پی ٹی آئی شدید اندرونی اختلافات کا شکار، قیادت کو نظم و ضبط برقرار رکھنے میں مشکلات کا سامنا

منگل 30 جون 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) گزشتہ کچھ عرصے سے اندرونی اختلافات، تنظیمی تنازعات اور پارلیمانی سطح پر اختلاف رائے کا سامنا کررہی ہے۔ پارٹی کے مختلف دھڑوں کے درمیان تنظیمی امور، احتجاجی حکمت عملی، خیبرپختونخوا حکومت کی کارکردگی، پارلیمانی فیصلوں اور قیادت کے انداز پر مسلسل اختلافات سامنے آتے رہے ہیں۔

متعدد مواقع پر ارکان اسمبلی کے درمیان تلخ بیانات، نظم و ضبط کی خلاف ورزیوں اور باہمی کشیدگی نے بھی پارٹی قیادت کو مشکلات سے دوچار رکھا ہے۔

مزید پڑھیں: پی ٹی آئی میرا گھر، اختلافات اور شکوے سب چلتا رہے گا، جنید اکبر نے واضح کردیا

پی ٹی آئی میں اندرونی اختلافات ایک بار پھر شدت اختیار کر گئے ہیں۔ پارٹی قیادت نے مسلسل سامنے آنے والے تنازعات، ارکان اسمبلی کے درمیان جھگڑوں اور پارٹی نظم و ضبط کی خلاف ورزیوں کے بعد سخت تادیبی اقدامات کا آغاز کردیا ہے، جبکہ دوسری جانب خیبرپختونخوا میں بھی پارٹی کے اندر اختلافات کھل کر سامنے آنے لگے ہیں، جس سے جماعت کی داخلی صورتحال مزید پیچیدہ ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔

پارٹی میں اختلافات کے مسلسل سامنے آنے والے واقعات کے بعد سیاسی حلقوں میں یہ تاثر مضبوط ہو رہا ہے کہ پارٹی قیادت اختلافات پر قابو پانے میں ناکام ہے اور اراکین کو ایک صفحے پر رکھنے میں بھی کامیاب نظر نہیں آتی۔

حال ہی میں پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے رکن قومی اسمبلی اقبال آفریدی کو شوکاز نوٹس جاری کیا ہے۔ نوٹس میں ان پر پارٹی ارکان اور قومی اسمبلی کے عملے کے ساتھ بدتمیزی، توہین آمیز رویہ اختیار کرنے، پارلیمانی پارٹی کے فیصلوں کی خلاف ورزی اور اڈیالہ جیل کے باہر حملے کی منصوبہ بندی جیسے سنگین الزامات عائد کیے گئے ہیں۔

شوکاز نوٹس میں کہا گیا ہے کہ اقبال آفریدی کے اقدامات سے پارٹی کی ساکھ متاثر ہوئی، اتحاد کو نقصان پہنچا اور پارٹی ڈسپلن کو شدید دھچکا لگا۔ انہیں 7 روز کے اندر تحریری جواب جمع کرانے کی ہدایت کی گئی ہے، جبکہ خبردار کیا گیا ہے کہ غیر تسلی بخش جواب یا جواب جمع نہ کرانے کی صورت میں پارٹی آئین کے تحت بنیادی رکنیت ختم کرنے اور پارٹی سے نکالنے کی کارروائی بھی کی جا سکتی ہے۔

اقبال آفریدی کو پارٹی کے تمام عہدوں سے فوری طور پر ہٹانے کا فیصلہ

پارٹی ذرائع کے مطابق پارلیمانی پارٹی نے اقبال آفریدی کو پارٹی کے تمام عہدوں سے فوری طور پر ہٹانے اور ان کی بنیادی رکنیت معطل کرنے کا اصولی فیصلہ بھی کرلیا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ اقبال آفریدی پر متعدد مرتبہ پارٹی ڈسپلن کی خلاف ورزی کے الزامات سامنے آ چکے ہیں۔ قومی اسمبلی میں بھی ان کی رکنیت نظم و ضبط کی خلاف ورزی پر معطل کی گئی تھی، تاہم بیرسٹر گوہر علی خان کی خصوصی کوششوں سے انہیں بحال کرایا گیا تھا۔

گزشتہ ماہ بھی اقبال آفریدی کا تنازع اس وقت مزید سنگین ہوگیا جب قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران کورم کی نشاندہی پر پارٹی کے اپنے ہی ارکان آمنے سامنے آ گئے۔

اقبال آفریدی نے بات کرنے کی اجازت نہ ملنے پر کورم کی نشاندہی کی، جس کے نتیجے میں ڈپٹی اسپیکر نے اجلاس ملتوی کردیا۔ اجلاس ملتوی ہونے پر پی ٹی آئی کے چیف وہپ جنید اکبر اور دیگر ارکان نے اقبال آفریدی پر شدید برہمی کا اظہار کیا، جس کے بعد ایوان کے اندر دونوں رہنماؤں کے درمیان تلخ کلامی ہاتھا پائی میں تبدیل ہوگئی، اور دیگر ارکان نے مداخلت کر کے دونوں کو الگ کیا۔

ذرائع کے مطابق اجلاس کے دوران وزیر دفاع خواجہ آصف کی تقریر کے وقت بھی اقبال آفریدی مسلسل بولتے رہے، جس پر جنید اکبر نے انہیں خاموش رہنے کا اشارہ کیا، تاہم یہ معاملہ بھی شدید تنازع میں بدل گیا اور دونوں رہنما ایک دوسرے کی طرف بڑھ آئے۔

اس دوران پی ٹی آئی کے رکن اسمبلی سلیم الرحمان بھی مشتعل ہوگئے، یہاں تک کہ انہوں نے غصے میں جوتا بھی اتار لیا، جبکہ ایک تھپڑ بھی ہوا میں لہرایا گیا، تاہم اس کی کسی پر پڑنے کی تصدیق نہیں ہو سکی۔

اڈیالہ جیل کے باہر بھی پی ٹی آئی رہنماؤں کی لڑائیاں

پارٹی کے اندر اختلافات صرف پارلیمنٹ تک محدود نہیں رہے بلکہ اڈیالہ جیل کے باہر بھی رہنماؤں کے درمیان کشیدگی سامنے آئی۔ ذرائع کے مطابق قومی اسمبلی میں ہونے والے جھگڑے کے بعد اقبال آفریدی نے جنید اکبر اور صبغت اللہ سے ناراضی کے باعث اڈیالہ جیل کے باہر اپنے ساتھیوں کو بلا لیا، جہاں صبغت اللہ کے ساتھ بھی تلخ کلامی اور جھگڑے کا واقعہ پیش آیا۔

پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ صبغت اللہ نے قومی اسمبلی میں جنید اکبر اور اقبال آفریدی کے درمیان ہاتھا پائی رکوانے کی کوشش کی تھی، تاہم بعد میں وہ خود بھی تنازع کا حصہ بن گئے۔

یہ تمام معاملات بیرسٹر گوہر علی خان کی زیر صدارت ہونے والے پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں بھی زیر بحث آئے، جہاں ارکان نے پارٹی کے اندر بڑھتے ہوئے اختلافات اور نظم و ضبط کی صورتحال پر تفصیلی مشاورت کی۔

خیبر پختونخوا میں بھی پارٹی کے اندر اختلافات نمایاں ہونے لگے ہیں۔ ناراض رکن صوبائی اسمبلی فضل الٰہی نے صوبائی حکومت اور پارٹی قیادت پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ کابینہ میں تجربہ کار افراد کے بجائے ناتجربہ کار لوگوں کو شامل کیا گیا ہے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ 35 سے 40 اراکین اسمبلی ان کے مؤقف کی حمایت کر رہے ہیں۔

فضل الٰہی نے کہاکہ ان کا بنیادی مطالبہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کی رہائی کے لیے واضح اور مؤثر حکمت عملی اختیار کرنا ہے۔

انہوں نے پارٹی کی احتجاجی پالیسی کو ’کاسمیٹک‘ اور ’ہومیوپیتھک احتجاج‘ قرار دیتے ہوئے کہاکہ کارکنوں کو علامتی نہیں بلکہ عملی اقدامات درکار ہیں۔

مزید پڑھیں: پی ٹی آئی میں اندرونی اختلافات شدت اختیار کر گئے، شاندانہ گلزار کا علیمہ خان کے انٹرویو پر سخت ردعمل

ناراض رکن صوبائی اسمبلی فضل الٰہی نے اہم سوالات اٹھا دیے

انہوں نے سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور، سہیل آفریدی، مولانا فضل الرحمان اور محسن نقوی کے ساتھ ہونے والی ملاقاتوں پر بھی سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ اگر یہ تمام فیصلے بانی پی ٹی آئی عمران خان سے مشاورت کے بغیر کیے جا رہے ہیں تو وہ اور ان کے ہم خیال ارکان صوبائی بجٹ کی حمایت نہیں کریں گے۔

تازہ ترین واقعات اور ایک ہی وقت میں قومی اسمبلی، اڈیالہ جیل کے باہر اور خیبرپختونخوا میں سامنے آنے والے اختلافات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ پی ٹی آئی اس وقت شدید اندرونی بحران سے گزر رہی ہے، جبکہ پارٹی قیادت نظم و ضبط برقرار رکھنے اور داخلی اختلافات پر قابو پانے کے لیے سخت تادیبی اقدامات کی طرف بڑھ رہی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp