انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی کے سربراہ رافیل گروسی نے کہا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان عبوری معاہدے کے تحت عالمی جوہری ادارے کے معائنہ کاروں کو ایرانی جوہری تنصیبات تک رسائی حاصل ہو سکتی ہے۔
اقوام متحدہ کے جوہری نگران ادارے آئی اے ای اے کے سربراہ رافیل گروسی نے کہا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان طے پانے والے عبوری امن معاہدے کے بعد ایران کی جوہری تنصیبات کے معائنے کے لیے ادارے کو رسائی دی جانی چاہیے۔
یہ بھی پڑھیں:ایران نیوکلیئر مذاکرات کے لیے تیار، میزائل پروگرام پر ’کوئی بات نہیں کرے گا‘
جاپان میں پریس کانفرنس کے دوران گفتگو کرتے ہوئے رافیل گروسی نے کہا کہ ایک معاہدہ موجود ہے اور اس پر عمل درآمد کے لیے ضروری ہے کہ آئی اے ای اے کے ماہرین کو ایران جا کر صورتحال کا جائزہ لینے کا موقع دیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ امید ہے کہ ادارے کے نمائندے جلد ایران میں موجود ہوں گے اور اپنی ذمہ داریاں انجام دے سکیں گے۔
⚡️🇺🇸🇮🇷 — IAEA Director General Rafael Mariano Grossi stated the US-Iran MoU leaves no ambiguity, explicitly requiring IAEA supervision of all nuclear facilities: "I can understand political statements, they are part of the reality, but the fundamental thing I would like to remind…
— MaxOsint Intel (@maxosintintel) June 24, 2026
آئی اے ای اے سربراہ کا کہنا تھا کہ مشرق وسطیٰ میں حالیہ کشیدگی کے بعد ایران کے جوہری پروگرام کی نگرانی کے لیے ایک مضبوط تصدیقی نظام ضروری ہے تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ جوہری ہتھیاروں کی تیاری نہ ہو۔
رافیل گروسی نے کہا کہ ایران نے واضح طور پر اعلان کیا ہے کہ اس کا جوہری ہتھیار بنانے کا ارادہ نہیں، تاہم صرف بیانات کافی نہیں ہوتے، اس کے لیے عملی تصدیق کا نظام ضروری ہے۔
انہوں نے کہا کہ معاہدے کا مقصد بھی یہی ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام کو پرامن مقاصد تک محدود رکھا جائے۔
دوسری جانب اس سے قبل تہران کی جانب سے اشارہ دیا گیا تھا کہ امریکا کے ساتھ حتمی معاہدہ اور پابندیوں کے خاتمے تک بعض اہم جوہری تنصیبات تک غیر ملکی معائنہ کاروں کی رسائی محدود رکھی جا سکتی ہے۔













