طالبان دہشتگرد گروہوں کی سرپرستی ترک کریں، ورنہ نائن الیون جیسے حملوں کا خطرہ برقرار رہے گا، سابق پاکستانی سفیر

اتوار 5 جولائی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

 

پاکستان کے سابق نمائندہ خصوصی برائے افغانستان آصف درانی نے خبردار کیا ہے کہ افغان طالبان کی جانب سے دہشتگرد تنظیموں کو مبینہ پناہ دینے کی پالیسی خطے اور دنیا کے لیے سنگین خطرات پیدا کر سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر یہ طرزِ عمل جاری رہا تو 11 ستمبر 2001 جیسے دہشت گرد حملوں کے خدشات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔

یہ بھی پڑھیں:طالبان کے منحرف کمانڈر کا بڑا اعتراف، افغانستان میں ٹی ٹی پی، بی ایل اے اور دیگر غیرملکی شدت پسند گروہوں کی موجودگی کی تصدیق

افغانستان انٹرنیشنل کے مطابق پاکستان کے سابق نمائندہ خصوصی برائے افغانستان آصف درانی نے اپنے ایک تحریری بیان میں کہا ہے کہ افغان طالبان کو یہ حقیقت تسلیم کرنی چاہیے کہ انہیں اب تک بین الاقوامی سطح پر قانونی حیثیت اور سفارتی قبولیت حاصل نہیں ہو سکی۔ ان کے مطابق طالبان کی جانب سے مختلف دہشتگرد تنظیموں کو مبینہ پناہ فراہم کرنا نہ صرف افغانستان بلکہ پورے خطے کے امن کے لیے خطرہ ہے۔

آصف درانی نے دعویٰ کیا کہ افغان طالبان پاکستانی طالبان (ٹی ٹی پی)، داعش اور بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) سمیت متعدد شدت پسند گروہوں کو پناہ دے رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ صورتحال خطے میں عدم استحکام کو مزید بڑھا سکتی ہے۔

پاکستان کے نمائندہ خصوصی برائے افغانستان آصف درانی

سابق پاکستانی سفیر نے یہ بھی الزام عائد کیا کہ ٹی ٹی پی اور بلوچ لبریشن آرمی کو مبینہ طور پر بھارت کی مالی معاونت حاصل ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ایسی پالیسیاں نہ صرف طالبان بلکہ نئی دہلی کے لیے بھی خطرناک ثابت ہو سکتی ہیں، کیونکہ تاریخ گواہ ہے کہ مسلح گروہوں کو بطور پراکسی استعمال کرنے والے بالآخر خود بھی ان کے نشانے پر آ جاتے ہیں۔

آصف درانی نے گزشتہ روز بھی افغانستان انٹرنیشنل سے گفتگو میں کہا تھا کہ جب تک افغان سرزمین سے پاکستان پر ٹی ٹی پی کے حملے جاری رہیں گے، پاکستان کی جانب سے افغانستان میں عسکری کارروائیاں بھی جاری رہیں گی۔ ان کے مطابق اسلام آباد اور افغان طالبان کے درمیان کشیدگی اس وقت تک ختم نہیں ہوگی جب تک پاکستان کو درپیش سیکیورٹی خطرات کا مؤثر خاتمہ نہیں کیا جاتا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp