سندھ کے سینیئر وزیر شرجیل انعام میمن نے دعویٰ کیا ہے کہ صوبائی حکومت کے زیر انتظام ایک بھی سڑک خراب نہیں، جبکہ وفاقی حکومت کے ماتحت آنے والی شاہراہوں کی حالت انتہائی خراب ہے۔
سندھ اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ اگر کوئی پورے سندھ میں صوبائی حکومت کی ایک بھی خستہ حال سڑک ثابت کر دے تو وہ اس کا جواب دینے کے لیے تیار ہیں۔
مزید پڑھیں: سندھ میں سیلاب سے متاثرہ سڑکوں کی بحالی کے لیے ڈیڑھ ارب روپے کی منظوری
ان کا کہنا تھا کہ وفاقی ادارے نئی سڑکوں کی تعمیر اور موجودہ انفراسٹرکچر کی بحالی میں سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کررہے، جبکہ سندھ حکومت نے اپنے زیر انتظام شاہراہوں کو بہتر بنایا ہے اور دیہی علاقوں میں کچے راستوں کو پیور بلاکس سے پختہ کیا جا رہا ہے۔
شرجیل میمن نے تعلیم کے شعبے کا ذکر کرتے ہوئے کہاکہ سرکاری اسکولوں کے لیے 97 ہزار اساتذہ کی بھرتیاں انتہائی شفاف انداز میں کی گئیں۔ ان کے مطابق نہ تو کسی امیدوار کی سفارش کی شکایت سامنے آئی اور نہ ہی یہ الزام لگا کہ کسی نے پیسے دے کر ملازمت حاصل کی، اس لیے اس بھرتی کے عمل کو سراہا جانا چاہیے۔
امن و امان کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ کراچی سے لے کر کشمور اور شکارپور تک حالات پہلے سے کہیں زیادہ بہتر ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے مؤثر انداز میں کام کر رہے ہیں، جبکہ ماضی میں جہاں سیکڑوں افراد اغوا ہوتے تھے، اب ایسی صورتحال باقی نہیں رہی۔
اپوزیشن کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے سینیئر وزیر نے کہاکہ شاہراہ بھٹو سے اپوزیشن ارکان خود سفر کرتے ہیں مگر اس منصوبے کی تعریف کرنے سے گریز کرتے ہیں۔
انہوں نے کہاکہ ایم کیو ایم کے حیدرآباد سے تعلق رکھنے والے رکن بھی اس شاہراہ کو استعمال کرتے ہیں، لیکن اس کی بہتری کا اعتراف نہیں کرتے۔
انہوں نے مزید کہاکہ وزیراعظم شہباز شریف نے بھی وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال کو سندھ کے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ ماڈل سے سیکھنے کی ہدایت کی تھی۔
مزید پڑھیں: بٹن دبا کر پانی نہیں نکال سکتے، لوگوں کو سڑکوں پر نہیں نکلنا چاہیے تھا، وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ
شرجیل میمن نے کہاکہ سندھ حکومت کے ترقیاتی منصوبوں کو ملک بھر میں سراہا جاتا ہے، تاہم افسوس کہ صوبے کے بعض سیاسی حلقے ان کامیابیوں کا اعتراف نہیں کرتے۔














