امریکا کے یومِ آزادی پر سفید فام قوم پرستوں کی ریلیاں، ٹرمپ ایک بار پھر تنقید کی زد میں

اتوار 5 جولائی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

امریکا کے 250ویں یومِ آزادی کی تقریبات کے دوران سفید فام قوم پرست تنظیم ’پیٹریاٹ فرنٹ‘ کے سینکڑوں کارکنوں نے واشنگٹن ڈی سی اور گرد و نواح میں مارچ کیا، جس کے بعد انتہاپسندی اور نسل پرستی سے متعلق بحث ایک بار پھر شدت اختیار کر گئی۔ ناقدین نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر سفید فام قوم پرست گروہوں کی واضح اور دوٹوک مذمت نہ کرنے کا الزام بھی دہرایا۔

امریکا کے یومِ آزادی کی تقریبات کے موقع پر سفید فام قوم پرست تنظیم ’پیٹریاٹ فرنٹ‘ کے ارکان نے واشنگٹن ڈی سی اور اس سے ملحقہ علاقوں میں منظم مارچ کیے۔ مظاہرین نے سفید رنگ کے ماسک، خاکی رنگ کی ٹوپیاں اور پتلونیں جبکہ گہرے نیلے رنگ کی شرٹس پہن رکھی تھیں اور متعدد افراد امریکی پرچم کے ساتھ کنفیڈریٹ پرچم بھی اٹھائے ہوئے تھے، جسے ناقدین نسل پرستی اور غلامی کی علامت قرار دیتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:’امریکی شناخت ایک بار پھر حملوں کی زد میں ہے‘، امریکا کی 250ویں سالگرہ پر ٹرمپ کا خطاب

الجزیرہ کے مطابق تنظیم کے ٹیلی گرام چینل پر دعویٰ کیا گیا کہ ان مارچوں میں 400 سے زائد سفید فام قوم پرست شریک ہوئے۔ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیوز میں مظاہرین کو واشنگٹن میٹرو میں سفر کرتے اور بعد ازاں میری لینڈ کے علاقے نیو کیرولٹن سمیت مختلف مقامات پر ’ریکلیم امریکا‘ کے نعرے لگاتے ہوئے دیکھا گیا۔

امریکی ماہرین کے مطابق ’پیٹریاٹ فرنٹ‘ ایک فاشسٹ نظریات رکھنے والی تنظیم ہے، جس کا مقصد امریکا میں سفید فام نسل پر مبنی ریاست کا قیام ہے۔ یہ تنظیم 2017 میں ورجینیا کے شہر شارلٹس وِل میں ہونے والی متنازع ’یونائٹ دی رائٹ‘ ریلی کے بعد وجود میں آئی تھی، جہاں سفید فام بالادستی کے ایک حامی کی گاڑی سے ٹکرانے کے نتیجے میں ایک خاتون ہلاک ہو گئی تھی۔

رپورٹ کے مطابق ناقدین کا کہنا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے دونوں ادوارِ صدارت میں سفید فام قوم پرست گروہوں سے متعلق کبھی سخت مؤقف اختیار نہیں کیا، جس کے باعث ایسے عناصر کو حوصلہ ملا۔ ٹرمپ اس سے قبل بھی مختلف مواقع پر نسل پرستی اور متنازع بیانات کے الزامات کا سامنا کرتے رہے ہیں، تاہم وہ ان الزامات کی تردید کرتے آئے ہیں۔

دوسری جانب امریکی سینیٹر ایڈ مارکی سمیت متعدد سیاسی رہنماؤں نے ان مارچوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ امریکا کے دارالحکومت میں نفرت اور نسل پرستی کی کوئی گنجائش نہیں ہونی چاہیے۔ انہوں نے وفاقی حکام سے مطالبہ کیا کہ ایسے انتہا پسند گروہوں کے خلاف مؤثر کارروائی کی جائے تاکہ معاشرے میں رواداری اور مساوات کے اصولوں کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp