پانی کا رخ موڑنے یا روکنے کی بھارتی کوشش کو جنگ تصور کیا جائےگا، پاکستان نے واضح کردیا

منگل 30 جون 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاکستان نے واضح کیا ہے کہ پانی کا رخ موڑنے یا روکنے کی بھارتی کوشش کو جنگ تصور کیا جائےگا۔

نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے اسلام آباد میں منعقدہ سندھ طاس معاہدے سے متعلق بین الاقوامی سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ بھارت کے لیے مشورہ ہے جنوبی ایشیا کے امن کو خطرے میں نہ ڈالے۔

مزید پڑھیں: سندھ طاس معاہدہ صرف پانی کا نہیں، عالمی امن اور سلامتی کا معاملہ بن گیا

انہوں نے کہاکہ پاکستان امن کا داعی ہے اور ہم کسی صورت جنگ نہیں چاہتے، خطے میں پائیدار امن کا راستہ طاقت یا دھمکی نہیں صرف مذاکرات ہیں۔

انہوں نے کہاکہ دریاؤں اور ان کے پانی کا تحفظ پاکستان کے لیے قومی مفاد اور قومی سلامتی کا مسئلہ ہے، بین الاقوامی معاہدوں کی خلاف ورزی کے نتائج صرف دو ممالک تک نہیں رہتے۔

اسحاق ڈار نے کہاکہ پانی روکنے کی کوشش پر جوابی کارروائی کا فیصلہ سیاسی و عسکری قیادت نے متفقہ طور کیا تھا، پانی پاکستان کے 25 کروڑ سے زیادہ شہریوں کی زندگی کی بنیادی ضرورت ہے۔

نائب وزیراعظم نے کہاکہ ہماری زراعت، غذائی تحفظ اور معیشت کا انحصار 3 مغربی دریاؤں کے بہاؤ پر ہے۔

انہوں نے کہاکہ پاکستان اپنے جائز آبی وسائل پر قبضہ یا تجاوز کسی صورت قبول نہیں کرےگا، دریاؤں سے متعلق عالمی معاہدے کو سبوتاژ کرنے کی قیمت بھاری ہو سکتی ہے۔

پاکستان ہر صورت اس تاریخی معاہدے کے تقدس کا تحفظ کرے گا، عطااللہ تارڑ

قبل ازیں سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اطلاعات عطااللہ تارڑ نے کہاکہ سندھ طاس معاہدہ محض ایک بین الاقوامی معاہدہ نہیں بلکہ پاکستان کے 24 کروڑ عوام کی زندگی، معیشت اور مستقبل سے جڑا معاملہ ہے۔ پاکستان ہر صورت اس تاریخی معاہدے کے تقدس کا تحفظ کرے گا اور اگر ملک کا پانی روکنے کی کوشش کی گئی تو قومی قیادت عوام کا حق بحال کرنے کے لیے مؤثر جواب دینے کے لیے پرعزم ہے۔

عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ پاکستان کے لیے پانی صرف ایک قدرتی وسیلہ نہیں بلکہ زندگی کا بنیادی مسئلہ ہے۔ ہزاروں برس سے دریائے سندھ کا نظام دنیا کی قدیم ترین تہذیبوں میں سے ایک کی آبیاری کرتا آیا ہے، جبکہ پاکستان کی تاریخ دراصل دریائے سندھ کی تاریخ ہے۔ انہوں نے کہا کہ زراعت قومی معیشت کا بنیادی ستون ہے اور دریائے سندھ اس کی شہ رگ کی حیثیت رکھتا ہے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ 6 دہائیاں قبل پاکستان اور بھارت نے ایک غیر معمولی فیصلہ کرتے ہوئے 1960 میں سندھ طاس معاہدہ کیا، جو بین الاقوامی تعلقات کی تاریخ کے سب سے پائیدار آبی معاہدوں میں شمار ہوتا ہے۔ پاکستان نے ہمیشہ پرامن تعلقات، تعمیری مذاکرات اور معاہدے پر مخلصانہ عمل درآمد کے عزم کا مظاہرہ کیا ہے۔

سندھ طاس معاہدے کی بحالی کے بغیر پاک بھارت پائیدار امن ممکن نہیں، بلاول بھٹو زرداری

چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ پانی محض جغرافیے کا معاملہ نہیں بلکہ خوراک، معیشت، مستقبل اور کروڑوں انسانوں کی زندگی سے جڑا بنیادی مسئلہ ہے۔ پانی کو سیاسی دباؤ یا ہتھیار کے طور پر استعمال کرنا بین الاقوامی قوانین، معاہدوں اور عالمی امن کے اصولوں کے منافی ہے۔

بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ دنیا اس حقیقت کو تسلیم کر چکی ہے کہ پانی کے وسائل عالمی سیاست، سلامتی اور استحکام کا مرکزی مسئلہ بنتے جا رہے ہیں۔

مزید پڑھیں: سندھ طاس معاہدہ: عدالت کا فیصلہ پاکستان کے حق میں، بھارت کے یکطرفہ اقدامات مسترد

ان کا کہنا تھا کہ جس طرح آبنائے ہرمز کی بندش عالمی معیشت کو متاثر کرتی ہے، اسی طرح دریائے سندھ کے پانی میں رکاوٹ پاکستان کی معیشت، زراعت اور عوام کی زندگیوں پر براہ راست اثر انداز ہوتی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp