امریکی ثالثی میں اسرائیل اور لبنان کے مابین فریم ورک معاہدہ: کن نکات پر اتفاق ہوا؟

ہفتہ 27 جون 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

امریکا کی ثالثی میں اسرائیل اور لبنان کے درمیان ایک فریم ورک معاہدے پر دستخط کر دیے گئے ہیں، جسے امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے ’آغاز کا آغاز‘ قرار دیا ہے۔

واشنگٹن میں جمعے کو منعقدہ دستخط کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مارکو روبیو نے کہا کہ یہ معاہدہ امن کے عمل کا پہلا قدم ہے اور اکثر پہلا قدم ہی سب سے مشکل ہوتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ایران کا اسرائیل پر حملے روکنے کا اعلان، لبنان کے خلاف کارروائی پر دوبارہ جنگ چھیڑنے کی دھمکی

امریکا نے اپریل سے جاری براہِ راست مذاکرات میں ثالث کا کردار ادا کیا اور اس سہ فریقی معاہدے کا باقاعدہ فریق بھی ہے۔

تاہم معاہدے میں اسرائیل کو جنوبی لبنان کے ان علاقوں سے فوری انخلا کا پابند نہیں بنایا گیا، جہاں اس کی افواج اب بھی موجود ہیں۔

https://Twitter.com/search?q=What%20is%20the%20framework%20agreement%20signed%20by%20Israel%20and%20Lebanon%3F&src=typed_query

اسرائیل نے یہ بھی اشارہ دیا ہے کہ اگر اسے ضرورت محسوس ہوئی تو وہ لبنان میں اپنی فوجی کارروائیاں جاری رکھ سکتا ہے۔

اکتوبر 2023 سے اسرائیل اور ایران نواز لبنانی تنظیم حزب اللہ کے درمیان جاری جنگ میں شدت کے مختلف ادوار دیکھنے میں آئے ہیں، جبکہ مارچ سے اب تک لبنان میں 4 ہزار سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

معاہدے میں کیا طے پایا؟

مارکو روبیو کے مطابق معاہدے کا مقصد لبنان کی خودمختاری کی بحالی، حزب اللہ کو غیر مسلح کرنا، اس کے فوجی ڈھانچے کا خاتمہ اور اسرائیل کو اپنی سرحدوں تک واپس جانے کا راستہ فراہم کرنا ہے، بشرطیکہ اسرائیل کو درپیش سکیورٹی خطرات ختم ہو جائیں۔

اس مقصد کے لیے ایک سہ فریقی فوجی رابطہ گروپ بھی تشکیل دیا جائے گا، جو معاہدے پر عمل درآمد کی نگرانی کرے گا۔

دوسری جانب لبنانی وزیراعظم نواف سلام نے کہا کہ معاہدے کا بنیادی مقصد اسرائیل کا تمام لبنانی علاقوں سے انخلا ہے۔

مزید پڑھیں: لبنان پر اسرائیلی حملے جاری، 32 افراد ہلاک، امریکا ایران مذاکرات کو سنگین خطرہ لاحق

تاہم انہوں نے واضح کیا کہ یہ معاہدہ ماضی کے بین الاقوامی معاہدوں اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کا تسلسل ہے، جن کے مطابق پورے لبنان پر صرف لبنانی فوج کی عملداری ہونی چاہیے۔

بعد ازاں امریکی محکمہ خارجہ کی جانب سے جاری کردہ معاہدے کے متن میں بتایا گیا کہ ایک مرحلہ وار عمل کے تحت پہلے لبنانی فوج پورے ملک پر مؤثر ریاستی کنٹرول بحال کرے گی اور غیر ریاستی مسلح گروہوں کو غیر مسلح کیے جانے کی تصدیق کے بعد ہی اسرائیل مرحلہ وار لبنان سے اپنی افواج واپس بلائے گا۔

ابتدائی مرحلے میں جنوبی لبنان کے دو علاقوں کو ’پائلٹ زونز‘ قرار دیا گیا ہے، جہاں لبنانی فوج مکمل سکیورٹی ذمہ داریاں سنبھالے گی۔

ان علاقوں میں مسلح گروہوں کے خاتمے کی تصدیق کے بعد تعمیر نو کا آغاز کیا جائے گا اور بے گھر شہری محفوظ طریقے سے اپنے گھروں کو واپس جا سکیں گے۔

زمینی صورتحال

اگرچہ جنگ بندی کے باعث لڑائی میں نسبتاً کمی آئی ہے، لیکن اسرائیلی حملے مکمل طور پر نہیں رکے۔ اسرائیل اب بھی لبنان کے تقریباً 5ویں حصے پر قابض ہے۔

جمعے کے روز، معاہدے پر دستخط کے چند گھنٹے بعد ہی اسرائیلی فضائی حملوں میں جنوبی لبنان کے قصبے میفدون میں 2 افراد ہلاک ہوئے، جبکہ نباتیہ الفوقہ پر بھی بمباری کی گئی۔

اسرائیلی فوج نے المنصوری قصبے میں شہریوں کو علاقہ خالی کرنے کے لیے پمفلٹ بھی گرائے۔

ادھر لبنانی فوج نے ان اطلاعات کی تردید کی ہے کہ اسرائیل نے جنوبی لبنان کی علی الطاہر پہاڑیوں پر قبضہ کر لیا ہے۔

کیا یہ معاہدہ امن کا راستہ ہموار کرے گا؟

ماہرین کے مطابق اس سوال کا جواب آسان نہیں، کیونکہ اسرائیل کا تنازع صرف لبنانی ریاست سے نہیں بلکہ حزب اللہ سے بھی ہے۔

اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے واضح کیا ہے کہ جب تک حزب اللہ غیر مسلح نہیں ہوتی اور اسرائیل کو خطرہ لاحق رہتا ہے، اسرائیلی فوج لبنان سے مکمل انخلا نہیں کرے گی۔

دوسری جانب لبنانی صدر جوزف عون نے معاہدے کو لبنان کی مکمل خودمختاری کی بحالی کی جانب پہلا قدم قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے بے گھر شہریوں کی اپنے آزاد کرائے گئے علاقوں میں واپسی کی راہ ہموار ہوگی۔

اگرچہ حزب اللہ مذاکرات میں شریک نہیں تھی، لیکن تنظیم نے پہلے ہی واضح کر دیا ہے کہ اسرائیل کو بغیر کسی شرط کے لبنان سے نکلنا ہوگا اور اسرائیل کے ساتھ کسی قسم کی ’معمول کے تعلقات‘ کی گنجائش نہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp