جرمنی کے شمالی شہر شٹاڈے میں واقع نوجوانوں کی فلاحی رہائشی سہولت میں فائرنگ کے واقعے میں 5 افراد ہلاک جبکہ متعدد زخمی ہو گئے۔
جرمن پولیس کے مطابق واقعے کے بعد فوری کارروائی کرتے ہوئے 2 افراد کو حراست میں لیا گیا، جن میں مبینہ حملہ آور بھی شامل ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ حملے کی وجوہات جاننے کے لیے تحقیقات جاری ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: جرمنی کے شہر ہیمبرگ میں فائرنگ، 7 افراد ہلاک
پولیس نے تصدیق کی ہے کہ فی الحال عوام کو کسی مزید خطرے کا سامنا نہیں ہے۔
عینی شاہدین کے مطابق ایک مرد اور ایک خاتون فائرنگ کے بعد گاڑی میں فرار ہونے کی کوشش کر رہے تھے، تاہم پولیس نے انہیں راستے میں روک کر حراست میں لے لیا۔
View this post on Instagram
جرمن میڈیا کے مطابق یہ ادارہ نوجوان ماؤں اور ان کے بچوں کے لیے رہائشی سہولت فراہم کرتا ہے، جہاں کم عمر اور ضرورت مند ماؤں کی دیکھ بھال اور معاونت کی جاتی ہے۔
تاحال یہ واضح نہیں کیا گیا کہ ہلاک اور زخمی ہونے والوں میں رہائشی افراد شامل ہیں یا ادارے کا عملہ۔
واقعے کے بعد امدادی ٹیمیں، فرانزک ماہرین اور پولیس کی بھاری نفری موقع پر پہنچ گئی، جبکہ علاقے کو گھیرے میں لے کر شہریوں کو وہاں جانے سے گریز کرنے کی ہدایت کی گئی۔
یہ بھی پڑھیں: غزہ: اسرائیلی فورسز کی فائرنگ سے 62 فلسطینی شہید، زیادہ تر امداد کے متلاشی تھے
پولیس نے عوام سے اپیل کی ہے کہ تحقیقات مکمل ہونے تک غیر مصدقہ اطلاعات پھیلانے سے گریز کریں۔ حکام نے حملے کے محرکات یا متاثرین کی شناخت کے بارے میں فی الحال کوئی تفصیلات جاری نہیں کی ہیں۔
تقریباً 50 ہزار آبادی پر مشتمل شٹاڈے شہر، جو ہیمبرگ سے تقریباً 40 کلومیٹر مغرب میں واقع ہے، میں اس نوعیت کے واقعات بہت کم پیش آتے ہیں۔ جرمنی میں اسلحے سے متعلق قوانین سخت ہیں، اسی لیے اجتماعی فائرنگ کے واقعات دیگر کئی ممالک کے مقابلے میں نسبتاً نایاب سمجھے جاتے ہیں۔














