پیرا فورس میں اختیارات کا ناجائز استعمال ناقابل قبول، وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کا دوٹوک پیغام

پیر 29 جون 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے واضح کیا کہ پنجاب انفورسمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی میں ‘اوئے سامان اٹھاؤ، نکلو’ کا مغرور کلچر بالکل نہیں چلے گا۔

انہوں نے کہا کہ عوام پر رعب جھاڑنے، اختیارات کا ناجائز استعمال کرنے اور بدسلوکی کرنے والے اہلکاروں کی پیرا میں کوئی جگہ نہیں۔

 پنجاب انفورسمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (پیرا) کی کارکردگی کا جائزہ لینے کے لیے سول سیکریٹریٹ میں اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پیرا کا ہر اقدام عوام دوست ہونا چاہیے۔

یہ بھی پڑھیں: ’پیرافورس کا کارروائی سے انکار‘، لاہور ہائیکورٹ میں تھیٹروں پر چھاپوں کیخلاف درخواست نمٹا دی گئی 

اجلاس میں پیرا کی کارکردگی، ڈیجیٹلائزیشن، قانونی فریم ورک اور مستقبل کے لائحہ عمل پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔

وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے واضح کیا کہ کرپشن اور اختیارات کے ناجائز استعمال کو کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔

وزیراعلیٰ نے پیرا فورس کی کارروائیوں کی مؤثر نگرانی کے لیے ڈیجیٹل ریکوزیشن لازمی قرار دیتے ہوئے عوامی شکایات کے فوری ازالے کے لیے ’آسک پیرا‘ پورٹل کو مزید فعال بنانے اور ڈی جی پیرا کو براہ راست عوامی رابطہ بڑھانے کی ہدایت کی۔

انہوں نے کہا کہ پیرا شاندار کام کر رہی ہے، تاہم عوامی رابطے اور ادارے کی مثبت تشہیر پر مزید توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

مریم نواز شریف نے کہا کہ پیرا کا 99 فیصد کنوکشن ریٹ ادارے کی مؤثر کارکردگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

انہوں نے ہدایت کی کہ پیرا ریکوزیشن رولز کے مطابق کارروائی یقینی بنائی جائے، قانونی کارروائی کے دوران مزاحمت کا کلچر ختم کیا جائے اور قانون کی بالادستی ہر صورت قائم رکھی جائے۔

مزید پڑھیں: پنجاب میں 90 روز کے اندر زمینوں سے قبضہ ختم کروانے کا طریقہ کار کیا ہے؟

انہوں نے مزید کہا کہ انویسٹی گیشن افسران کے تبادلے اب کسی سفارش پر نہیں ہوں گے۔

اجلاس میں بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ دیگر محکموں سے آئے 351 ملازمین کو محکمانہ نظم و ضبط کی خلاف ورزی پر واپس ان کے محکموں میں بھیج دیا گیا۔

پیرا کا چالان کا نظام مکمل طور پر الیکٹرونک کیا جا رہا ہے جبکہ ڈیجیٹل شواہد اور کارروائی کا مکمل ریکارڈ محفوظ کیا جا رہا ہے۔

مزید پڑھیں: پنجاب میں ہر فیصلہ فوری نافذ ہوگا، مریم نواز کا ناجائز قبضوں کے خلاف سخت ایکشن

بریفنگ کے مطابق پیرا فورس اب تک 62 ہزار سے زائد ڈیجیٹل ریکوزیشنز پر کارروائیاں کر چکی ہے جبکہ صوبہ بھر میں 15 لاکھ 27 ہزار 28 انسپکشنز مکمل کی جا چکی ہیں۔

ان کارروائیوں کے دوران قوانین کی خلاف ورزی پر 3 ہزار 509 دکانیں سیل کی گئیں، جبکہ اینٹی انکروچمنٹ مہم کے تحت 21 ہزار کنال سے زائد سرکاری اراضی واگزار کرائی گئی۔

قیمتوں میں خودساختہ اضافے اور تجاوزات کے خلاف کارروائیوں میں اب تک 1700 افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے اور ہر کارروائی کا مکمل ڈیجیٹل ریکارڈ محفوظ ہے۔

مزید پڑھیں: پنجاب کے انفورسمنٹ افسران کو پرائس کنٹرول مجسٹریٹ کے اختیارات دینے کی منظوری

اجلاس کو بتایا گیا کہ عدالتی محاذ پر پیرا نے تاریخی کامیابیاں حاصل کی ہیں، 136 رٹ پٹیشنز میں سے 99 فیصد فیصلے پیرا کے حق میں آئے جبکہ جوڈیشل مجسٹریٹس اور ہیرنگ افسران کے سامنے بھی 98 فیصد کیسز میں کامیابی حاصل ہوئی۔

پیرا کا چالان مکمل کرنے کا تناسب 97 فیصد تک پہنچ گیا ہے اور پیرا ایکٹ کے تحت مینوئل چالان پر پہلی ایف آئی آر بھی درج کر لی گئی ہے۔

بریفنگ میں مزید بتایا گیا کہ محکمانہ احتساب کے تحت پیرا اہلکاروں کو 700 سزائیں دی جا چکی ہیں جبکہ غفلت برتنے پر 20 ملازمین کو ملازمت سے برطرف کیا گیا۔

مزید پڑھیں: پیرا فورس ظالموں کے لیے دہشت کی علامت ہوگی، مریم نواز

شفافیت کے فروغ کے لیے انٹرنل افیئرز یونٹ قائم کیا جا رہا ہے، کلر کہار میں پیرا ٹریننگ اکیڈمی پر کام شروع کر دیا گیا ہے اور جون 2027 تک پیرا کی مستقل بھرتیوں کا عمل مکمل کر لیا جائے گا۔

وزیراعلیٰ نے ہدایت کی کہ اینٹی انکروچمنٹ کارروائی سے قبل ہر ممکن طریقے سے نوٹس دینا اور خبردار کرنا لازمی ہوگا۔

جبکہ اینٹی انکروچمنٹ اور پرائس کنٹرول کے علاوہ ہر کارروائی کے لیے پیشگی ڈیجیٹل ریکوزیشن لازمی قرار دی جائے گی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp