پاکستان امریکا تعلقات کا مستقبل کیا ہے، کیا دونوں ممالک ایک نئے اسٹریٹجک دور میں داخل ہورہے ہیں؟

پیر 29 جون 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

حال ہی میں امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کا ایک بیان سامنے آیا جس میں اُنہوں نے کہاکہ امریکا کریٹیکل منرلز کے لیے اب چین پر اپنا انحصار کم کرکے اس کو وسعت دینا چاہتا ہے اور ہم پاکستان سے کریٹیکل منرلز کے حصول میں دلچسپی رکھتے ہیں۔

ایران امریکا مذاکرات کے تناظر میں جس طرح سے پاکستان نے اپنا کردار ادا کیا اور جس طرح پاکستان کو صدر ٹرمپ اور عالمی دنیا سے پذیرائی ملی اس کی روشنی میں دیکھیں تو پاکستان اور امریکا کے تعلقات ایک مثبت سمت میں بڑھتے نظر آتے ہیں خاص طور پر جب امریکا کریٹیکل منزلز کے شعبے میں بھی خاص دلچسپی رکھتا ہے۔

مزید پڑھیں: پاکستان امریکا اور ایران کے درمیان جامع معاہدہ کروانے کے لیے اب کیا کوششیں کررہا ہے؟

اس وقت امریکا کی موجودہ خارجہ پالیسی میں ایک بڑی ترجیح چین پر انحصار کم کرنا ہے، خاص طور پر ان معدنیات کے معاملے میں جو جدید ٹیکنالوجی، دفاعی صنعت، الیکٹرک گاڑیوں اور مصنوعی ذہانت کے لیے ضروری ہیں۔ اسی وجہ سے ٹرمپ انتظامیہ نے ’کریٹیکل منرلز‘ کو قومی سلامتی کا مسئلہ قرار دیا ہے اور نئی سپلائی چینز کی تلاش شروع کر رکھی ہے۔

اسی تناظر میں پاکستان کی اہمیت بڑھ رہی ہے۔ بین الاقوامی اسٹڈیز کے مطابق پاکستان میں تانبا، سونا، اینٹی منی، نایاب معدنیات اور دیگر قیمتی ذخائر موجود ہیں جن میں امریکی کمپنیوں کی دلچسپی بڑھ رہی ہے۔

اس سے قبل اگست 2025 میں مارکو روبیو نے بیان جاری کیاکہ امریکا پاکستان کے ساتھ کریٹیکل منرلز اور ہائیڈرو کاربن کے شعبوں میں تعاون کے امکانات تلاش کرنا چاہتا ہے۔ بعد ازاں فروری 2026 میں وزیراعظم شہباز شریف اور مارکو روبیو کی ملاقات میں بھی امریکی وزارت خارجہ نے واضح طور پر پاکستان کے معدنیات اور توانائی کے شعبوں میں سرمایہ کاری اور تعاون پر گفتگو کی تصدیق کی۔

ماضی میں امریکا کے لیے پاکستان کا تناظر کیا تھا؟

ماضی میں کئی برسوں تک پاک امریکا تعلقات کو افغانستان، دہشتگردی کے خلاف جنگ اور سیکیورٹی تعاون کے تناظر میں دیکھا جاتا رہا۔ لیکن اب پہلی مرتبہ ایسے اشارے مل رہے ہیں کہ واشنگٹن اور اسلام آباد کے تعلقات ایک نئے مرحلے میں داخل ہو رہے ہیں، جہاں دہشتگردی کے بجائے معدنیات، توانائی، علاقائی استحکام اور اقتصادی شراکت داری مرکزی حیثیت اختیار کر سکتے ہیں۔

گزشتہ چند ماہ کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کی جانب سے آنے والے بیانات نے اس تاثر کو مزید مضبوط کیا ہے کہ امریکا پاکستان کو محض سیکیورٹی پارٹنر کے طور پر نہیں بلکہ ایک ایسے ملک کے طور پر دیکھنا شروع کررہا ہے جو نئی عالمی سپلائی چینز، معدنی وسائل اور مشرق وسطیٰ میں سفارتی کردار کے حوالے سے اہمیت رکھتا ہے۔

صدر ٹرمپ کی پاکستان میں دلچسپی کیوں بڑھ رہی ہے؟

صدر ٹرمپ جو پاکستان کی سول اور فوجی قیادت کے مداح ہیں اور بارہا وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کے کردار کی تعریف کر چکے ہیں جو انہوں نے ایران امریکا مذاکرات اور مشرقِ وسطیٰ قیام امن کے لیے ادا کیا۔

صدر ٹرمپ کی موجودہ خارجہ پالیسی میں ایک واضح رجحان نظر آتا ہے کہ جہاں بھی امریکا کو اہم معدنی وسائل، توانائی کے ذخائر یا اہم تجارتی راستے نظر آتے ہیں، وہاں واشنگٹن اپنی موجودگی بڑھانے کی کوشش کرتا ہے۔ کریٹیکل منرلز اب امریکی قومی سلامتی کا بنیادی جزو بن چکے ہیں۔ اسی وجہ سے پاکستان کے معدنی ذخائر، خصوصاً بلوچستان میں موجود ذخائر، امریکی دلچسپی کا مرکز بن سکتے ہیں۔

پاکستان اور امریکا کے تعلقات میں تبدیلی کہاں سے آئی؟

امریکا اور پاکستان کے ان تعلقات میں یہ تبدیلی اچانک رونما نہیں ہوئی۔ صدر ٹرمپ کے پیشرو صدر جوبائیڈن کے دور میں پاک امریکا تعلقات کی نوعیت یہ تھی کہ پاکستان کو میزائل پروگرام کے لیے پرزے فراہم کرنے والی کمپنیوں پر پابندیاں لگ رہی تھیں۔ اس کے بعد مارچ 2025 میں صدر ٹرمپ کے دور میں حالات تبدیل ہونا شروع ہوئے۔

پاک امریکا تعلقات کی بہتری کے پیچھے متعدد ایسے واقعات تھے جنہوں نے پاکستان اور امریکا کے درمیان اعتماد کو بحال کیا اور پاکستان کو ایک بار پھر بین الاقوامی سفارت کاری کے اہم کھلاڑی کے طور پر منوایا۔

پہلا موڑ: ایبی گیٹ حملے کے ملزم جعفر کی گرفتاری

پاک امریکا تعلقات میں نئی گرم جوشی کا آغاز مارچ 2025 میں ہوا جب پاکستان نے داعش خراسان سے تعلق رکھنے والے محمد شریف اللہ عرف جعفر کو گرفتار کرکے امریکا کے حوالے کیا۔ جعفر پر اگست 2021 میں کابل ایئرپورٹ کے ایبی گیٹ حملے میں معاونت کا الزام تھا جس میں 13 امریکی فوجی اور درجنوں افغان شہری ہلاک ہوئے تھے۔

4 مارچ 2025 کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کانگریس کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کا شکریہ ادا کیا۔ یہ ایک غیر معمولی لمحہ تھا کیونکہ کئی برسوں بعد کسی امریکی صدر نے کانگریس کے فلور پر پاکستان کے کردار کو اس انداز میں سراہا تھا۔

واشنگٹن کے پالیسی حلقوں میں اس واقعے کو صرف ایک دہشتگرد کی گرفتاری کے طور پر نہیں دیکھا گیا بلکہ اسے اس بات کی علامت سمجھا گیا کہ پاکستان حساس سیکیورٹی معاملات میں امریکا کا قابل اعتماد شراکت دار بن سکتا ہے۔

دوسرا موڑ: پاک بھارت جنگ اور پاکستان کا ابھرتا ہوا پروفائل

اپریل اور مئی 2025 میں جنوبی ایشیا ایک مرتبہ پھر جنگ کے دہانے پر پہنچ گیا۔ بھارت اور پاکستان کے درمیان عسکری کشیدگی تیزی سے بڑھ رہی تھی اور دنیا کو خدشہ تھا کہ دو جوہری طاقتیں براہ راست تصادم کی طرف بڑھ سکتی ہیں۔

ابتدائی مرحلے میں امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کا مؤقف یہ تھا کہ دونوں ممالک اپنے مسائل خود حل کریں۔ واشنگٹن کی ترجیح یہ تھی کہ بحران کو مزید بڑھنے سے روکا جائے لیکن امریکا فوری طور پر براہِ راست مداخلت کے حق میں نہیں تھا۔

تاہم جیسے جیسے صورتحال سنگین ہوتی گئی، امریکا، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور دیگر ممالک متحرک ہوئے۔ بالآخر 10 مئی 2025 کو جنگ بندی عمل میں آئی۔

اس 4 روزہ جنگ کے دوران پاکستان نے جس طرح سے بھارت کو دھول چٹائی اس سے پاکستان کا پروفائل کئی گنا بڑھ گیا۔ پاکستان نے فوری طور پر جنگ بندی کا کریڈٹ امریکا کے صدر کو دیا جبکہ بھارتی حکومت عوامی دباؤ کی وجہ سے ایسا کرنے سے قاصر رہی جس کی وجہ سے پاکستان امریکا کا قریبی اتحاد بنتا چلا گیا۔

پاکستان عالمی سطح پر ایک زیادہ پراعتماد اور مؤثر ریاست کے طور پر سامنے آیا۔ پاکستانی عسکری اور سفارتی قیادت نے جس انداز میں بحران کا سامنا کیا، اس نے کئی عالمی دارالحکومتوں میں پاکستان کے بارے میں پائے جانے والے تصورات کو تبدیل کردیا۔

صدر ٹرمپ کی پاکستان میں بڑھتی دلچسپی

پاک بھارت کشیدگی کے خاتمے کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیانات میں پاکستان کے حوالے سے مثبت تبدیلی نمایاں ہونے لگی۔ ٹرمپ انتظامیہ نے پہلی مرتبہ پاکستان کو صرف سیکیورٹی تناظر سے نہیں بلکہ ایک اہم علاقائی شراکت دار کے طور پر دیکھنا شروع کیا۔

واشنگٹن میں یہ احساس بھی پیدا ہوا کہ پاکستان بیک وقت چین، خلیجی ممالک، ایران اور امریکا کے ساتھ رابطے رکھنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ یہی وہ خصوصیت تھی جو بعد میں ایران امریکا تنازع میں پاکستان کی سب سے بڑی سفارتی طاقت ثابت ہوئی۔

مزید پڑھیں: پاکستان امریکا مثبت اور تعمیری روابط نے بھارت میں بے چینی پیدا کردی

امریکا کی پاکستان میں بڑھتی ہوئی دلچسپی کا ایک مظہر امریکی وزیرخارجہ مارکو روبیو کا ایک حالیہ بیان بھی ہے جس میں انہوں نے کہاکہ معدنیات کے حصول کے لیے اب ہم پاکستان کے ساتھ معاملات کریں گے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp