وینزویلا، جاپان اور امریکی ریاست کیلیفورنیا میں چند گھنٹوں کے دوران آنے والے طاقتور زلزلوں کے بعد دنیا بھر میں یہ سوال زیرِ بحث ہے کہ آیا یہ تمام زلزلے ایک دوسرے سے منسلک تھے یا نہیں؟ ماہرینِ ارضیات کا کہنا ہے کہ بظاہر ایک ہی دن میں مختلف خطوں میں زلزلوں کا آنا غیر معمولی ضرور ہے، تاہم اس بات کا کوئی سائنسی ثبوت موجود نہیں کہ یہ واقعات براہِ راست ایک دوسرے کا سبب بنے ہوں۔
مزید پڑھیں:وینزویلا میں 7.5 شدت کا زلزلہ: 10 ہزار سے زائد ہلاکتوں کا خدشہ، شہباز شریف اور ٹرمپ کا اظہارِ افسوس
ماہرین کے مطابق جاپان اور کیلیفورنیا بحرالکاہل کے مشہور ’رِنگ آف فائر‘ کا حصہ ہیں، جہاں دنیا کے بیشتر زلزلے اور آتش فشانی سرگرمیاں وقوع پذیر ہوتی ہیں۔ اس خطے میں مختلف ٹیکٹونک پلیٹوں کی مسلسل حرکت زلزلوں کا باعث بنتی ہے۔
دوسری جانب وینزویلا کا حالیہ 7.2 اور 7.5 شدت کے دوہری زلزلوں کا سلسلہ ایک مختلف ارضیاتی نظام سے تعلق رکھتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ بڑے زلزلے بعض اوقات دور دراز علاقوں میں معمولی دباؤ کی تبدیلیاں پیدا کر سکتے ہیں، لیکن جاپان، کیلیفورنیا اور وینزویلا کے حالیہ زلزلوں کے درمیان کسی براہِ راست تعلق کے شواہد نہیں ملے۔
امریکی جیولوجیکل سروے (USGS) اور دیگر ماہر اداروں کے مطابق ایک ہی دن میں مختلف علاقوں میں طاقتور زلزلوں کا آنا زیادہ تر اتفاقی امر سمجھا جاتا ہے۔ تاہم ماہرین ان واقعات کا تفصیلی تجزیہ کر رہے ہیں تاکہ زمین کی پرتوں میں دباؤ کی عالمی حرکیات کو مزید بہتر انداز میں سمجھا جا سکے۔
مزید پڑھیں:فلپائن میں 7.8 شدت کا زلزلہ، عمارتیں منہدم، ایشیا بھر میں سونامی الرٹ جاری
ماہرین نے عوام پر زور دیا ہے کہ غیر مصدقہ دعوؤں اور سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی قیاس آرائیوں کے بجائے مستند سائنسی معلومات پر اعتماد کریں، کیونکہ فی الحال ان زلزلوں کے درمیان کسی براہِ راست تعلق کی تصدیق نہیں ہوئی۔














