مظفرآباد: تاجروں اور ٹرانسپورٹرز کا 29 جون سے کاروبار اور ٹرانسپورٹ بحال کرنے کا اعلان

ہفتہ 27 جون 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

آزاد کشمیر کے دارالحکومت مظفرآباد کے تاجروں اور ٹرانسپورٹ تنظیموں کے رہنماؤں نے 29 جون سے کاروباری سرگرمیاں اور ٹرانسپورٹ مکمل طور پر بحال کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ مزید کسی ہڑتال یا شٹر ڈاؤن کا حصہ نہیں بنیں گے۔

مزید پڑھیں: آئی جی آزاد کشمیر پولیس نے سڑکوں کی بندش سے متعلق رپورٹ مسترد کر دی

وائس چیئرمین مرکزی انجمن تاجران گوہر کشمیری، صدر انجمن تاجران مدینہ مارکیٹ راجا ابرار مصطفیٰ، صدر ٹرانسپورٹ آپریٹرز یونین مظفرآباد ڈویژن خواجہ اعظم رسول اور انجمن تاجران و ٹرانسپورٹرز یونین مظفرآباد ڈویژن کے دیگر صدور و عہدیداران نے مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی موجودہ سرگرمیوں سے مکمل لاتعلقی کا اعلان کردیا۔

سینٹرل پریس کلب مظفرآباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وائس چیئرمین مرکزی انجمن تاجران گوہر کشمیری نے کہا کہ بنیادی عوامی مسائل کے حل کے لیے چلائی گئی تحریک میں تاجروں اور ٹرانسپورٹرز نے کلیدی کردار ادا کیا، جس کے نتیجے میں عام آدمی کے لیے سستا آٹا اور سستی بجلی کا مطالبہ منظور کرایا گیا۔

انہوں نے کہاکہ ان بنیادی مسائل کے حل کے بعد مزید کسی مطالبے کی ضرورت نہیں تھی، تاہم بعد ازاں کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نے تاجروں سے کسی قسم کی مشاورت کیے بغیر اپنی جانب سے نئے مطالبات شامل کر دیے۔

انہوں نے کہاکہ ہم اس ریاست کے باشندے ہیں اور اس کے ساتھ ہماری ذمہ داریاں وابستہ ہیں۔ ریاست کے اندر اچھے اور برے میں تمیز کرنا ہم سب کا فرض ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ حال ہی میں امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی کے لیے وزیراعظم پاکستان شہباز شریف اور فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر نے امن کے قیام میں اہم کردار ادا کیا، جسے سراہا جانا چاہیے۔

گوہر کشمیری نے کہاکہ تحریک کا مقصد صرف عام آدمی کو ریلیف فراہم کرنا تھا، جس کے لیے حکومت اور تاجروں کے درمیان باقاعدہ مذاکرات ہوئے۔ ان مذاکرات کے نتیجے میں آٹے اور بجلی کی قیمتوں میں کمی کی گئی، جبکہ آزاد جموں و کشمیر کی عوام کو نئی انفراسٹرکچر اسکیموں، ٹیکسوں میں کمی، تعلیم اور صحت کے خصوصی پیکجز سمیت مختلف شعبوں میں نمایاں ریلیف ملا۔

انہوں نے بتایا کہ حکومت پاکستان اور حکومت آزاد کشمیر نے مجموعی طور پر 72 ارب روپے کی سبسڈی فراہم کی، جو اس پورے خطے کے لیے ایک ریکارڈ ہے، جبکہ دیگر معاملات کے حل کے لیے الگ کمیٹیاں بھی تشکیل دی گئیں۔

انہوں نے واضح کیاکہ یہ تحریک کسی سیاسی مفاد، انتخابی عمل، قانون ساز اسمبلی کی نشستوں یا علاقائیت سے متعلق نہیں تھی بلکہ خالصتاً عوامی سہولیات کی فراہمی کے لیے شروع کی گئی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ ریاست ہماری اپنی ہے، حکومت بھی ہمارے اپنے لوگوں کی ہے اور عوام بھی ہمارے ہی ہیں، اس لیے تمام مسائل کا حل باہمی مذاکرات، احترام اور افہام و تفہیم کے ذریعے نکالا جانا چاہیے۔

گوہر کشمیری نے کہاکہ تحریک ابتدا سے پرامن رہی، تاہم اچانک اس کا رخ کسی اور جانب موڑ دیا گیا، جس پر تاجروں نے کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے سامنے بھرپور احتجاج بھی ریکارڈ کرایا۔

انہوں نے کہاکہ چارٹر آف ڈیمانڈ میں مہاجرین کی نشستوں کا معاملہ تاجروں سے کسی مشاورت یا اتفاق رائے کے بغیر شامل کیا گیا۔ بعد ازاں حکومت نے قانون ساز اسمبلی کے فلور پر اس معاملے پر غور کیا اور اسے آئینی معاملہ قرار دیتے ہوئے یقین دہانی کرائی کہ اس کا حل اسمبلی کے اندر ہی نکالا جائے گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس معاملے پر آل پارٹیز کانفرنس بھی بلائی گئی، جس میں تمام سیاسی اور مذہبی جماعتوں نے متفقہ طور پر قانون ساز اسمبلی کے فیصلے کی تائید کی۔ قانون کے تحت مہاجرین نشستوں کے معاملے کا فیصلہ انتخابات کے بعد اسمبلی میں اکثریتی رائے سے ہی ممکن ہے۔

مزید پڑھیں: عوامی ایکشن کمیٹی کے جائز مطالبات تسلیم کیے، پاکستان سے وفاداری کی آئینی شق ختم کرنے کا مطالبہ قابل قبول نہیں، امیر مقام

گوہر کشمیری کا کہنا تھا کہ مذاکرات کے دوران کسی ایک نکتے پر اصرار کرنے سے مسائل حل نہیں ہوتے بلکہ دونوں فریقوں کو تدبر، وسعت قلبی اور لچک کا مظاہرہ کرنا پڑتا ہے تاکہ قابل قبول حل نکالا جا سکے۔ انہوں نے میڈیا کے ذریعے اپیل کی کہ اس وقت ریاست کے اندر پیدا ہونے والی صورتحال سے عام آدمی شدید پریشانی کا شکار ہے، اس لیے تمام فریقین کو تحمل، مذاکرات اور امن کے راستے کو اختیار کرنا چاہیے۔

دوسری جانب آزاد کشمیر کے مختلف علاقوں میں معمولاتِ زندگی بتدریج بحال ہو رہے ہیں۔ مظفرآباد میں میڈیکل اسٹورز، سبزی و فروٹ کی دکانیں اور بیکریاں کھلی رہیں، جبکہ میرپور، بھمبر اور ضلع نیلم کے علاقے آٹھ مقام میں بھی کاروباری مراکز جزوی طور پر کھل گئے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

دفتر خارجہ میں قونصلر خدمات کے لیے شام کی شفٹ کا آغاز، اوقات کار رات 8 بجے تک بڑھا دیے گئے

اسٹیٹ بینک کا شرح سود 11.50 فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ، کاروبار اور معیشت کو کیا فائدہ ہوگا؟

پیٹرولیم کی قیمتوں میں ردوبدل، پیٹرول ایک روپے سستا اور ڈیزل 3.37 روپے مہنگا

ایران سے بات چیت جاری ہے، ناکامی کی صورت میں سخت حملہ کردیں گے، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ

ڈی ڈبلیو کی پاکستان کے ایٹمی پروگرام پر دستاویزی فلم: صحافت یا پروپیگنڈا؟

ویڈیو

ڈی ڈبلیو کی پاکستان کے ایٹمی پروگرام پر دستاویزی فلم: صحافت یا پروپیگنڈا؟

طالبان مخالف مزاحمت نئے مرحلے میں داخل، مسلح جدوجہد مقامی کارروائیوں سے منظم بغاوت کی جانب گامزن

کراچی کی منور چورنگی پر اب ٹریفک جام نہیں ہوگا، انڈر پاس عوام کے لیے کھول دیا گیا

کالم / تجزیہ

فخر درانی۔ ایک دلیر صحافی

دریاؤں کا مقدمہ اور معرکۂ حق

دو ہم سفر دو ہم عصر: منیر نیازی اور محمد سلیم الرحمان