رکاوٹوں کے خاتمے اور بارودی سرنگوں کی صفائی کے بعد 30 دن کے اندر مکمل طور پر بحال کر دی جائے گی۔

ایران سلطنت عمان کے ساتھ آبنائے ہرمز کے مستقبل کے انتظام اور سمندری خدمات کے بارے میں مذاکرات کرے گا اور اس سلسلے میں خلیج فارس کے دیگر ساحلی ممالک سے بھی مشاورت کرے گا، تاکہ بین الاقوامی قانون اور ساحلی ریاستوں کے خودمختار حقوق کے مطابق انتظام طے کیا جا سکے۔

6۔ 300 ارب ڈالر کی تعمیر نو اور ترقی

امریکا اپنے علاقائی شراکت داروں کے ساتھ مل کر ایران کی تعمیر نو اور معاشی ترقی کے لیے کم از کم 300 ارب امریکی ڈالر کے ایک حتمی اور باہمی طور پر متفقہ منصوبے کی تیاری کا عہد کرتا ہے۔ اس منصوبے کے نفاذ کا طریقۂ کار حتمی معاہدے کے تحت 60 دن کے اندر طے کیا جائے گا۔ متعلقہ مالی لین دین کے لیے درکار تمام لائسنس، چھوٹ اور اجازت نامے امریکا جاری کرے گا۔

7۔ پابندیوں کا خاتمہ

امریکا ایران کے خلاف عائد تمام اقسام کی پابندیوں کو ایک متفقہ شیڈول کے تحت ختم کرنے کا عہد کرتا ہے، جن میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادیں، بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کے بورڈ آف گورنرز کی قراردادیں اور تمام یکطرفہ امریکی پابندیاں (بنیادی اور ثانوی) شامل ہیں۔

دونوں فریق اس امر کو تسلیم کرتے ہیں کہ پابندیوں کا خاتمہ نہایت اہم مسئلہ ہے اور وہ اس موضوع پر فوری مذاکرات کے ذریعے باہمی اتفاق رائے حاصل کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

8۔ جوہری پروگرام سے متعلق امور

ایران اپنے اس مؤقف کی توثیق کرتا ہے کہ وہ نہ تو جوہری ہتھیار حاصل کرے گا اور نہ ہی تیار کرے گا۔ امریکا اور ایران اس بات پر متفق ہیں کہ افزودہ جوہری مواد کے موجودہ ذخائر کے مستقبل کا تعین ایک ایسے طریقۂ کار کے تحت کیا جائے گا جس پر باہمی اتفاق ہو اور کم از کم طریقہ یہ ہوگا کہ مواد کو ’آئی اے ای اے‘ کی نگرانی میں ایران کے اندر ہی کم افزودہ سطح تک لایا جائے۔

یہ بھی پڑھیں:پاکستان کی ثالثی سے امریکا اور ایران کے درمیان 110 روزہ تنازع ختم، اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط

دونوں فریق ایران کی افزودگی اور اس کی دیگر جوہری ضروریات سے متعلق معاملات پر بھی گفتگو کریں گے، بشرطیکہ حتمی معاہدے میں ایک قابلِ قبول فریم ورک طے پا جائے۔ حتمی معاہدہ اس شق کی توثیق کرے گا۔ دونوں فریق اس بات کو بھی تسلیم کرتے ہیں کہ جوہری معاملات انتہائی اہم ہیں اور ان پر فوری مذاکرات کے ذریعے اتفاق رائے حاصل کیا جائے گا۔

9۔ عبوری مدت میں موجودہ صورتحال برقرار رکھنا

حتمی معاہدے تک امریکا اور ایران موجودہ صورتحال برقرار رکھنے پر متفق ہیں۔ ایران اپنے جوہری پروگرام کی موجودہ حالت برقرار رکھے گا، جبکہ امریکا نئی پابندیاں عائد نہیں کرے گا اور خطے میں اضافی افواج تعینات نہیں کرے گا۔

10۔ ایرانی تیل کی برآمدات کے لیے رعایتیں

امریکا عہد کرتا ہے کہ اس مفاہمتی یادداشت پر دستخط ہوتے ہی اور پابندیوں کے خاتمے تک، امریکی محکمہ خزانہ ایرانی خام تیل، پیٹرولیم مصنوعات اور ان سے متعلقہ تمام خدمات (بشمول بینکاری، انشورنس، نقل و حمل وغیرہ) کی برآمد کے لیے ضروری چھوٹ اور اجازت نامے جاری کرے گا۔

11۔ منجمد اثاثوں اور فنڈز کی دستیابی

امریکا ایران کے منجمد یا محدود رسائی والے فنڈز اور اثاثوں کو مکمل طور پر قابلِ استعمال بنانے کا عہد کرتا ہے۔ اس مفاہمتی یادداشت کے نفاذ کے بعد دونوں فریق مذاکرات کے دوران ان فنڈز کے اجرا کے طریقۂ کار پر اتفاق کریں گے۔

یہ فنڈز، خواہ اصل اکاؤنٹس میں رہیں یا منتقل کیے جائیں، ایران کے مرکزی بینک کی جانب سے نامزد کردہ کسی بھی حتمی مستفید کنندہ کو ادائیگی کے لیے مکمل طور پر قابلِ استعمال ہوں گے۔ امریکا اس مقصد کے لیے تمام ضروری لائسنس اور اجازت نامے جاری کرے گا۔

12۔ نگرانی کا طریقۂ کار

امریکا اور ایران اس بات پر متفق ہیں کہ اس مفاہمتی یادداشت کے کامیاب نفاذ اور مستقبل میں حتمی معاہدے کی پابندی کو یقینی بنانے کے لیے ایک مشترکہ انتظامی و نگرانی کا طریقۂ کار قائم کیا جائے گا۔

13۔ حتمی معاہدے پر مذاکرات کا آغاز

اس مفاہمتی یادداشت پر دستخط کے بعد اور بشرطیکہ شق نمبر 1، 4، 5، 10 اور 11 پر عمل درآمد شروع ہو جائے اور ان پر مسلسل عمل جاری رہے، امریکا اور ایران دیگر تمام شقوں سے متعلق حتمی معاہدے کے لیے مذاکرات کا آغاز کریں گے۔

14۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی توثیق

حتمی معاہدے کی توثیق اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی ایک لازمی اور پابند قرارداد کے ذریعے کی جائے گی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

تیزاب حملے کی متاثرہ ڈاکٹر ماہ نور کو مزید علاج کے لیے امریکا منتقل کرنے کا فیصلہ

پیٹرول اور ڈیزل کے بعد مٹی کے تیل کی قیمت میں بھی بڑی کمی کردی گئی

فیس بک نے مونیٹائزیشن مزید آسان بنا دی، پاکستانی کانٹینٹ کریئیٹرز کے لیے ڈالرز میں کمائی کے نئے مواقع

بجلی کی 3 تقسیم کار کمپنیوں کی نجکاری رواں برس، سرمایہ کاروں کو 18 سے 20 فیصد منافع کی پیشکش

فیفا ورلڈ کپ: مراکش، امریکا اور برازیل کی فتوحات، امریکی ٹیم نے نئی تاریخ رقم کردی

ویڈیو

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمت میں بڑی کمی، اسلام آباد کے شہریوں میں خوشی کی لہر

شہباز شریف کا وعدہ پورا، پیٹرول کی قیمت میں 74روپے کمی، امریکی نائب صدر نے اسرائیل کو کھری کھری سنادیں، فیلڈ مارشل اور وزیراعظم کو خراج تحسین

فیلڈ مارشل اور وزیراعظم نے دنیا کو بڑی تباہی سے بچا لیا، جنگ ختم نہ ہونے پر پیٹرول کی قیمت 10ہزار روپے ہوتی؟

کالم / تجزیہ

پاکستان: نام ہی کافی ہے

ایران امریکا معاہدے کے بعد دنیا کیسی ہوگی؟

’آپ پاکستان سے آئے ہیں؟‘