سپریم کورٹ: سزا بڑھانے کی اپیل خارج، 14 سال بعد رہائی پا چکے قیدی کے بارے اہم حکم

جمعرات 2 جولائی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

سپریم کورٹ نے ملزم تحرین الیاس کی عمر قید کو سزائے موت میں تبدیل کرنے سے متعلق اپیل خارج کر دی، کیونکہ ملزم 14 سال قید کاٹنے کے بعد رہا ہو چکا ہے۔

سماعت کے دوران ژوب، بلوچستان کے جیل سپرنٹنڈنٹ ویڈیو لنک کے ذریعے عدالت میں پیش ہوئے۔ عدالت نے استفسار کیا کہ رپورٹ میں لکھا گیا ہے کہ 14 سال سزا مکمل ہونے کے بعد باقی سزا صدر مملکت کی عام معافی کے تحت ختم کی گئی، تاہم یہ بتایا جائے کہ عمر قید کی سزا کو 14 سال کیسے اور کس قانون کے تحت شمار کیا گیا۔

مزید پڑھیں:’برتھ ٹورازم‘: امریکی سپریم کورٹ نے پیدائشی شہریت پر پابندیوں کی ڈونلڈ ٹرمپ کی کوشش مسترد کر دی

عدالت نے ریمارکس دیے کہ اس کے خیال میں سپریم کورٹ کے ایک فیصلے کے مطابق عمر قید کے قیدی کے لیے کم از کم 17 سال قید پوری کرنا ضروری ہے، تاہم چونکہ ملزم رہائی پا چکا ہے، اس لیے اس معاملے کا جائزہ کسی دوسرے مقدمے میں لیا جائے گا۔

دوران سماعت عدالت نے یہ بھی ریمارکس دیے کہ تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 302 کے تحت ایک سزا پر عملدرآمد کے بعد دوسری سزا کیسے دی جا سکتی ہے، جبکہ قتل ثابت ہونے پر عدالت پہلے ہی فیصلہ دے چکی ہے اور اس پر عملدرآمد بھی ہو چکا ہے۔ عدالت نے درخواست گزار کے وکیل سے کہا کہ سزا بڑھانے کے لیے کوئی مضبوط قانونی جواز پیش کیا جائے۔

سماعت کے دوران عدالت نے وکیل سے مکالمے میں کہا، ’آپ کا تعلق جس علاقے سے ہے وہاں تو سب کے پاس اسلحہ ہوتا ہے۔ اگر وکلا کی تلاشی لی جائے تو 70 فیصد وکلا سے بھی اسلحہ برآمد ہو جائے گا۔‘

مزید پڑھیں:سپریم کورٹ نے ایف آئی اے سے جعلی ادویات کیس کا مکمل ریکارڈ طلب کر لیا

عدالت نے مزید ریمارکس دیے کہ آئین صدر مملکت کو سزا میں کمی کا اختیار دیتا ہے، جسے استعمال کیا گیا۔ عدالت نے کہا، ’اگر آپ سزا بڑھانا چاہتے ہیں تو آئینی ترمیم کروالیں، ویسے بھی آج کل ترامیم کرنا کون سا مشکل ہے۔‘

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp