بھارت میں مسلم خواتین جنریٹو مصنوعی ذہانت یا اے آئی کے ذریعے بنائی جانے والی جعلی اور جنسی نوعیت کی تصاویر، میمز اور پروپیگنڈا کا بڑھتا ہوا نشانہ بن رہی ہیں جس سے آن لائن ہراسانی اور خطرات میں اضافہ ہو گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: برطانوی خاتون کا بھارت کا سفر، دماغ میں 38 پیراسائٹس اور عجیب عارضے ساتھ لے آئیں
بین الاقوامی میڈیا رپورٹ کے مطابق عام تصاویر کو اے آئی ٹولز کے ذریعے تبدیل کر کے انہیں فحش نوعیت کے مناظر میں دکھایا جا رہا ہے اور پھر ان مواد کو سوشل میڈیا پر پھیلا کر متاثرہ خواتین کو بدنام، دھمکانے اور خاموش کرانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
رپورٹ میں ایک واقعے کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ ایک خاتون کی بغیر اجازت لی گئی تصویر جس میں وہ حجاب (برقعہ) میں موجود تھیں بعد میں غلط استعمال کر کے جنسی انداز میں پیش کی گئی اور آن لائن وائرل کر دی گئی۔
ماہرین کے مطابق سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر مسلم خواتین سے متعلق جنسی نوعیت کے مواد کو غیر معمولی انگیجمنٹ ملتی ہے اور ایک اندازے کے مطابق ایسے مواد پر فیس بک، ایکس اور انسٹاگرام پر 6.7 ملین سے زائد ردعمل سامنے آ چکے ہیں۔
مزید پڑھیے: پاکستان نے اقوام متحدہ میں بھارتی دہشتگردی اور جارحانہ اقدامات کا پردہ چاک کر دیا
ریسرچرز کا کہنا ہے کہ مسلم خواتین کو خاص طور پر ہدف بنایا جاتا ہے کیونکہ اس طرح کا مواد آن لائن نفرت انگیز بیانیے اور سماجی تقسیم کو مزید بڑھاتا ہے۔
متاثرہ خواتین کے مطابق اس ہراسانی کے باعث بعض نے اپنی نوکریاں چھوڑ دیں، سوشل میڈیا اکاؤنٹس بند کر دیے اور خوف کی وجہ سے محدود زندگی گزارنے پر مجبور ہو گئی ہیں۔
مزید پڑھیں: یوزویندر چاہل کی ایک اور گرل فرینڈ؟ اے آئی تصاویر پر بھارتی اداکارہ پھٹ پڑیں
یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ بھارت میں مسلم خواتین کو آن لائن ٹارگٹ کیا گیا ہو۔ اس سے قبل سنہ 2021 اور سنہ 2022 میں ’سلی ڈیلز‘ اور ’بلی بائی‘ جیسی ایپس کے ذریعے متعدد مسلم خواتین کی تصاویر کو غیر قانونی طور پر نیلامی کے انداز میں پیش کیا گیا تھا جس پر شدید عوامی ردعمل سامنے آیا تھا۔














