کیا زمین پر موجود انسان غیر ارادی طور پر اپنی موجودگی کا اشارہ دور دراز خلائی مخلوق تک پہنچا رہے ہیں؟ برطانیہ کی یونیورسٹی آف مانچسٹر کی ایک نئی تحقیق میں انکشاف کیا گیا ہے کہ دنیا بھر کے بڑے ہوائی اڈوں کے ریڈار سسٹمز اتنے طاقتور سگنلز خارج کرتے ہیں کہ انہیں سیکڑوں نوری سال دور موجود ممکنہ خلائی تہذیبیں بھی دریافت کر سکتی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: پینٹاگون نے 80 برس پرانے راز افشا کردیے، اڑن طشتریوں سے متعلق خفیہ فائلیں بالاخر جاری
اس تحقیق کے مطابق دنیا کے بڑے ہوائی اڈوں کے ریڈار سسٹمز مجموعی طور پر تقریباً 2×10¹⁵ واٹ طاقت کے سگنلز خارج کرتے ہیں جو اتنے مضبوط ہیں کہ اگر کسی خلائی تہذیب کے پاس امریکا میں موجود گرین بینک ٹیلی اسکوپ جیسی حساس ریڈیو دوربین ہو تو وہ زمین کے ان سگنلز کو تقریباً 200 نوری سال کے فاصلے سے بھی دریافت کر سکتی ہے۔
تحقیق کے سربراہ ڈاکٹر رامیرو کائس سائیڈ اور ان کی ٹیم جس میں پروفیسر مائیکل گیریٹ بھی شامل تھے نے یہ ماڈل تیار کیا کہ لندن کے ہیتھرو اور گیٹ وِک جبکہ نیویارک کے جان ایف کینیڈی ایئرپورٹ جیسے بڑے ہوائی اڈوں سے خارج ہونے والے ریڈار سگنلز کس طرح خلا میں پھیلتے ہیں۔
محققین نے بعد ازاں یہ بھی اندازہ لگایا کہ یہ سگنلز قریبی ستاروں کے نظام، بشمول بارنارڈز اسٹار اور اے یو مائیکروسکوپیائی سے کس طرح دکھائی دے سکتے ہیں۔
تحقیق میں صرف سول ایوی ایشن کے ریڈار سسٹمز ہی نہیں بلکہ فوجی طیاروں کے ریڈار سسٹمز کا بھی جائزہ لیا گیا۔ محققین کے مطابق فوجی ریڈار نسبتاً زیادہ مرتکز اور طاقتور شعاعیں خارج کرتے ہیں، جن کی طاقت تقریباً 1×10¹⁴ واٹ تک پہنچ سکتی ہے۔
مزید پڑھیے: پینٹاگون کی نئی یو ایف او فائلز منظر عام پر، پراسرار چمکتے گولوں کے انکشاف نے توجہ حاصل کر لی
ڈاکٹر رامیرو کائس سائیڈ کے مطابق اگر کوئی ترقی یافتہ خلائی تہذیب ان سگنلز کا مشاہدہ کرے تو وہ غالباً یہ سمجھ جائے گی کہ یہ قدرتی نہیں بلکہ کسی ذہین مخلوق کی تیار کردہ ٹیکنالوجی سے پیدا ہونے والے سگنلز ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بعض صورتوں میں یہ سگنلز سول ریڈار کے مقابلے میں 100 گنا زیادہ طاقتور بھی ہو سکتے ہیں۔
محققین نے خاص طور پر بارنارڈز اسٹار کا ذکر اس لیے کیا کیونکہ اس کے گرد بارنارڈ بی نامی ایک چٹانی سیارہ گردش کر رہا ہے۔
سائنس دانوں کے مطابق اگر کسی دوسرے سیارے سے بھی اسی نوعیت کے ریڈار سگنلز خارج ہو رہے ہوں تو انسانوں کو ممکنہ خلائی تہذیبوں کی تلاش میں بالکل ایسے ہی سگنلز کی کھوج کرنی ہوگی۔
مزید پڑھیں: یو ایف او فائلز جاری ہونے کے بعد نئی بحث: حقیقت، راز یا محض غلط فہمیاں؟
پروفیسر مائیکل گیریٹ کے مطابق اس تحقیق کے نتائج ریڈیو فریکوئنسی اسپیکٹرم کے بہتر استعمال، مواصلاتی نظام کی بہتری اور ریڈار ٹیکنالوجی کے زیادہ مؤثر ڈیزائن میں بھی مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔ محققین کا کہنا ہے کہ یہی ماڈل مستقبل میں سیاروی دفاع اور خلا پر انسانی ٹیکنالوجی کے اثرات کو سمجھنے کے لیے بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔














