ایران جوہری پروگرام پر نگرانی کا نیا مرحلہ؟ آئی اے ای اے کو رسائی ملنے کا امکان

جمعہ 26 جون 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

 

انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی کے سربراہ رافیل گروسی نے کہا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان عبوری معاہدے کے تحت عالمی جوہری ادارے کے معائنہ کاروں کو ایرانی جوہری تنصیبات تک رسائی حاصل ہو سکتی ہے۔

اقوام متحدہ کے جوہری نگران ادارے آئی اے ای اے کے سربراہ رافیل گروسی نے کہا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان طے پانے والے عبوری امن معاہدے کے بعد ایران کی جوہری تنصیبات کے معائنے کے لیے ادارے کو رسائی دی جانی چاہیے۔

یہ بھی پڑھیں:ایران نیوکلیئر مذاکرات کے لیے تیار، میزائل پروگرام پر ’کوئی بات نہیں کرے گا‘

جاپان میں پریس کانفرنس کے دوران گفتگو کرتے ہوئے رافیل گروسی نے کہا کہ ایک معاہدہ موجود ہے اور اس پر عمل درآمد کے لیے ضروری ہے کہ آئی اے ای اے کے ماہرین کو ایران جا کر صورتحال کا جائزہ لینے کا موقع دیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ امید ہے کہ ادارے کے نمائندے جلد ایران میں موجود ہوں گے اور اپنی ذمہ داریاں انجام دے سکیں گے۔

آئی اے ای اے سربراہ کا کہنا تھا کہ مشرق وسطیٰ میں حالیہ کشیدگی کے بعد ایران کے جوہری پروگرام کی نگرانی کے لیے ایک مضبوط تصدیقی نظام ضروری ہے تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ جوہری ہتھیاروں کی تیاری نہ ہو۔

رافیل گروسی نے کہا کہ ایران نے واضح طور پر اعلان کیا ہے کہ اس کا جوہری ہتھیار بنانے کا ارادہ نہیں، تاہم صرف بیانات کافی نہیں ہوتے، اس کے لیے عملی تصدیق کا نظام ضروری ہے۔

انہوں نے کہا کہ معاہدے کا مقصد بھی یہی ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام کو پرامن مقاصد تک محدود رکھا جائے۔

دوسری جانب اس سے قبل تہران کی جانب سے اشارہ دیا گیا تھا کہ امریکا کے ساتھ حتمی معاہدہ اور پابندیوں کے خاتمے تک بعض اہم جوہری تنصیبات تک غیر ملکی معائنہ کاروں کی رسائی محدود رکھی جا سکتی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp