دنیا کی بڑی ٹیکنالوجی کمپنیاں ایک ایسے مستقبل کا تصور پیش کر رہی ہیں جہاں لوگ اپنے اسمارٹ فونز اور دیگر اسکرینز کو کم سے کم استعمال کریں گے۔ تاہم سوال یہ ہے کہ کیا یہ واقعی اسکرین ٹائم کے مسئلے کا حل ہے یا پھر ٹیکنالوجی کے ہماری روزمرہ زندگی میں مزید گہرے نفوذ کا آغاز؟
یہ بھی پڑھیں: سستے اسمارٹ گلاسز مارکیٹ میں لانے کی تیاریاں، کیا اب اسمارٹ فونز کا دور ختم ہونے والا ہے؟
میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی ٹیکنالوجی کمپنی ایپل آئندہ سال ایسے ایئر پوڈز متعارف کرانے کی تیاری کر رہی ہے جن میں کیمرے نصب ہوں گے۔ بلومبرگ کی ایک رپورٹ کے مطابق ان کیمروں کا مقصد تصاویر لینا نہیں ہوگا بلکہ یہ صارف کے اردگرد کے ماحول سے متعلق معلومات جمع کرکے انہیں مصنوعی ذہانت سے لیس ورچوئل اسسٹنٹ ’سِری‘ تک پہنچائیں گے۔
اگرچہ ایپل نے اس خبر کی تصدیق یا تردید نہیں کی تاہم یہ پیشرفت ٹیکنالوجی کی دنیا میں ایک وسیع تر رجحان کی عکاسی کرتی ہے جس کا مقصد کمپیوٹر اور ڈیجیٹل آلات کے استعمال کو روایتی اسکرینز سے ہٹا کر پہننے کے قابل ڈیوائسز (ویئر ایبل ٹیکنالوجی) کی طرف منتقل کرنا ہے۔
کیا اسکرینز کا دور ختم ہونے والا ہے؟
گزشتہ تقریباً 60 برسوں سے کمپیوٹرز اور ڈیجیٹل ڈیوائسز کے ساتھ انسان کا بنیادی رابطہ اسکرین کے ذریعے ہوتا آیا ہے۔ تاہم اب اسمارٹ چشموں، مصنوعی ذہانت سے چلنے والے ہار پہننے والے آلات اور دیگر ویئر ایبل ڈیوائسز کی بدولت اسکرینز کا کردار محدود ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
مزید پڑھیے: ایمیزون نے ڈرائیورز کے لیے اے آئی اسمارٹ چشمے متعارف کرا دیے
حال ہی میں اسنیپ چیٹ کی مالک کمپنی اسنیپ نے مصنوعی ذہانت سے لیس اسمارٹ چشموں ’اسپیکس‘ متعارف کرائے ہیں جن کی قیمت برطانیہ میں تقریباً 2 ہزار پاؤنڈ اور امریکا میں 2,195 ڈالر رکھی گئی ہے۔
کمپنی کے چیف ایگزیکٹو ایون اسپیگل کے مطابق دہائیوں سے کمپیوٹرز نے انسانوں کو نیچے دیکھنے، ایک جگہ بیٹھنے یا حقیقی لمحے سے دور ہونے پر مجبور کیا جبکہ اسپیکس کمپیوٹنگ کے ایک نئے دور کا آغاز ہیں۔
یہ اسمارٹ چشمے صارفین کو اس قابل بناتے ہیں کہ وہ فون استعمال کیے بغیر بھی مختلف ڈیجیٹل کام انجام دے سکیں جبکہ ان میں موجود ڈسپلے ضرورت پڑنے پر حقیقی دنیا کے منظر پر معلومات ظاہر کرتا ہے۔
ویئر ایبل ٹیکنالوجی کی مقبولیت میں اضافہ
ماہرین کے مطابق جسم پر پہن کر استعمال کی جانے والی ٹیکنالوجی کی مارکیٹ تیزی سے بڑھ رہی ہے۔
مزید پڑھیں: میٹا نے رے بین اسمارٹ چشمے لانچ کردیے، خصوصیات کیا ہیں؟
رپورٹس کے مطابق میٹا کے اب تک تقریباً 70 لاکھ اسمارٹ چشمے فروخت ہو چکے ہیں جبکہ کمپنی نے حال ہی میں نسبتاً کم قیمت والے نئے ماڈلز بھی متعارف کرانے کا اعلان کیا ہے۔
تاہم اسمارٹ چشموں اور دیگر ویئر ایبل آلات کے ساتھ پرائیویسی کے سنگین خدشات بھی سامنے آ رہے ہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ ایسے آلات میں نصب کیمرے بعض اوقات لوگوں کی اجازت کے بغیر ان کی ویڈیوز یا تصاویر ریکارڈ کرنے کے لیے استعمال کیے جا سکتے ہیں۔
اسکرین کے بغیر مستقبل کیسا ہو سکتا ہے؟
اگر مستقبل میں ایئر پوڈز، اسمارٹ چشمے اور دیگر ویئر ایبل ڈیوائسز عام ہو جاتے ہیں تو صارفین کو متعدد ایسے کام کرنے کی سہولت مل سکتی ہے جن کے لیے آج اسکرین دیکھنا ضروری ہے۔
یہ بھی پڑھیے: اے آئی چشمے: سہولت کے ساتھ غلط معلومات اور پرائیویسی کے خدشات بھی سامنے آگئے
مثال کے طور پر صارف اپنے اردگرد موجود اشیا کے بارے میں سوالات پوچھ سکے گا، فریج میں موجود اجزا کی بنیاد پر کھانوں کی تجاویز حاصل کر سکے گا، راستہ معلوم کر سکے گا یا ہاتھ کے اشاروں سے مختلف ڈیوائسز کو کنٹرول کر سکے گا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ مصنوعی ذہانت کی ترقی کا ایک اہم مقصد کمپیوٹرز کے ساتھ رابطے کو زیادہ قدرتی اور انسانی انداز میں تبدیل کرنا ہے تاکہ صارفین کو ہر وقت اسکرین پر نظریں جمائے رکھنے کی ضرورت نہ رہے۔
کیا اسمارٹ فون واقعی ختم ہو جائیں گے؟
ٹیکنالوجی کے ماہر اور مارکیٹ ریسرچ فرم سی ایس ایس انسائٹ کے چیف تجزیہ کار بین ووڈ کے مطابق اسمارٹ فونز مستقبل قریب میں ختم ہونے والے نہیں ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ اسمارٹ فون آج معاشرے کا ایک لازمی حصہ بن چکا ہے لیکن ٹیکنالوجی کی صنعت اور بعض صارفین میں یہ خواہش ضرور موجود ہے کہ لوگ اپنے سروں کو اسکرینز سے اٹھا کر اردگرد کی دنیا پر زیادہ توجہ دیں۔
تاہم ناقدین کا خیال ہے کہ اسکرین سے پاک ٹیکنالوجی کا مقصد اسکرین کے استعمال کو کم کرنا نہیں بلکہ صارفین کو مزید مواقع پر ٹیکنالوجی کے ساتھ منسلک رکھنا بھی ہو سکتا ہے۔
مزید پڑھیں: اسمارٹ گلاسز کا خطرناک استعمال، خواتین سوشل میڈیا پر ہراسانی کا شکار
ماہرین کے مطابق آنے والے برسوں میں یہ واضح ہوگا کہ آیا اسکرین سے پاک مستقبل واقعی انسانوں کے لیے زیادہ آسان اور فطری ثابت ہوگا یا پھر یہ ہماری زندگیوں میں ٹیکنالوجی کی موجودگی کو پہلے سے بھی زیادہ بڑھا دے گا۔














