جنگ کے ملبے سے موسیقی تک، غزہ میں عود سازوں کو نئی زندگی دینے والا ہنرمند

پیر 29 جون 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

غزہ میں جاری جنگ نے جہاں ہزاروں زندگیاں متاثر کی ہیں، وہیں ایک فلسطینی ہنرمند تباہ شدہ موسیقی کے آلات کو دوبارہ زندگی دے کر ثقافتی ورثے کو محفوظ رکھنے کی کوشش کر رہا ہے۔

غزہ کے گنجان آباد نصیرات پناہ گزین کیمپ میں قائم ایک عارضی ورکشاپ میں 60 سالہ فلسطینی ہنرمند سہیل ابو شاویش ٹوٹ پھوٹ کا شکار عود کی مرمت میں مصروف ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: وسائل کی قلت: غزہ کے ماہی گیر ملبے سے ملنے والے دروازوں کے فریموں سے کشتیاں مرمت کرنے پر مجبور

 ان کے اردگرد امدادی سامان کے لکڑی کے ڈبے، ٹوٹے ہوئے آلات موسیقی اور لکڑی کے ٹکڑے بکھرے ہوتے ہیں، مگر انہی محدود وسائل سے وہ قیمتی سازوں کو دوبارہ قابل استعمال بنا رہے ہیں۔

سہیل ابو شاویش کے مطابق جنگ کے بعد نوجوان بڑی تعداد میں اپنے خراب عود مرمت کے لیے ان کے پاس لا رہے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ عود کی مرمت ان کے لیے صرف روزگار نہیں بلکہ فلسطینی ثقافتی شناخت کو محفوظ رکھنے کا ایک مشن ہے۔

پانچ بچوں کے والد سہیل ابو شاویش نے 1980 کی دہائی میں عود بجانا سیکھا تھا اور بعد میں مختلف اداروں میں موسیقی کے آلات کی مرمت اور بحالی کے ماہر بن گئے، جنگ کے دوران وہ رفح منتقل ہونے پر مجبور ہوئے، تاہم بعد ازاں واپس نصیرات  گئے۔

یہ بھی پڑھیں: مشرق وسطیٰ جنگ عالمی معیشت کے لیے خطرہ، شرحِ نمو اور مہنگائی پر شدید اثرات متوقع، سربراہ ورلڈ ورلڈ بینک

وسائل کی شدید کمی کے باعث وہ جدید مشینوں کے بجائے ہاتھ سے آری، ریتی اور دیگر سادہ اوزار استعمال کرتے ہیں۔ بجلی کی عدم دستیابی اور لکڑی کی قلت نے ان کا کام مزید مشکل بنادیا ہے۔

لکڑی نہ ہونے کے باعث وہ امدادی سامان کے خالی ڈبوں سے لکڑی حاصل کرتے ہیں، جبکہ مکمل تباہ شدہ عود کے قابل استعمال حصے نکال کر دوسرے آلات کی مرمت میں استعمال کرتے ہیں۔

ان کے مطابق پہلے 20 شیکل میں ملنے والی گوند اب تقریباً 60 شیکل میں دستیاب ہے، جبکہ دیگر ضروری سامان کی قیمتیں بھی کئی گنا بڑھ چکی ہیں۔

سہیل ابو شاویش کا کہنا ہے کہ ہر مرمت شدہ عود جنگ کی تباہ کاریوں کے خلاف ایک چھوٹی سی کامیابی ہے۔ وہ امید رکھتے ہیں کہ مستقبل میں غزہ میں اعلیٰ معیار کے فلسطینی عود تیار کیے جائیں گے، جو عالمی منڈی میں مقابلہ کرسکیں گے۔

یہ بھی پڑھیں: غزہ میں شرح پیدائش میں 67 فیصد کمی، اسقاط حمل عالمی اوسط سے 3 گنا زیادہ

انہوں نے کہا کہ اگر لکڑی، گوند اور دیگر خام مال کی درآمد کی اجازت مل جائے تو وہ بھی دنیا کے دیگر ممالک کی طرح معیاری مصنوعات تیار کر کے فخر سے کہہ سکیں گے کہ یہ فلسطین اور غزہ میں تیار کی گئی ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

حج انتظامات ڈیجیٹل دور میں داخل، 8 دن میں ڈیڑھ لاکھ سے زائد عازمینِ حج گھر بیٹھے رجسٹرڈ

رچرڈ بینیٹ دہشتگردی کو فروغ دینے والے افغان طالبان کا بیانیہ آگے بڑھانے لگے، اقوام متحدہ کی رپورٹس نظر انداز

جرمنی میں فائرنگ سے 5 افراد ہلاک، متعدد زخمی، ملزم گرفتار

فنانس ایکٹ 27-2026 کا گزٹ نوٹیفکیشن جاری، نئے بجٹ پر عملدرآمد یکم جولائی سے شروع ہوگا

اسپیکر پنجاب اسمبلی ملک احمد خان سے سینیئر صوبائی وزیر مریم اورنگزیب کی اہم ملاقات

ویڈیو

کروڑوں کی گاڑی میں آم فروخت کرنے والا تعلیم یافتہ نوجوان

شوق کی کوئی قیمت نہیں، کوئٹہ کے نوجوان نے چھت کو گلستاں میں تبدیل کردیا

آزاد کشمیر انتخابات: مسلم لیگ ن انتخابی مہم کا آغاز کرکے دیگر سیاسی جماعتوں پر بازی لے گئی

کالم / تجزیہ

جس کے ذکر سے پہلے پلکیں اشکوں سے وضو کرتی ہیں

اردو کے مہان ادیبوں کی پسندیدہ ہیروئن

دوست احباب ’کرائے‘ پر دستیاب ہیں