ایک عام شہری، جس کا نہ کوئی سیاسی پس منظر تھا اور نہ ہی کسی سے دیرینہ دشمنی۔ وہ پیشہ ورانہ مصروفیات سے وقت نکال کر بچوں کو گرمیوں کی چھٹیاں گزارنے کوئٹہ لے گیا تھا، لیکن گوگل میپ کی ایک غلطی اور سیکیورٹی کی سنگین نااہلی نے اسے ہمیشہ کے لیے اپنوں سے چھین لیا۔ یہ کہانی ہے کراچی کی معروف الیکٹرونکس مارکیٹ سے وابستہ تاجر علی جمیل (علی مرتضیٰ) کی، جو بلوچستان کے علاقے دشت (کھنڈ) میں دہشت گردی کا نشانہ بن گئے۔
مقتول کی ذاتی و پیشہ ورانہ زندگی
علی جمیل کو علی مرتضیٰ کے نام سے بھی جانا جاتا تھا۔ ان کی رہائش کراچی کے علاقے ناظم آباد میں تھی، اور تدفین سوسائٹی قبرستان، طارق روڈ میں ہوئی۔ پیشہ ورانہ وابستگی کی بات کی جائے تو وہ کراچی کی موبائل اور الیکٹرونکس مارکیٹ کے معروف تاجر تھے۔ سوگواران میں والد، بھائی، شدید زخمی اہلیہ اور دو معصوم بیٹیاں شامل ہیں۔
سانحہ دشت: تفریح سے المیے تک کا سفر
اہلِ خانہ کے مطابق مقتول علی جمیل اپنی زندگی میں پہلی بار اہلِ خانہ کے ہمراہ کوئٹہ کی سیر کے لیے نکلے تھے۔ کوئٹہ سے واپسی پر ڈیجیٹل میپ پر بھروسہ کرتے ہوئے گاڑی کا رخ ایک ایسے راستے کی طرف مڑ گیا، جو بظاہر شارٹ کٹ تھا، لیکن درحقیقت ایک حساس اور خطرناک زون تھا۔ میپ کی غلط نیویگیشن انہیں دشت کے سنسان اور انتہائی خطرناک علاقے کھنڈ لے گئی، جہاں سڑک پر پہلے سے گھات لگائے نامعلوم دہشت گردوں نے مسافر گاڑی کو دیکھتے ہی اندھا دھند فائرنگ کردی۔
یہ بھی پڑھیں: گوگل میپ کی مبینہ غلط رہنمائی، کراچی کا خاندان مستونگ میں حملے کا شکار
فائرنگ کے نتیجے میں علی جمیل کے سینے پر گولی لگی، جو جان لیوا ثابت ہوئی، جبکہ ان کی اہلیہ متعدد گولیاں لگنے سے شدید زخمی ہوئیں۔ گاڑی میں موجود دونوں معصوم بچیاں اس ہولناک منظر کو اپنی آنکھوں سے دیکھنے کے بعد شدید صدمے(ٹراما) کی حالت میں ہیں اور بولنے سے قاصر ہیں۔
لاش اور زخمیوں کی کراچی منتقلی
علی جمیل کے والد کے مطابق، اس ہولناک واقعے کے بعد بلوچستان حکومت، مقامی انتظامیہ یا بلوچستان پولیس کی جانب سے مقتول کے خاندان سے کوئی رابطہ نہیں کیا گیا اور نہ ہی کوئی مدد فراہم کی گئی۔ مقتول کے والد نے تصدیق کی ہے کہ سیکیورٹی اداروں اور حکومت کی مکمل بے حسی کے بعد، مقتول علی جمیل کی میت اور شدید زخمی بہو کو اہلِ خانہ نے اپنے ذاتی بندوبست کے تحت کوئٹہ سے کراچی منتقل کیا۔
کراچی پہنچنے پر مقتول کی نمازِ جنازہ رحمانیہ مسجد، طارق روڈ پر ادا کی گئی، جس میں تاجر رہنما رضوان عرفان، کراچی موبائل اینڈ الیکٹرونکس ڈیلرز ایسوسی ایشن کے صدر منہاج گلفام اور شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔
خاندان کے مطالبات
مقتول کے والد کا کہنا ہے کہ اگر دشت (کھنڈ) کا علاقہ اتنا حساس اور نو گو ایریا تھا، تو وہاں قانون نافذ کرنے والے اداروں کی پٹرولنگ کیوں نہیں تھی؟ شاہراہوں پر مسافروں کی رہنمائی کے لیے واضح سائن بورڈز آویزاں کیوں نہیں کیے گئے تاکہ عام شہری وہاں جانے سے بچ سکیں؟ کیا ریاست کا یہ فرض نہیں کہ وہ گوگل جیسے پلیٹ فارمز کے ساتھ مل کر حساس یا خطرناک راستوں کو بلاک یا وارننگ زون میں شامل کروائے؟
یہ بھی پڑھیں: گوگل میپس کی غلطی: فیملی وین دریا میں بہہ گئی، 3 ہلاک ایک بچہ لاپتا
علی جمیل کے والد کا کہنا ہے کہ اگر یہ پاکستان کا حصہ ہے، تو وہاں ایسا قتل کیوں ہوا؟ اگر ایسے علاقے میں کوئی غلطی سے بھی چلا جائے اور اسے کوئی بچانے والا نہ ہو، تو میری اپیل ہے کہ وہاں کوئی نہ جائے۔ میرے بیٹے نے صرف ایک غلطی کی اور اسے اتنی بڑی سزا مل گئی۔
تاجر برادری کا ردِعمل اور مطالبات
کراچی کی تاجر برادری نے اپنے نوجوان ساتھی کے قتل پر شدید غم و غصے کا اظہار کیا ہے۔ تاجر رہنما رضوان عرفان نے اس واقعے کو کھلی دہشت گردی قرار دیتے ہوئے فیلڈ مارشل، بلوچستان حکومت اور مقتدر اداروں سے فوری نوٹس لینے کی اپیل کی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ زخمی خاتون اس وقت اسپتال میں زندگی اور موت کی کشمکش میں ہیں۔
صدر، کراچی موبائل اینڈ الیکٹرونکس ڈیلرز ایسوسی ایشن، منہاج گلفام نے کہا کہ گوگل میپ کی یہ غلطی عام شہروں میں شاید معمولی بات ہو، لیکن یہاں اس نے ایک پورا گھر اجاڑ دیا۔ انہوں نے زخمی خاتون کے بہترین علاج اور واقعے کی اعلیٰ سطحی انکوائری کا مطالبہ کیا ہے۔













