’سندھ طاس معاہدہ یکطرفہ معطل نہیں کیا جا سکتا‘، پاکستان کے مؤقف کو عالمی پذیرائی

جمعرات 2 جولائی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے سے متعلق دھمکی آمیز رویے کے بعد اسلام آباد میں منعقدہ بین الاقوامی سیمینار میں پاکستان نے دو ٹوک اور واضح موقف اختیار کیا کہ ملک اپنے آبی حقوق پر کسی قسم کا سمجھوتہ قبول نہیں کرے گا۔

 پاکستان کے اس مؤقف کو عالمی سطح پر پذیرائی حاصل ہو رہی ہے کہ سندھ طاس معاہدہ ایک مؤثر، قانونی طور پر پابند اور بین الاقوامی حیثیت رکھنے والا معاہدہ ہے جسے کوئی بھی فریق یکطرفہ طور پر نہ معطل کر سکتا ہے اور نہ ہی ختم کر سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: سندھ طاس معاہدہ: بھارت نے کب، کون سی خلاف ورزی کی؟

بین الاقوامی ماہرین نے خبردار کیا کہ پانی کی تقسیم کے قائم شدہ نظام میں کسی بھی قسم کی مداخلت نہ صرف خطے کے امن و استحکام کو متاثر کرے گی بلکہ ریاستوں کے درمیان اعتماد، تعاون اور بین الاقوامی معاہدوں کی ساکھ کو بھی نقصان پہنچائے گی۔

عرب نیوز کی رپورٹ کے مطابق پاکستان نے متنبہ کیا ہے کہ بھارت کی جانب سے کئی دہائیوں پر محیط اس آبی معاہدے کو معطل کرنے کا فیصلہ ایک خطرناک نظیر قائم کر سکتا ہے جس کے اثرات صرف جنوبی ایشیا تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ دنیا بھر میں دریاؤں کے زیریں علاقوں میں آباد اربوں افراد کے آبی حقوق اور تحفظ کو بھی متاثر کر سکتے ہیں۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ اگر پاکستان کا پانی روکنے یا اس کے بہاؤ میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کی گئی تو قومی قیادت اپنے اس غیر متزلزل عزم پر قائم ہے کہ پاکستانی عوام کے پانی کے حق کے تحفظ اور بحالی کے لیے ہر مؤثر اور مناسب اقدام کیا جائے گا۔

ٹی آر ٹی ورلڈ کا کہنا ہے کہ پاکستان نے خبردار کیا ہے کہ اگر بھارت نے سندھ طاس معاہدے کے تحت پاکستان کے حصے کے پانی کو روکنے، موڑنے یا اس کے بہاؤ میں کمی لانے کی کوئی کوشش کی تو اسے ’پانی کو ہتھیار بنانے‘ کے مترادف سمجھا جائے گا، جس کے علاقائی امن اور سلامتی پر سنگین نتائج مرتب ہو سکتے ہیں۔

فری پریس کشمیر کے مطابق پاکستان کا کہنا ہے کہ بھارت کی جانب سے معاہدہ معطل کرنے کے فیصلے کو ’غیر قانونی‘ قرار دیا اور کہا کہ پانی کو کبھی بھی سیاسی ہتھیار کے طور پر استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔ ان کے مطابق پاکستان کے ’جائز حق‘ کے پانی سے محروم کرنے کے سنگین نتائج علاقائی امن اور سلامتی پر مرتب ہوں گے۔

انڈیپینڈنٹ نیوز کا کہنا ہے کہ پاکستان نے خبردار کیا ہے کہ جو بھی اس کے حصے کے پانی پر قبضہ کرنے یا اس کی فراہمی روکنے کی کوشش کرے گا اس کا ’ہاتھ کاٹ دیا جائے گا اور یہ صرف اعلان نہیں تھا بلکہ گزشتہ ڈیڑھ سال میں ہم نے عملی طور پر بھی یہ ثابت کر کے دکھایا ہے‘۔

دی ٹروتھ انٹرنیشنل کے مطابق پاکستان کا موقف ہے کہ سندھ طاس معاہدہ آج بھی ایک پابند بین الاقوامی معاہدہ ہے اور خطے میں پائیدار امن و استحکام اسی وقت ممکن ہے جب طے شدہ معاہدوں کا احترام کیا جائے اور تمام تنازعات کو پرامن مذاکرات کے ذریعے حل کیا جائے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp