پاکستان اور سعودی عرب نے قطر کے دارالحکومت دوحہ میں امریکا اور ایران کے درمیان ہونے والے بالواسطہ مذاکرات میں ہونے والی مثبت پیشرفت پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان بات چیت کا عمل مستقبل قریب میں بھی جاری رہے گا۔
یہ بھی پڑھیں: اسحاق ڈار اور سعودی وزیر خارجہ کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ، خطے کی بدلتی ہوئی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار
دفتر خارجہ کے مطابق نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان آل سعود کے درمیان ٹیلی فونک رابطہ ہوا جس میں خطے کی مجموعی صورتحال، بالخصوص دوحہ میں ہونے والے حالیہ سفارتی رابطوں اور ثالثی کی کوششوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
دفتر خارجہ کے بیان کے مطابق دونوں رہنماؤں نے امریکا اور ایران کے درمیان بالواسطہ مذاکرات میں ہونے والی مثبت پیشرفت پر اطمینان کا اظہار کیا اور اس امید کا اظہار کیا کہ مذاکرات کا سلسلہ جلد دوبارہ شروع ہوگا اور خطے میں امن و استحکام کے لیے مؤثر نتائج سامنے آئیں گے۔
سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر عمل درآمد کے لیے پاکستان کی کوششوں اور خطے میں مذاکرات، مفاہمت اور پائیدار امن کے فروغ کے لیے اس کے مسلسل کردار کو سراہا۔
دریں اثنا پاکستان نے بھی امریکا اور ایران کے درمیان حالیہ بالواسطہ مذاکرات میں مثبت پیشرفت کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں فریقین نے ایران کے سابق سپریم لیڈر کی تدفین کی تقریبات کے بعد مذاکرات کا اگلا دور جلد از جلد منعقد کرنے پر اتفاق کیا ہے۔
پاکستانی دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی کے مطابق پاکستانی اور قطری ثالثوں نے دوحہ میں امریکی اور ایرانی وفود سے الگ الگ ملاقاتیں کیں۔ یہ مذاکرات گزشتہ ماہ سوئٹزرلینڈ میں ہونے والے لیک لوسرن سربراہی اجلاس کے نتائج کی بنیاد پر آگے بڑھائے گئے جبکہ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر عمل درآمد کے لیے بھی پیشرفت کی گئی۔
ادھر قطر کی وزارت خارجہ کے ترجمان ماجد الانصاری نے بھی اس پیشرفت کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ دوحہ مذاکرات میں اسلام آباد مفاہمتی یادداشت سے متعلق امور پر مثبت پیشرفت ہوئی ہے جبکہ دونوں فریقین نے مذاکراتی عمل کو جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔
واضح رہے کہ پاکستان اور قطر کی ثالثی سے طے پانے والی اسلام آباد مفاہمتی یادداشت جس کی گزشتہ ماہ سوئٹزرلینڈ میں ہونے والے لیک لوسرن اجلاس میں توثیق کی گئی تھی میں 60 روزہ جنگ بندی، آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے اور ایران کے جوہری پروگرام، پابندیوں میں نرمی اور علاقائی سلامتی سے متعلق ایک جامع معاہدے کے لیے روڈ میپ شامل ہے۔
مزید پڑھیں: پاکستان کا خطے میں امن کے لیے کردار جاری رکھنے کا عزم، اسحاق ڈار کا ایرانی وزیر خارجہ سے رابطہ
اگرچہ آبنائے ہرمز کے اطراف کشیدگی کے باعث اس سفارتی عمل کو ابتدائی دھچکا پہنچا تھا تاہم دوحہ میں ہونے والے حالیہ مذاکرات نے اس بات کا اشارہ دیا ہے کہ دونوں فریق ثالثی کے ذریعے معاہدے پر عمل درآمد کے لیے اب بھی پرعزم ہیں۔














