کراچی سے کوئٹہ آنے والے سیاحوں پر دہشتگردوں کا حملہ، واقعہ میں کیا اہم پیشرفت ہوئی ہے؟

پیر 29 جون 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

کوئٹہ سے کراچی آنے والی فیملی پر حملے اور کراچی سے تعلق رکھنے والے سیاح علی مرتضیٰ کے قتل کے واقعے کا مقدمہ تاحال درج نہ ہو سکا۔

محکمہ داخلہ بلوچستان کے معاون خصوصی بابر یوسفزئی کے مطابق واقعے میں ملوث دہشتگردوں کی گرفتاری کے لیے سرچ اور انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن شروع کردیا گیا ہے، متاثرہ افراد بلوچستان کے مہمان تھے اور ان پر حملہ انتہائی افسوسناک ہے۔

مزید پڑھیں: گوگل میپ کی ایک غلطی اور تاجر علی جمیل کے سفرِ آخرت کی کہانی

انہوں نے کہاکہ واقعے کے تمام پہلوؤں کا باریک بینی سے جائزہ لیا جا رہا ہے، جبکہ مقدمہ کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) درج کرے گی۔

ادھر وزیر داخلہ بلوچستان میر ضیااللہ لانگو نے واقعے کا سخت نوٹس لیتے ہوئے فوری رپورٹ طلب کر لی ہے اور ذمہ دار عناصر کے خلاف سخت کارروائی کا حکم دیا ہے۔

انہوں نے علی مرتضیٰ کے قتل پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ معصوم اور بے گناہ افراد کو نشانہ بنانا انسانیت نہیں، معصوم بچوں کے سامنے ان کے والد کو شہید کرنا بزدلانہ عمل ہے۔

میر ضیااللہ لانگو نے کہاکہ شہریوں کے تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا اور ملوث عناصر کو ہر صورت قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔

انہوں نے بتایا کہ زخمی خاتون کو کراچی میں علاج کی سہولت فراہم کی جا رہی ہے، جبکہ متاثرہ خاندان کو ہر ممکن تعاون فراہم کیا جائےگا۔

وزیر داخلہ نے مزید کہاکہ مہمانوں کو اس طرح نشانہ بنانا بلوچستان کی روایات اور اقدار کے سراسر منافی ہے، اور حکومت دہشتگردی کے اس واقعے میں ملوث عناصر کو انجام تک پہنچانے کے لیے تمام وسائل بروئے کار لا رہی ہے۔

مزید پڑھیں: گوگل میپ کی مبینہ غلط رہنمائی، کراچی کا خاندان مستونگ میں حملے کا شکار

واضح رہے کہ دہشتگردوں کے حملے زخمی خاتون اس وقت کراچی کے نجی اسپتال میں زیر علاج ہے جس کی حالت تشویشناک بتائی جارہی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp