خیبرپختونخوا: پی ٹی آئی کے ناراض اراکین سہیل آفریدی کے نشانے پر، فنڈز روکنے اور سیاسی طور پر تنہا کرنے کا فیصلہ

بدھ 1 جولائی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

خیبر پختونخوا میں بجٹ منظوری کے مرحلے کے دوران پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے اندر گروپ بنا کر سامنے آنے والے ناراض اراکین بجٹ منظوری کے بعد وزیراعلیٰ کے نشانے پر آ گئے ہیں اور ان کے ترقیاتی فنڈز روکنے اور پارٹی کے اندر سیاسی طور پر انہیں تنہا کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

بجٹ اجلاس کے دوران ہی ناراض اراکین نے ان خدشات کا اظہار کیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ پارٹی اور صوبائی حکومت عمران خان کی رہائی کے لیے اقدامات کے بجائے انہیں نشانہ بنا رہی ہے۔

مزید پڑھیں: پی ٹی آئی میرا گھر، اختلافات اور شکوے سب چلتا رہے گا، جنید اکبر نے واضح کردیا

بجٹ اجلاس کے دوران اسمبلی میں اپنے خطاب کے دوران سابق اسپیکر اور پی ٹی آئی کے ناراض رکن مشتاق غنی کا کہنا تھا کہ صوبائی حکومت انہیں عمران خان کی رہائی کا مطالبہ کرنے پر سزا دینے کے لیے ان کی اسکیمیں شامل نہیں کر رہی۔

مشتاق غنی کے علاوہ دیگر ناراض اراکین نے بھی بجٹ اجلاس میں کھل کر اپنی ہی حکومت پر تنقید کی تھی۔ سابق وزیر اور رکن اسمبلی سجاد بارکوال نے ضمنی بجٹ کے حوالے سے احتساب کا مطالبہ کیا تھا۔

بجٹ کے بعد ناراض اراکین وزیراعلیٰ کے نشانے پر

پی ٹی آئی کے رہنماؤں کے مطابق پی ٹی آئی میں گروپ بندی اور اختلافات کوئی نئی بات نہیں، لیکن بجٹ 27-2026 سے قبل پی ٹی آئی کے کچھ اراکین کھل کر سامنے آئے اور تصدیق کی کہ پارٹی کے لوگ ناراض ہیں۔

ناراض ہم خیال اراکین نے اپنا الگ گروپ بھی بنایا تھا، جن کی تعداد وہ 30 سے زیادہ بتا رہے تھے۔ ناراض اراکین عمران خان کی مسلسل قید اور ان کی رہائی کے لیے مؤثر سیاسی حکمت عملی نہ اپنانے پر صوبائی حکومت اور پارٹی قیادت سے نالاں تھے اور بجٹ کے حق میں ووٹ نہ دینے کا بھی عندیہ دیا تھا۔

ناراض اراکین کا مؤقف تھا کہ خیبر پختونخوا حکومت اور پارٹی تنظیم عمران خان کی رہائی کے لیے مطلوبہ سیاسی دباؤ اور عملی اقدامات نہیں کر رہی۔ اسی تناظر میں انہوں نے بجٹ اجلاسوں کے دوران اپنی ناراضی کا کھل کر اظہار کیا۔

بجٹ سیشن سے قبل اور اس کے دوران پی ٹی آئی کی پارلیمانی پارٹی کے متعدد اجلاس منعقد ہوئے، تاہم ناراض اراکین کی بڑی تعداد نے ان اجلاسوں میں شرکت نہیں کی۔ بجٹ پیش کیے جانے کے روز بھی بعض اراکین پارلیمانی پارٹی کے اہم اجلاس سے غیر حاضر رہے، جسے پارٹی قیادت نے نظم و ضبط کے حوالے سے سنجیدہ معاملہ قرار دیا۔

اسمبلی فلور پر بھی ان اراکین نے حکومت کے خلاف غیر معمولی سخت مؤقف اختیار کیا۔ بجٹ پر بحث کے دوران بعض اراکین نے اپنی ہی حکومت کی کارکردگی پر سوالات اٹھائے، مالی ترجیحات کو تنقید کا نشانہ بنایا اور بجٹ کو عوامی توقعات کے برعکس قرار دیا۔

حکومتی بینچوں سے تعلق رکھنے والے اراکین کی جانب سے کھلے عام تنقید نے پارٹی کے اندر موجود اختلافات کو نمایاں کردیا۔

وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے بجٹ منظوری کے مرحلے میں نسبتاً نرم رویہ اختیار کیا اور بارہا یہ تاثر دیا کہ تمام اراکین حکومت اور پارٹی کے ساتھ کھڑے ہیں۔ تاہم بجٹ کی منظوری کے بعد حکومتی اور پارٹی حلقوں میں ناراض اراکین کے خلاف کارروائی کا فیصلہ ہوگیا۔

ذرائع کا دعویٰ ہے کہ ایسے اراکین کی تعداد قریباً 10 ہے جو بجٹ کے دوران بھی اپنے مؤقف سے پیچھے نہیں ہٹے۔ حکومت نے ان اراکین کے لیے سیاسی اور انتظامی مشکلات پیدا کرنے کی حکمت عملی تیار کر لی ہے۔

ذرائع کے مطابق ان اراکین کے ترقیاتی فنڈز روکنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، جبکہ ان کے حلقوں میں ترقیاتی منصوبوں کے لیے وسائل دیگر ذرائع، خصوصاً قومی اسمبلی کے اراکین کے ذریعے خرچ کیے جائیں گے۔ مزید یہ کہ ان اراکین کی جانب سے تجویز کردہ ترقیاتی اسکیموں کے لیے فنڈز کے اجرا کو بھی روکنے کا کہا گیا ہے۔

’میگا منصوبوں کا افتتاح وزیراعلیٰ یا متعلقہ وزیر کریں گے‘

ذرائع کا کہنا ہے کہ کسی بھی حلقے میں میگا ترقیاتی منصوبوں کا افتتاح وزیراعلیٰ خود کریں گے اور وزیراعلیٰ کی مصروفیات کی صورت میں متعلقہ محکمے کا وزیر افتتاح کرےگا۔

انہوں نے مزید بتایا کہ ترقیاتی منصوبوں کے افتتاح کے وقت پارٹی اور صوبائی حکومت کی تشہیر کی جائے گی اور کسی صورت ناراض رکن کو اس کا کریڈٹ نہیں دیا جائےگا۔

ذرائع نے بتایا کہ بجٹ میں اراکین کے حلقوں میں مختلف ترقیاتی اسکیمیں بھی شامل کی گئی ہیں، جبکہ ناراض اراکین کے حلقوں میں کام اگر ہوئے بھی تو اس کا کریڈٹ ایم این اے کو جائےگا۔

ناراض اراکین کو سیاسی طور پر تنہا کرنے کا فیصلہ

پارٹی سطح پر بھی ناراض اراکین کو الگ تھلگ کرنے کی حکمت عملی تیار کر لی گئی ہے۔ ذرائع کے مطابق پارٹی قیادت کی جانب سے ان اراکین کے ساتھ رابطے محدود کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ وزیراعلیٰ ان اراکین سے ملاقات نہیں کریں گے، جبکہ انہیں سیاسی مشاورت سے بھی دور رکھا جائےگا۔

ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ اگر مستقبل میں عمران خان سے ملاقات کا موقع ملا تو وزیراعلیٰ سہیل آفریدی ناراض اراکین کے طرز عمل اور بجٹ کے دوران اختیار کیے گئے مؤقف کے حوالے سے تفصیلی رپورٹ پیش کریں گے۔

پی ٹی آئی کے ایک ناراض رکن نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ پارٹی میں ان سے رابطہ کم ہوگیا ہے۔ ترقیاتی فنڈز روکنے کے حوالے سے انہوں نے کہاکہ گزشتہ سال کون سی ترقیاتی اسکیمیں دی گئی تھیں جو اس سال دی جائیں گی۔

’یہ تو آگے جا کر ہی پتا چلے گا کہ ہمارے حلقوں میں ترقیاتی کاموں کا کیا بنے گا، ابھی تو ابتدا ہے۔‘

انہوں نے کہاکہ سہیل آفریدی خود پریشان ہیں، پارٹی میں لوگ ان سے ناراض ہیں، ایسے حالات میں اگر ترقیاتی فنڈز روکے گئے تو مزید مشکلات پیدا ہوں گی۔ انہوں نے کہا کہ اگر ایسا انتقامی عمل اپنایا گیا تو وہ کھل کر اس کے خلاف احتجاج کریں گے۔

’جولائی میں ناراض اراکین کو کوئی فنڈز جاری نہیں ہوں گے‘

پشاور کے نوجوان صحافی شاہد خان کا کہنا ہے کہ بجٹ کی منظوری کے بعد سہیل آفریدی نے ناراض اراکین کو تنگ کرنا شروع کر دیا ہے۔ ان کے مطابق جولائی میں ناراض اراکین کو کوئی فنڈز جاری نہیں ہوں گے۔

مزید پڑھیں: کیا پی ٹی آئی کے اندرونی اختلافات عمران خان کی رہائی میں حائل ہیں؟

ان کے مطابق بجٹ اجلاس کے دوران اپنے ہی اراکین کی جانب سے تنقید پر سہیل آفریدی شدید ناراض ہیں، تاہم جن ناراض اراکین نے بجٹ کے دوران خاموشی اختیار کی اور وزیراعلیٰ کی بات مان لی، انہیں فنڈز کے اجرا میں کوئی رکاوٹ نہیں ہوگی۔

وزیراعلی کے مشیر برائے اطلاعات شفیع جان سے اس حوالے سے موقف لینے کے لیے رابطہ کیا گیا لیکن جواب نہیں آیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp