پاکستان کے سابق نمائندہ خصوصی برائے افغانستان آصف درانی نے خبردار کیا ہے کہ افغان طالبان کی جانب سے دہشتگرد تنظیموں کو مبینہ پناہ دینے کی پالیسی خطے اور دنیا کے لیے سنگین خطرات پیدا کر سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر یہ طرزِ عمل جاری رہا تو 11 ستمبر 2001 جیسے دہشت گرد حملوں کے خدشات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
افغانستان انٹرنیشنل کے مطابق پاکستان کے سابق نمائندہ خصوصی برائے افغانستان آصف درانی نے اپنے ایک تحریری بیان میں کہا ہے کہ افغان طالبان کو یہ حقیقت تسلیم کرنی چاہیے کہ انہیں اب تک بین الاقوامی سطح پر قانونی حیثیت اور سفارتی قبولیت حاصل نہیں ہو سکی۔ ان کے مطابق طالبان کی جانب سے مختلف دہشتگرد تنظیموں کو مبینہ پناہ فراہم کرنا نہ صرف افغانستان بلکہ پورے خطے کے امن کے لیے خطرہ ہے۔
آصف درانی نے دعویٰ کیا کہ افغان طالبان پاکستانی طالبان (ٹی ٹی پی)، داعش اور بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) سمیت متعدد شدت پسند گروہوں کو پناہ دے رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ صورتحال خطے میں عدم استحکام کو مزید بڑھا سکتی ہے۔

سابق پاکستانی سفیر نے یہ بھی الزام عائد کیا کہ ٹی ٹی پی اور بلوچ لبریشن آرمی کو مبینہ طور پر بھارت کی مالی معاونت حاصل ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ایسی پالیسیاں نہ صرف طالبان بلکہ نئی دہلی کے لیے بھی خطرناک ثابت ہو سکتی ہیں، کیونکہ تاریخ گواہ ہے کہ مسلح گروہوں کو بطور پراکسی استعمال کرنے والے بالآخر خود بھی ان کے نشانے پر آ جاتے ہیں۔
آصف درانی نے گزشتہ روز بھی افغانستان انٹرنیشنل سے گفتگو میں کہا تھا کہ جب تک افغان سرزمین سے پاکستان پر ٹی ٹی پی کے حملے جاری رہیں گے، پاکستان کی جانب سے افغانستان میں عسکری کارروائیاں بھی جاری رہیں گی۔ ان کے مطابق اسلام آباد اور افغان طالبان کے درمیان کشیدگی اس وقت تک ختم نہیں ہوگی جب تک پاکستان کو درپیش سیکیورٹی خطرات کا مؤثر خاتمہ نہیں کیا جاتا۔














