بھارت میں 45 روز کے دوران 23 مسلم مذہبی مقامات کی مسماری پر عالمی تشویش، مودی حکومت شدید تنقید کی زد میں

پیر 22 جون 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

بھارت میں صرف 45 روز کے دوران بی جے پی حکومتوں والی 6 ریاستوں میں 23 سے زائد مسلم مذہبی مساجد، درگاہیں، عیدگاہیں اور مدارس کی مسماری پر عالمی سطح پر شدید تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: بھارت میں قدیم تاریخی مسجد کے انہدام کے نوٹس پر صدرِ پاکستان آصف علی زرداری کا اظہارِ تشویش

بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں، مذہبی ہم آہنگی کے حامی اداروں اور متعدد عالمی مبصرین نے ان اقدامات کو بھارت کے سیکولر تشخص اور مذہبی آزادی کے لیے خطرہ قرار دیا ہے۔

رپورٹس کے مطابق اتر پردیش، راجستھان، مہاراشٹر، گجرات، ہریانہ اور دہلی میں ہونے والی انہدامی کارروائیوں نے دنیا بھر میں یہ سوال کھڑا کر دیا ہے کہ آیا بھارت میں مذہبی آزادی کی آئینی ضمانت کو بتدریج کمزور کیا جا رہا ہے۔

https://twittter.com/ashoswai/status/2068330952162484639/photo/1?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2068330952162484639%7Ctwgr%5E801859983e0a104d10017e406ec4340b2a31127d%7Ctwcon%5Es1_&ref_url=https%3A%2F%2Fwenewsenglish.com%2Finternational-outrage-at-the-demolition-of-23-muslim-religious-sites-in-india-within-45-days%2F

وارانسی کی ایک ہزار سال قدیم مسجد سے لے کر دہلی کی تقریباً 200 سال پرانی درگاہ تک مختلف تاریخی مذہبی مقامات کو منہدم کیے جانے کے بعد عالمی سطح پر سخت ردعمل سامنے آیا ہے۔ بین الاقوامی مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ واقعات محض انتظامی کارروائیاں نہیں بلکہ ایک وسیع رجحان کی عکاسی کرتے ہیں۔

امریکا میں قائم انسانی حقوق کی تنظیم جسٹس فار آل نے 17 جون کو جاری اپنے بیان میں مساجد کی مسماری میں تیزی پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ صرف 5 روز کے دوران سنبھل، وارانسی اور جے پور میں 3 مساجد گرائی گئیں۔ تنظیم نے الزام عائد کیا کہ سرکاری زمین پر قائم ہندو مندروں اور مسلم مذہبی مقامات کے ساتھ یکساں سلوک نہیں کیا جا رہا بلکہ مسلم عبادت گاہوں کو فوری طور پر نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

نفرت کی سیاست اور دوہرے معیار پر عالمی تنقید

جسٹس فار آل نے بھارتی دانشوروں اور سول سوسائٹی پر زور دیا کہ وہ مبینہ نفرت کی سیاست کے خلاف متحد ہوں۔ تنظیم کے مطابق اس طرح کی کارروائیاں اقلیتی برادری میں عدم تحفظ کو بڑھا سکتی ہیں اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچا سکتی ہیں۔

تنظیم نے زور دیا کہ بھارت کے آئین میں دی گئی مذہبی آزادی کی ضمانت پر مکمل عمل ہونا چاہیے اور تجاوزات کے قوانین کا انتخابی استعمال مساوی انصاف کے اصولوں کے منافی ہے۔

مزید پڑھیے: آزاد کشمیر میں امن کو نقصان پہنچانے کی بھارتی سازش ناکام ہو گئی، خواجہ آصف

بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں نے بھی کئی واقعات میں قانونی تقاضے پورے نہ کیے جانے پر سوالات اٹھائے ہیں۔ ان کے مطابق متعدد مقامات پر انہدامی کارروائی سے قبل نہ تو پیشگی نوٹس دیا گیا اور نہ ہی مذہبی مقامات کے متولیوں کی قانونی درخواستوں کو خاطر میں لایا گیا۔

2 جون کو وارانسی میں بھاری پولیس نفری کی موجودگی میں راتوں رات اجگائب شہید مسجد کی مسماری کو عالمی مبصرین نے مذہبی اقلیتوں کے حقوق کی خلاف ورزی قرار دیا۔

اسی طرح 3 اور 4 جون کو پونے میں تقریباً 2 صدی پرانی ایک درگاہ کی مسماری نے بھی عالمی سطح پر بحث چھیڑ دی۔ مقامی رہنماؤں کے مطابق یہ درگاہ ہندو مسلم اتحاد اور مذہبی ہم آہنگی کی علامت سمجھی جاتی تھی جبکہ بین الاقوامی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس کی مسماری نے بھارت میں بین المذاہب تعلقات کے مستقبل پر خدشات پیدا کر دیے ہیں۔

وقف املاک اور تاریخی ورثے پر بھی سوالات

جے پور میں سنہ 1981 میں مقامی افراد کے عطیات سے تعمیر ہونے والی اور وقف املاک میں رجسٹرڈ نورانی مسجد کو 8 جون کو مبینہ طور پر قانونی کارروائی مکمل ہونے سے قبل منہدم کر دیا گیا۔ راجستھان وقف بورڈ اور مقامی رہنماؤں نے دعویٰ کیا کہ یہ اقدام وقف املاک کو حاصل قانونی تحفظات کی خلاف ورزی ہے۔

مزید پڑھیں: بھارت کی ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کا پارلیمنٹ کے قریب تھالیاں بجا کرانوکھا احتجاج

دوسری جانب عالمی ثقافتی ورثے سے وابستہ ماہرین نے وارانسی کی مسجد گنج شہیداں کے ممکنہ انہدام پر بھی تشویش ظاہر کی ہے۔ مسجد انتظامیہ کے مطابق یہ عبادت گاہ تقریباً ایک ہزار سال قدیم ہے اور 1883-84 کے سرکاری نقشوں میں بھی اس کا ذکر موجود ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اس طرح کے تاریخی مذہبی مقامات کی مسماری نہ صرف مذہبی بلکہ ثقافتی ورثے کے نقصان کے مترادف ہے۔

سنبھل میں 6 جون کو مسجد مصطفیٰ قادری کی مسماری کے بعد پولیس نے مسجد کے متولی سمیت 8 افراد کے خلاف مقدمہ درج کیا۔ پولیس کا کہنا تھا کہ مسجد کے اندر سے ’’آئی لو محمد‘‘ لکھے پوسٹر برآمد ہوئے تھے۔

بین الاقوامی شہری آزادیوں کی تنظیموں نے اس اقدام پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ عبادت گاہ کے اندر مذہبی عقیدت کے اظہار کو جرم قرار دینا مذہبی آزادی اور اظہارِ رائے دونوں کے لیے تشویشناک مثال ہے۔

بھارت کے سیکولر تشخص پر سوالات

بھارت کے اندر بھی انہدامی کارروائیوں پر شدید سیاسی ردعمل سامنے آیا ہے۔ اپوزیشن جماعتوں نے مودی حکومت پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ انتخابی مقاصد کے لیے مذہبی معاملات کو استعمال کر رہی ہے اور ملک کے سیکولر ڈھانچے کو کمزور کر رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیے: بھارت میں ٹاٹا کی آئی فون پرزہ ساز فیکٹری ماحولیاتی اور صحت سے متعلق تحقیقات کی زد میں آگئی

راجستھان کے سابق وزیر اعلیٰ اشوک گہلوت نے بالخصوص پاکستان کی سرحد سے ملحق علاقوں میں انہدامی کارروائیوں کے وقت اور مقصد پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ ان اقدامات کا مقصد سیاسی تقسیم اور سماجی ہم آہنگی کو متاثر کرنا معلوم ہوتا ہے۔

سفارتی ذرائع کے مطابق بعض غیر ملکی حکومتوں نے بھی نئی دہلی پر زور دیا ہے کہ تجاوزات کے خلاف کارروائیاں شفاف، غیر امتیازی اور قانونی تقاضوں کے مطابق کی جائیں۔

جسٹس فار آل نے اپنے بیان میں سنبھل کی مسجد مصطفیٰ قادری، وارانسی کی اجگائب شہید مسجد اور جے پور کی نورانی مسجد کی مسماری کو ایک منظم رجحان قرار دیتے ہوئے کہا کہ بھارت کے آئین میں دی گئی مذہبی آزادی کو ہر صورت یقینی بنایا جانا چاہیے۔

بین المذاہب ہم آہنگی کا مستقبل

عالمی مبصرین کا کہنا ہے کہ بھارت میں جاری انہدامی کارروائیوں نے اب صرف تجاوزات کے معاملے سے آگے بڑھ کر مذہبی آزادی، تاریخی ورثے کے تحفظ اور بین المذاہب ہم آہنگی کے مستقبل کو عالمی بحث کا موضوع بنا دیا ہے۔

اگرچہ بھارتی حکام کا مؤقف ہے کہ تمام کارروائیاں قانونی اور انتظامی تقاضوں کے مطابق کی جا رہی ہیں، تاہم عالمی تنظیموں کے مطابق شفافیت کی کمی، متعدد معاملات میں پیشگی نوٹس نہ دینا اور مسلم مذہبی مقامات کو نشانہ بنائے جانے کے الزامات نے کارروائیوں کی غیر جانب داری پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

حقوق انسانی کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ قانون کا یکساں اطلاق، مکمل شفافیت اور قانونی تقاضوں کی پاسداری ہی تمام مذہبی برادریوں کے آئینی حقوق کے تحفظ اور عوامی اعتماد کی بحالی کی ضمانت بن سکتی ہے۔

مزید پڑھیں: بھارت: مسلمانوں سے ایک اور تاریخی مسجد چھین لی گئی، دیوی براجمان

بین الاقوامی برادری ان پیش رفتوں پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور متعدد حلقے امید ظاہر کر رہے ہیں کہ بھارت کے جمہوری ادارے اور سول سوسائٹی مذہبی رواداری اور تکثیری معاشرت کی اپنی دیرینہ روایات کو برقرار رکھنے میں کردار ادا کریں گے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp