ریپبلکن پارٹی کی اکثریت سے لبریز امریکی سینیٹ نے منگل کے روز ایک ایسی قانون سازی کی حمایت کر دی جس کا مقصد ایران کے خلاف امریکی فوجی کارروائی کو روکنا ہے۔
تاہم فوری طور پر یہ واضح نہیں کہ اس اقدام سے جنگ پر کیا اثر پڑے گا، کیونکہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ ایران کے ساتھ امن معاہدے کے لیے مذاکرات کر رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: امریکی عوام کی اکثریت ایران امریکا امن معاہدے کے حق میں، سروے رپورٹ
سینیٹ نے 50 کے مقابلے میں 48 ووٹوں سے مشترکہ قرارداد کے حق میں فیصلہ دیا، یہ قرارداد رواں ماہ کے آغاز میں ایوانِ نمائندگان سے بھی منظور ہو چکی تھی۔
اس ووٹنگ سے ظاہر ہوتا ہے کہ 28 فروری کو شروع ہونے والے غیر مقبول تنازع پر ٹرمپ کی اپنی جماعت کے بعض ارکان میں بھی تشویش بڑھ رہی ہے۔
🇺🇸TODAY: SENATE PASSES LANDMARK RESOLUTION TO HALT U.S. MILITARY ACTION AGAINST IRAN
The Senate voted 50–48 to pass a war powers resolution ordering Trump to end U.S. military involvement against Iran.
The historic vote marks the first war powers resolution to clear both… pic.twitter.com/IKFarJJeaI
— Coin Bureau (@coinbureau) June 24, 2026
ووٹنگ تقریباً جماعتی بنیادوں پر ہوئی، تاہم 4 ریپبلکن سینیٹرز نے ایک کے سوا تمام ڈیموکریٹس کے ساتھ قرارداد کے حق میں ووٹ دیا، جبکہ 2 ریپبلکن ارکان نے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا۔
قرارداد میں صدر ٹرمپ کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ ایران کے ساتھ یا اس کے خلاف جاری دشمنانہ کارروائیوں سے امریکی مسلح افواج کو واپس بلائیں، تاہم امکان ہے کہ یہ قرارداد محض علامتی حیثیت ہی اختیار کرے گی۔
مزید پڑھیں: ایران امریکا مذاکرات کا اصل امتحان شروع، اگلے 60 دن فیصلہ کن، آگے کیا ہوگا؟
1973 کے وار پاورز ایکٹ کے تحت اس نوعیت کی قرارداد صدر کے دستخط کے لیے وائٹ ہاؤس نہیں بھیجی جاتی۔
تاہم وائٹ ہاؤس کا مؤقف ہے کہ یہ قانون سازی آئینی نہیں، اس لیے اس پر عمل درآمد لازمی نہیں ہوگا۔
قانونی ماہرین کے مطابق یہ ایک متنازع آئینی مسئلہ ہے جس کا حتمی فیصلہ ممکنہ طور پر عدالتوں میں ہوگا۔
مزید پڑھیں: تاریخی معاہدہ یا سفارتی فتح؟ ایران امریکا ڈیل پر عوامی رائے
بروکنگز انسٹی ٹیوشن کے سینئر فیلو اور آن لائن قانونی جریدے ’لافیئر‘ کے سینیئر ایڈیٹر اسکاٹ اینڈرسن سمجھتے ہیں کہ انتظامیہ آئینی بنیادوں پر اس قرارداد کو نظر انداز کر دے گی۔
’۔۔۔اور یہ بھی واضح نہیں کہ اس پر عمل درآمد کرانے کے لیے مقدمہ دائر کرنے کا قانونی حق کس کے پاس ہوگا۔‘














