طوفانی موسم کے باعث چند گھنٹوں کی تاخیر کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ہفتے کی شب واشنگٹن ڈی سی کے نیشنل مال میں امریکا کی 250ویں یومِ آزادی کی تقریبات کے موقع پر انتخابی جلسے سے مشابہ ایک بڑے اجتماع سے خطاب کیا۔
خراب موسم کے باعث انتظامیہ نے تقریب میں شریک افراد کو عارضی طور پر محفوظ مقامات، قریبی عجائب گھروں اور سرکاری عمارتوں میں منتقل کر دیا تھا۔
بعد ازاں موسم بہتر ہونے پر شرکا کو دوبارہ واشنگٹن مونومنٹ کے قریب میدان میں جانے کی اجازت دی گئی، جہاں ٹرمپ نے مقامی وقت کے مطابق رات تقریباً 11:15 بجے خطاب کیا۔

خطاب کے آغاز میں ٹرمپ نے کہا کہ اگر مزید انتظار بھی کرنا پڑتا تو ہم کرتے، ہمیں کوئی چیز روک نہیں سکتی۔
تقریب میں شرکت کے لیے آنے والے افراد کو سخت سیکیورٹی انتظامات اور شدید گرمی کا سامنا کرنا پڑا۔
درجہ حرارت 102 ڈگری فارن ہائیٹ 39 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ گیا، جس کے باعث علاقے میں کئی پریڈز اور دیگر تقریبات بھی منسوخ کرنا پڑیں۔
*NOW: Large crowds of supporters are streaming onto the National Mall to hear President Donald Trump speak after a weather-related evacuation was lifted.* pic.twitter.com/mXJ28ETZOl
— Global Osint (@GlobalOsintNew) July 5, 2026
جنوبی ڈاکوٹا سے آنے والے 60 سالہ سافٹ ویئر انجینئر گلین سولینڈرکے مطابق یہ سب اس تجربے کا حصہ ہے جس کے لیے میں یہاں آیا ہوں۔
تقریب میں سفید فام قوم پرست تنظیم پیٹریاٹ فرنٹ کے ارکان بھی شریک ہوئے۔ تنظیم نے سوشل میڈیا پر واشنگٹن پہنچنے کی تصدیق کی۔
جبکہ سینکڑوں افراد اس تنظیم کے لباس میں میٹرو ٹرینوں کے ذریعے دارالحکومت پہنچے، تاہم مقامی پولیس کے مطابق کسی قسم کے تشدد یا ناخوشگوار واقعے کی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔
یہ بھی پڑھیں: امریکا کے یومِ آزادی پر سفید فام قوم پرستوں کی ریلیاں، ٹرمپ ایک بار پھر تنقید کی زد میں
ماضی میں امریکی صدور عموماً 4 جولائی کی تقریبات میں ذاتی طور پر شرکت سے گریز کرتے رہے ہیں، تاہم ٹرمپ پر یہ تنقید کی جا رہی ہے کہ انہوں نے سرکاری قومی تقریب اور انتخابی سیاست کے درمیان فرق کو مزید دھندلا دیا ہے۔
ٹرمپ انتظامیہ کی حمایت یافتہ تنظیم فریڈم 250 نے 2016 میں قائم ہونے والے غیرجانبدار کمیشن کو تقریباً پس منظر میں دھکیل دیا ہے۔
تنظیم نے نیشنل مال کے ایک بڑے حصے میں ‘گریٹ امریکن اسٹیٹ فیئر’ کا انعقاد کیا ہے، جہاں جھولوں، نمائشوں، قدامت پسند تنظیموں اور دفاعی صنعت سے وابستہ اداروں کے اسٹال لگائے گئے ہیں۔

فریڈم 250 کے مطابق اس میلے کا مقصد امریکا کو دنیا کی عظیم ترین قوم بنانے والے عوام اور اختراعات کو اجاگر کرنا ہے۔
تاہم متعدد ڈیموکریٹک پارٹی کے زیر انتظام ریاستوں نے ان تقریبات میں وفود بھیجنے سے انکار کر دیا، جبکہ کئی فنکاروں نے بھی سیاسی رنگ غالب آنے کے خدشات کے باعث شرکت منسوخ کر دی۔
ابتدائی دنوں میں تقریب میں شرکا کی تعداد کم رہی، تاہم حالیہ دنوں میں ہجوم میں نمایاں اضافہ ہوا، جس کے باعث داخلی راستوں پر کئی بلاکس تک طویل قطاریں لگ گئیں۔
مزید پڑھیں: ٹرمپ اور امریکا پر عالمی اعتماد میں ریکارڈ کمی، نئی سروے رپورٹ نے خطرے کی گھنٹی بجا دی
اسمتھسونین عجائب گھروں کے قریب واقع تحائف کی دکانوں اور ریستورانوں نے بھی ریکارڈ کے قریب فروخت کی اطلاع دی۔
فریڈم 250 کے تحت دیگر سرگرمیوں میں قدامت پسند مسیحی رہنماؤں کی مذہبی ریلی، مختلف کھیلوں کے مقابلے، وائٹ ہاؤس میں مخلوط مارشل آرٹس کے مقابلے اور اگست میں واشنگٹن میں انڈی کار ریس کا انعقاد بھی شامل ہے۔
تنظیم کی جانب سے ‘فریڈم ٹرکس’ بھی چلائے گئے، جن پر ناقدین کا کہنا ہے کہ ان میں امریکی تاریخ کو حد سے زیادہ مذہبی انداز میں پیش کیا گیا ہے جبکہ غلامی اور نسلی ناانصافی جیسے اہم موضوعات کو نظر انداز کیا گیا ہے۔

ادھر رائٹرز/اِپسوس کے ایک حالیہ سروے کے مطابق امریکیوں کی اکثریت، جن میں تقریباً 3 چوتھائی ڈیموکریٹس اور نصف ریپبلکن شامل ہیں، کا خیال ہے کہ امریکا کی 250ویں سالگرہ کی تقریبات حد سے زیادہ سیاسی رنگ اختیار کر چکی ہیں۔
ٹرمپ انتظامیہ نے 250ویں سالگرہ کی تقریبات سے قبل واشنگٹن شہر کی وسیع پیمانے پر تزئین و آرائش بھی کرائی، متعدد فواروں اور مجسموں کی مرمت کی گئی، تاہم لنکن میموریل کے ریفلیکٹنگ پول کی ڈیڑھ کروڑ ڈالر لاگت سے ہونے والی بحالی کے منصوبے کو مختلف تکنیکی مسائل کا سامنا رہا۔
اس مقام پر اب سخت سیکیورٹی تعینات ہے جبکہ پانی میں کائی اور دیگر مسائل بھی برقرار ہیں۔














