بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے سے متعلق دھمکی آمیز رویے کے بعد اسلام آباد میں منعقدہ بین الاقوامی سیمینار میں پاکستان نے دو ٹوک اور واضح موقف اختیار کیا کہ ملک اپنے آبی حقوق پر کسی قسم کا سمجھوتہ قبول نہیں کرے گا۔
پاکستان کے اس مؤقف کو عالمی سطح پر پذیرائی حاصل ہو رہی ہے کہ سندھ طاس معاہدہ ایک مؤثر، قانونی طور پر پابند اور بین الاقوامی حیثیت رکھنے والا معاہدہ ہے جسے کوئی بھی فریق یکطرفہ طور پر نہ معطل کر سکتا ہے اور نہ ہی ختم کر سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سندھ طاس معاہدہ: بھارت نے کب، کون سی خلاف ورزی کی؟
بین الاقوامی ماہرین نے خبردار کیا کہ پانی کی تقسیم کے قائم شدہ نظام میں کسی بھی قسم کی مداخلت نہ صرف خطے کے امن و استحکام کو متاثر کرے گی بلکہ ریاستوں کے درمیان اعتماد، تعاون اور بین الاقوامی معاہدوں کی ساکھ کو بھی نقصان پہنچائے گی۔
عرب نیوز کی رپورٹ کے مطابق پاکستان نے متنبہ کیا ہے کہ بھارت کی جانب سے کئی دہائیوں پر محیط اس آبی معاہدے کو معطل کرنے کا فیصلہ ایک خطرناک نظیر قائم کر سکتا ہے جس کے اثرات صرف جنوبی ایشیا تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ دنیا بھر میں دریاؤں کے زیریں علاقوں میں آباد اربوں افراد کے آبی حقوق اور تحفظ کو بھی متاثر کر سکتے ہیں۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ اگر پاکستان کا پانی روکنے یا اس کے بہاؤ میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کی گئی تو قومی قیادت اپنے اس غیر متزلزل عزم پر قائم ہے کہ پاکستانی عوام کے پانی کے حق کے تحفظ اور بحالی کے لیے ہر مؤثر اور مناسب اقدام کیا جائے گا۔
Pakistan says India cannot unilaterally suspend the Indus Waters Treaty, vows to respond if New Delhi blocks Pakistan’s share of river water. https://t.co/1jj7nH4RGj
— Arab News Pakistan (@arabnewspk) June 30, 2026
ٹی آر ٹی ورلڈ کا کہنا ہے کہ پاکستان نے خبردار کیا ہے کہ اگر بھارت نے سندھ طاس معاہدے کے تحت پاکستان کے حصے کے پانی کو روکنے، موڑنے یا اس کے بہاؤ میں کمی لانے کی کوئی کوشش کی تو اسے ’پانی کو ہتھیار بنانے‘ کے مترادف سمجھا جائے گا، جس کے علاقائی امن اور سلامتی پر سنگین نتائج مرتب ہو سکتے ہیں۔
Pakistani officials at Indus Waters Treaty seminar warn India against depriving Islamabad of its water share under 1960 treaty, with one minister stating bluntly: "Whoever touches our water, their hands would be cut off" https://t.co/JfeWp4HwC4
— TRT World (@trtworld) July 1, 2026
فری پریس کشمیر کے مطابق پاکستان کا کہنا ہے کہ بھارت کی جانب سے معاہدہ معطل کرنے کے فیصلے کو ’غیر قانونی‘ قرار دیا اور کہا کہ پانی کو کبھی بھی سیاسی ہتھیار کے طور پر استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔ ان کے مطابق پاکستان کے ’جائز حق‘ کے پانی سے محروم کرنے کے سنگین نتائج علاقائی امن اور سلامتی پر مرتب ہوں گے۔
Pakistan says Indus Waters Treaty suspension threatens global rules-based order – https://t.co/AtjdP9FgBO
— Free Press Kashmir (@FreePressK) July 2, 2026
انڈیپینڈنٹ نیوز کا کہنا ہے کہ پاکستان نے خبردار کیا ہے کہ جو بھی اس کے حصے کے پانی پر قبضہ کرنے یا اس کی فراہمی روکنے کی کوشش کرے گا اس کا ’ہاتھ کاٹ دیا جائے گا اور یہ صرف اعلان نہیں تھا بلکہ گزشتہ ڈیڑھ سال میں ہم نے عملی طور پر بھی یہ ثابت کر کے دکھایا ہے‘۔
Pakistan says it will ‘chop off hand’ that tries to turn off its water supply in unsubtle dig at India https://t.co/b1EGoTdgHT
— The Independent (@Independent) July 1, 2026
دی ٹروتھ انٹرنیشنل کے مطابق پاکستان کا موقف ہے کہ سندھ طاس معاہدہ آج بھی ایک پابند بین الاقوامی معاہدہ ہے اور خطے میں پائیدار امن و استحکام اسی وقت ممکن ہے جب طے شدہ معاہدوں کا احترام کیا جائے اور تمام تنازعات کو پرامن مذاکرات کے ذریعے حل کیا جائے۔
Pakistan reaffirms Indus water rights, calls treaty cornerstone of regional peace
READ MORE: https://t.co/I4F7gaaYW7#Pakistan #reaffirms #Induswater #rights #treaty #cornerstone #regionalpeace #Islamabad #TTI pic.twitter.com/qtslSafE7C
— The Truth International (@ttimagazine) June 30, 2026













